عظمیٰ نیوز سروس
پونچھ//ضلع پونچھ میں منشیات کے خلاف جاری مہم کے تحت جموں و کشمیر پولیس نے ایک بڑی کارروائی انجام دیتے ہوئے مینڈھر کے ایک این ڈی پی ایس معاملے میں تقریباً 92 لاکھ 43 ہزار روپے مالیت کے غیر قانونی اثاثے ضبط کر لیے ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی ’نشہ مْکت جموں و کشمیر ابھیان‘ کے تحت منشیات کی اسمگلنگ اور نشہ آور اشیاء کے کاروبار کے خلاف جاری سخت کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔یہ کارروائی محمد تاج ولد محمد حسین سکنہ چک بنولہ، مینڈھر کے خلاف عمل میں لائی گئی، جو پولیس اسٹیشن مینڈھر میں درج ایف آئی آر نمبر 189/2022 میں ملوث ہے۔
مذکورہ مقدمہ این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8، 21 اور 22 کے تحت درج کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا کہ این ڈی پی ایس ایکٹ 1985 کی دفعہ 68-ایف کے تحت کارروائی کرتے ہوئے چک بنولہ، تحصیل مینڈھر میں واقع ایک تین منزلہ رہائشی مکان کو ضبط کیا گیا، جس کی مالیت تقریباً 82 لاکھ 43 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ملزم کے اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI) اکاؤنٹ میں موجود 10 لاکھ روپے کی رقم کو بھی منجمد کر دیا گیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ جائیداد اور مالی وسائل ملزم کی معلوم قانونی آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں۔ ابتدائی تفتیش میں یہ شبہ ظاہر کیا گیا کہ یہ اثاثے منشیات کی غیر قانونی تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذریعے بنائے گئے تھے۔ اسی بنیاد پر متعلقہ اثاثوں کو ضبط کرنے کی کارروائی انجام دی گئی۔پولیس نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ان جائیدادوں کی منتقلی، فروخت یا چھپانے کی کوششوں کو روکنا ہے تاکہ این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت مجاز اتھارٹی کے سامنے ضبطی کی آئندہ کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ضلع پولیس پونچھ نے اپنے بیان میں کہا کہ منشیات فروشوں اور ان کے مالی نیٹ ورک کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ منشیات کا کاروبار نہ صرف نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے بلکہ معاشرتی امن و امان کے لیے بھی سنگین چیلنج بنتا جا رہا ہے، جس کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔پولیس نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں میں منشیات فروشی یا نشہ آور سرگرمیوں سے متعلق کسی بھی اطلاع کو فوری طور پر پولیس تک پہنچائیں تاکہ سماج کو منشیات کی لعنت سے پاک بنایا جا سکے۔ پولیس کے مطابق عوامی تعاون کے بغیر ’نشہ مْکت جموں و کشمیر ابھیان‘ کو کامیاب بنانا ممکن نہیں اور مشترکہ کوششوں سے ہی نوجوان نسل کو محفوظ مستقبل فراہم کیا جا سکتا ہے۔