پونچھ//سیڑی چوہانہ کی7ہزار آبادی کو طبی سہولیات فراہم کئے جانے کے لئے 13سال قبل سرکار کی جانب سے وہاں طبی مرکز(ڈسپنسری) قائم کیا گیا تھا جس میں پہلے پہلے تو مقامی لوگوں کو تھوڑا فائدہ پہنچایا گیا لیکن بعد میں وقت کے گزرنے کا ساتھ ساتھ یہ مرکزبرائے نام بن کر رہ گیااوراس دور دراز پنچایت کی عوام کو کوئی بھی طبی سہولت فراہم نہیں ہوئی۔ مقامی لوگوں کی جانب سے بار بار شکایات اور احتجاج کے بعد انتظامیہ کی جانب سے طبی مرکز میں کچھ حد تک سدھار لا کر لوگوں کوسہولیات فراہم کی جانے لگی تاہم یہ ڈسپنسری اب تک ایک نجی مکان میں قائم ہے ۔اگرچہ لوگوں کے مطالبہ کے بعد وہاں اس کے لئے عمارت بنانے کے ٹینڈر چار ماہ قبل ڈالے گئے لیکن ابھی تک تعمیراتی کام شروع نہیں کیاگیا۔ نیشنل پیس ڈیولپمنٹ وائس کے چیئرمین پرویز احمد نے کہا کہ سات ہزار آبادی نہایت ہی کسم پرسی کا شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ طبی سہولیات فراہم نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو دربدر کبھی پونچھ توکبھی سرنکوٹ جانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے وہا ں کی ڈسپنسری کی عمارت کے لئے چار ماہ قبل ٹینڈر نکالے گئے تھے لیکن جس ٹھیکیدار کو تعمیراتی کام سونپا گیا ہے،اس نے کام نہیں کیا ۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں سرکاری زمین سے ایک جگہ کی نشاندہی پہلے ہی انتظامیہ کی جانب سے کی جا چکی ہے جو پوری پنچایت کے لئے مناسب جگہ ہے اور سبھی لوگ آرام سے وہاں آ جاسکتے ہیں۔انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے اپیل کی کہ وہ ان کی پنچایت کو دورہ کر کے وہاں کا جائزہ لیں اور اس سلسلہ میں متعلقہ محکمہ کے افسران کو ہدایت کریں کہ وہ ڈسپنسری کی عمارت کی تعمیر اُسی سرکاری اراضی پر تعمیر کروائیںتاکہ لوگوں کو آسانی ہو۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کام نہ کرنے والے ٹھیکیدار کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ۔انہوںنے کہاکہ اگر حکام نے سنجیدگی سے کام نہ کیاتو وہ احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائیںگے ۔