پونچھ // آل انڈیا علماء مشائخ بورڈکے ضلعی صدر وسربراہ اعلیٰ مدرسہ اشرفیہ نور الاسلام کھنیترمولانا حافظ محمد معشوق اشرفی کی قیادت میں ایک اجلاس منعقد کیا گیا ۔اس موقعہ پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے مدرسہ بورڈ کے قیام پر بیان کی سراہنا کی اور کہاکہ مدارس اسلامیہ میںپڑھنے والے بچوں کو دینی و دنیاوی دونوں تعلیم سیکھنے کا موقعہ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی دیگر ریاستو ں کی طرح ریاست میں بھی مدرسہ بورڈ کا قیام عمل میں لا یا جانا چاہئے تاکہ جموں و کشمیر کے ہزاروں بچے جو مدارس اسلامیہ میںتعلیم حاصل کرتے ہیں، وہ دینی تعلیم علوم قرآن اور علوم حدیث پڑھ کر ملت کی مذہبی نمائندگی کرتے ہیں ،کو ریاستی سرکار کی جانب سے بھی امداد ملے۔ انہوںنے کہا ریاستی مدرسہ کے بورڈ قائم کئے جانے کے سلسلہ میں علماء اہلسنت وجماعت نے ملکی و ریاستی سطح کے وزراء سے ملاقات بھی کی تھی اور وزراء نے یقین دہانی کی تھی لیکن حالات کے ساتھ علماء کرام کا یہ مطالبہ حکومت کی نظروں سے دور جاتا رہا۔انہوں نے کہا کہ اب پھر علماء کرام نے اس مطالبے کو دہرایا ہے ،اس سلسلے میں علماء کرا م کے وفود نے وزیراعلیٰ کے ساتھ بھی ملاقات جہاں انہوں نے یقین دہانی کی کہ وہ اس سلسلہ میں جلد کوئی فیصلہ کریں گی۔انہوں نے کہا کہ مدرسہ بورڈ دراصل مدارس اسلامیہ میںپڑھنے والے ہزاروں بچوں کامطالبہ ہے ۔انہوں نے ریاستی وزیر اعلیٰ سے مدرسہ بورڈ کے لئے جلدی احکامات جاری کر نے کی اپیل کی۔ ان کاکہناتھاکہ بورڈ جوکہ ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی قائم ہے ،اسی طرز پر ریاست میںبھی مدرسہ بورڈ قائم کیا جائے ، مدارس میں پڑھنے والے بچو ں میںصلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں جن صلاحیتوں کو نکھارنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔انہوںنے کہاکہ جہاں حکومت عصری علوم حاصل کرنے والے بچوں کے لئے لاکھوںکی تعداد میں فنڈز دیتی ہے وہیں افسوس کی بات ہے کہ مدارس کے بچوں کے لئے ایسا کچھ نہیں اورمدرسہ بورڈ کے مدارس کے بچوںکو خود مختاری حاصل ہوگی اور وہ ینورسٹیز اور کالجز میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میںکامیابی ملے گی۔