راجوری //راجوری پولیس نے بدھل ترگائیںسے تعلق رکھنے والے پچیس سالہ فضل حسین کے خودکشی معاملے پر دفعہ 174کے تحت کارروائی کرنے کے بعد اب باضابطہ ایف آئی آر درج کرلیاہے جس میں دو مولویوں سمیت 6 افراد شامل ہیں ۔اس سلسلے میں اب تک تین افراد کو گرفتار کیاگیاہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ فضل حسین ولد محمد عبداللہ ساکن ترگائیں بدھل نے مقامی پنچایت کے فیصلے سے دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کرلی تھی اور اس اقدام سے قبل اپنے ایک صوتی پیغام میں کہاتھاکہ اسے جنسی زیادتی کا مجرم ٹھہراکرخاتون کا پیشاب پینے کی سزا دی گئی ہے جبکہ وہ بے گناہ ہے اور وہ یہ غیر اسلامی کام نہیں کرے گا۔پولیس کے ایک سینئر افسر نے ذرائع ابلاغ کو بتایاکہ فضل نے خودکشی سے قبل الزام لگایاتھاکہ اسے پنچایت نے خاتون کا پیشاب پینے کیلئے مجبور کیاہے اور ایک لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام لگایاگیاہے ۔ انہوںنے بتایاکہ تحقیقات سے معلوم ہواہے کہ پنچایت کی میٹنگ مولوی عبدالطیف ولد فیروز دین ساکن ڈھنڈوت بدھل کے گھر پر ہوئی تھی جس میں محمد رفیق ، محمد بشیر اور مولوی عبدالطیف جو تینوں بھائی ہیں کے علاوہ عبدالرشید ولد علی محمد ساکن بیلہ بدھل اور مولوی غلام رسول ولد عبداللہ ساکن ترگائیں بدھل نے بھی شرکت کی ۔انہوںنے مزید بتایاکہ محمد رفیق اس لڑکی کا باپ ہے جس کیساتھ فضل حسین پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیاگیاہے ۔پولیس افسر نے مزید بتایاکہ میٹنگ میں پنچایت نے یہ غیر انسانی فیصلہ کیاکہ فضل کو لڑکی کا پیشاب پیناہے ۔انہوںنے بتایاکہ پولیس تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس فیصلہ سے سخت مایوس اور دبائو کا شکار ہوکر فضل نے سخت ترین اقدام اٹھاتے ہوئے سمارٹ سر جھیل میں کود کر خودکشی کرلی ۔انہوںنے بتایاکہ اس سلسلے میں ایف آئی آر زیر نمبر54/2017زہر دفعہ 306آر پی سی کا کیس پولیس تھانہ بدھل میں درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی اور اب تک چھ افراد میںسے تین کو گرفتار کرلیاگیاہے جن میں مولوی عبدالطیف ولد فیروز دین اور مولوی غلام رسول ولد عبداللہ بھی شامل ہیںجبکہ دیگران کی گرفتاری کیلئے کوششیں جاری ہیں۔