پونچھ //محرم الحرام کی ساتویں تاریخ کو حضرت قاسمؑ دلبند حضرت امام حسن علیہ السلام کی یاد میں پونچھ میں مختلف مقامات پر جلوس ہائے عزا ء بر آمد کئے گئے۔اس سلسلہ میں پونچھ کے صدر مقام پر انجمن جعفریہ پونچھ کی جانب سے تکیہ پہلوان شاہ سے جلوس عزاء بر آمد کیا گیا جس میں انجمن خدام الحسین منگناڑ، انجمن حسینی گلپور، انجمن کاظمیہ قصبہ بانڈی چچیاں کے علاوہ دیگر علاقوں کی انجمنوں کے ماتمی دستوں نے نوحہ و ماتم کر کے امام حسین ؑ کو خراج عقیدت پیش کیا۔یہ جلوس عزاء صدر بازار سے گزرتا ہوا امام بارگاہ عالیہ پونچھ میں اختتام پذیر ہوا جہاں عالم انسانیت کے لئے دعائیں طلب کی گئی۔اسی سلسلہ میں انجمن تنظیم المومنین منڈی کے زیر اہتمام امامیہ پارک منڈی سے جلوس برآمد کیا گیا جس میں انجمن گلشن حسین پلیرہ،انجمن راضائے آل محمد ساتھرہ کے علاوہ دیگر مقامی اور غیر مقام انجمنوں کے دستوں نے ماتم کر کے سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو امام عالی مقام اور دیگر شہدائے کربلا کا پرسہ دیا۔یہ جلوس عزا منڈی کے صدر بازر سے گزرتا ہوا امام بارگاہ عالیہ قدیم منڈی میں اختتام پذیر ہوا۔ایک اور جلوس عزا ء جامع مسجد موہری گورسائی سے عترت سوسائٹی کے زیر اہتمام برآمد کیا گیا جس میں میندھر اور سرنکوٹ کے دو دراز علاقہ جات کی تنظیموں کے درجنوں ماتمی دستوں نے حضرت قاسم علیہ السلام کی یاد میں گریہ و ماتم کیا ۔یہ جلوس عزا امام بارگاہ موہری گورسائی میں اختتام پذیر ہوا جہاں دعا و سلام کے بعد صدر عترت سوسائٹی سید عظمت حسین جعفری نے تمام شرکاء جلوس عزا کا شکریہ ادا کیا۔ دریں اثناء ضلع بھر میں مجالس کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔امام بارگاہ پونچھ میں چھٹی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا علی اصغر حیدری نے کہا کہ جب افق آسمان پر محرم کا چاند نمودار ہوتا ہے تو ہر جگہ ایک نام ابھرتا ہے وہ ہے نام حسینؑ ہے۔انہوں نے کہا کہ کربلا میںحسین ؑکے ساتھ بہتر حسین تھے جنہوں نے دین اسلام کو حیات جاویدانی بخشی۔ انہوں نے کہا کہ جس کے ذریعہ قانون الٰہی کی تکمیل ہوئی اس مصطفیٰ کے دوش پرحسین کا بیٹھنا کیا صبح قیامت تک عالم بشریت کے لئے مقام فکر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تکمیل نظام کا نام کربلا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اسلام کے قانون کو قانون حیات کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دین کے قوانین بنانے والا اللہ ہے ، مبلغ قانون اسلام سرکار دوعالم محمد مصطفی ؐہیں اور محافظ قانون اسلام علی علیہ السلام ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام نظام مصطفیٰ اس لئے ہے کہ اسلام محتاج ہے سیرت مصطفیؐ کا۔انہوں نے کہا کہ جو رسولؐ کہے وہ دین ہے اور جو رسول کرے وہ سیرت۔انہوں نے کہا کہ انسان جب تک اپنے اپنے دور کے یزید کو نہ پہچانے تب تک حسین کی کربلا سمجھ نہیں آئے گی۔