مینڈھر//مرکزی حکومت نے پردھان منتری آواس یوجنا سکیم کے تحت بے گھر افراد کے لئے پکے مکانات کی تعمیر کا کام شروع کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ریاست جموں وکشمیر میں بھی مکانات تعمیر کرنے کا عمل شروع ہواہے تاہم ریاست میںہزاروں ایسے مستحق کنبے ہیں جن کو اس سکیم سے کوئی فائدہ نہیںدیاجارہا۔مینڈھر کے بھیرہ ڈھکی علاقے میں کئی کنبے ایسے ہیں جن کے مکانات کی حالت انتہائی خراب ہے اور وہ غریب گھرانوںسے تعلق رکھتے ہیں ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ سرکار کی طرف سے 2011میں جو سروے کروایاگیا ،اس میں کئی غریب کنبوں کے نام شامل نہیں کیاگیا اوربدقسمتی سے ایسے لوگوں کے نام بھی اس فہرست میں شامل نہیں ہیں جن کے پاس رہنے کو اپنے گھر نہیںیا گھروں کی حالت بہت ہی خراب ہے ۔ان کاکہناہے کہ ایسے لوگ اس سکیم سے فائدہ حاصل کرنے کیلئے دربدر بھٹک رہے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ محمد مشتاق، محمد فاروق اور شاہ محمد کا کہنا ہے کہ بھیرہ علاقے سے ان لوگوں کے نام لسٹوں میں رکھے گئے ہیں جن کے پاس پکے مکان ہیں یا وہ لوگ پہلے بھی بار محکمہ دیہی ترقی و پنچایتی راج کے تعاون سے مکان کا کام کروا چکے ہیں اور پھر دوبارہ انہی لوگوں کوفائدہ دیاجارہاہے ۔انہوںنے محکمہ کے ملازمین پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے ہی تیس ہزار روپے کمیشن لے لیتے ہیںاور چونکہ غریبوں کے پاس دینے کیلئے کچھ نہیںہوتا اس لئے ان کے نام ہی غائب کردیئے جاتے ہیں۔انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ ایک ٹیم علاقے میں روانہ کرکے اس بات کا معائنہ کرایاجائے کہ کیا وہ اس سکیم کیلئے مستحق ہیں یا نہیں اور جن لوگوں کو فائدہ دیاجارہاہے ان کیلئے کیا پیمانہ مقرر کیاگیاہے ۔انہوںنے کہاکہ اگر ان کے ساتھ انصاف نہیںہواتو وہ احتجاج کرنے کیلئے سڑکوں پر اتریںگے ۔رابطہ کرنے پر اے سی ڈی پونچھ نے بتایاکہ 2011میں محکمہ تعلیم کے ملازمین نے سروے کیا تھا اوراب وہ لسٹیں ان کے پاس آ چکی ہیں، اگر کسی کا نام نہیں آیا تو وہ اعتراضات پیش کر سکتا ہے اوراگر کسی پکے مکان والے کا نام فہرست میں ہے تو اسکو نکال دیا جائے گا جس کے بعد لسٹیں دوبارہ تیار کرکے دلی بھیجی جائیں گی ۔تاہم لوگوں کاکہناہے کہ محکمہ کی طرف سے نئی فہرستیں نہیں بنائی جارہی ۔