مینڈھر//بار ایسوسی ایشن مینڈھر کی ایک ہنگامی میٹنگ حاطہ عدالت مینڈھر میںزیر صدارت بشارت حسین خان صدر بار ایسو سی ایشن منعقد ہوئی ۔اس دوران بار نے روہنگیائی مسلمانوں کے خلاف ظلم و ستم کی مذمت کرتے ہوئے عالمی اداروں پر اسے رکوانے پر زور دیا۔انہوںنے کہاکہ آج کے اس مہذب دور میں انسانیت کے ساتھ ایسا مذاق نہیں کیاجاتااور عالمی برادری کا خاموش بیٹھ جانا قابل مذمت ہے ۔انہوںنے میانمار کی خاتون رہنما آنگ سانگ سوچی کو شدید تنقید کانشانہ بناتے ہوئے ان سے نوبل انعام واپس لینے کی اپیل کی اور کہاکہ پوری اسلامی دنیا بالخصوص اسلامی ممالک کو متفقہ قرار داد کے ذریعہ امن نوبل پرائز واپس کروائے جانے کی وکالت کرنی چاہیے۔ان کاکہناتھاکہ جو کچھ میانمار میں آئے دن ہو رہا ہے، وہ مسلمانوںکے تئیں نہایت ہی شر پسندانہ اور غیر انسانی حرکت ہے،ایک طرف دنیا مہذب ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے تو دوسری جانب میانمار کی صورت حال دور جہالت کی یاد دلاتی ہے۔انہوںنے کہاکہ اگر فی الفور ایسے انسانیت سوز اور شرپسندانہ اقدام کو روکا نہ گیا تو اس کے تناظر میں پورے بر صغیر میں حالات ابتر ہونے کا خدشہ ہے ۔بار ایسوسی ایشن نے ہند و پاک ممالک پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطہ کے اہم ممالک ہونے کے ناطے دونوں ممالک اس انسانیت سوز اور بربریت کو روکنے میں اہم رول ادا کریں۔انہوںنے کہاکہ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ حقوق انسانی کی تنظیمیں اور خصوصاً مغربی میڈیا ایسے موقعہ پر چپ سادھے ہوئے ہے اور اقوامی متحدہ بھی اس معاملہ پر خاموش تماشائی بنی ہے۔ وکلاء نے زور دیتے ہوئے کہا کہ روہنگیا کو حقوق شہریت سے محروم رکھنا غیر آئینی اور دوہرا معیار ہے۔اس موقعہ پر شوکت چوہدری، نائب صدر،شفیق احمد کھٹانہ سکریٹری ،ایڈووکیٹ شبنم،سردار شرافت خان ایڈووکیٹ،سردار شمیم احمد خان ایڈووکیٹ،سردار الیاس احمد خان، فرید چوہدری ایڈووکیٹ،طاہر اقبال ایڈووکیٹ، محمد بشارت ایڈووکیٹ، سردار جاوید خان ایڈووکیٹ،سجاد چوہدری ایڈووکیٹ،سردار وسیم احمد خان ایڈووکیٹ، غلام رسول چوہدری ایڈووکیٹ، ایڈووکیٹ مختار قریشی، علی سعید بیگ ایڈووکیٹ،محمد یوسف چوہدری ایڈووکیٹ وغیرہ بھی موجو دتھے ۔