مینڈھر//ہندوستان اورپاکستان کے درمیان کشیدگی کے باعث پونچھ راولاکوٹ بس سروس بحال نہیں ہوئی ہے اور پچھلے ڈیڑھ ماہ سے بڑی تعداد میں مسافر درماندہ ہیں ۔پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے مسافروں کو ہر سوموار بس سروس بحال ہونے کا انتظار ہوتاہے لیکن اس انتظار کی گھڑیاں طویل ہوتی جارہی ہیں ۔ایک مسافر ماسٹر ذاکر حسین نے کہا کہ وہ لوگ بری طرح پھنس گئے ہیں ،اگر ہندوستان پاکستان کے درمیان کشیدگی تھی تو سزا انہیں کیوں دی جارہی ہے ۔ان کاکہناتھاکہ ایسے حالات میں انہیں سفر ہی نہیںکرنے دیناچاہئے تھا ،اگر انہیں سفر کیلئے اجازت دی گئی تو پھر اب واپسی کا راستہ بھی ملنا چاہئے ۔ان کاکہناہے کہ انہیں اپنے گھروں میں کئی طرح کے کام ہیں اورکئی لوگ ملازم ہیں جنہیں دفاتر جاناتھا لیکن وہ بھی درماندہ ہوکر رہ گئے ہیں۔ وہیں رضوانہ ریاض کاکہناہے کہ وہ ایک مہینے کے لئے اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کیلئے مینڈھر آئے تھے لیکن انہیں دو ماہ ہوگئے ہیںاور ہندوپاک کشیدگی گھر واپس جانے میں رکاوٹ بن رہی ہے ۔انہوںنے کہاکہ اگر انہیں یہ معلوم ہوتاکہ ایسے حالات کا سامنا کرناپڑے گاتو وہ پھر آتے ہی نہیں اور حالات ٹھیک ہونے تک کا انتظار کرتے ۔ان کاکہناہے کہ اگر انہیں یہاں بھیجاگیاہے تو اب واپسی کیلئے بھی اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ وہ گھر سے دور تو زیادہ دیر تک رہ نہیں سکتے ۔ان کاکہناہے کہ دونوں حکومتوں میں مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرناچاہئے اور جنگ و جدل سے سوائے آر پار ہلاکتوں کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔درماندہ مسافروں کاکہناہے کہ فوری طور پر پونچھ راولاکوٹ بس سروس کو بحال کرکے انہیں گھر واپس روانہ کیاجائے اور اسی طرح سے اُس پار پھنسے ہوئے مسافروںکو واپس بھیجاجائے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ پچھلے پانچ ہفتوںسے پونچھ راولاکوٹ کے راستے بس سروس اور تجارت معطل ہے جس کے نتیجہ میں سینکڑوں مسافر درماندہ ہیں جبکہ تجارتی تعطل سے لگ بھگ تیس کروڑ روپے کا نقصان ہواہے ۔