مینڈھر//مرکزی جامع مسجد مینڈھر میں شہداء کربلا کی سیرت طیبہ پر ایک بزم کا اہتمام کیا گیا جس میں تلاوت قران پاک نعتیں و منقبت اور خطاب کئے گئے ۔نماز ظہر کے بعد ایک جلوس نکالا گیا جو مینڈھر بازار کے مختلف حصوں سے ہوتا ہوا واپس جامع مسجد مینڈھر پہنچا ۔جلوس کی قیادت مرکزی جامع مسجد کے امام و خطیب مولانا محمد سلطان نقشبندی کر رہے تھے۔ جلوس میں بڑی تعداد میں لوگ شامل تھے جن سے مولانا نثار احمد راجوری ،مولانا محمد شریف سمبل مرادآ باد یوپی ،مولانا محمد بشیر، مولانا جاوید اقبال، حافظ ظہور احمد، حافظ اخلاق احمد ،مولانا شعیب اختر مصباحی اور ایڈووکیٹ چوہدری نذیر حسین نے خطاب کیا ۔اس موقعہ پر نظامت کے فرائض مولانا محمد یونس نے انجام دیئے ۔اس دوران جامع مسجد شریف المحسنین سنگالہ چوک مینڈھر میں تقریب منعقد ہوئی جس میں کافی تعداد میں عوام مینڈھر نے شرکت کی ۔اس موقعہ پر علمائے کرام نے فلسفائے شہادت امام عاملی مقام پر قرآن و حدیث اور تاریخ کے حوالوں سے خطاب کیا ۔انتظامیہ کمیٹی کی طرف سے ہر طرح سے اعلی انتظامات کئے ہوے تھے ۔اس مجلس کو خطاب کرتے ہوئے جماعت اہل سنت کے خطیب مولانا عبد الرشید نے کہا کہ صحابہ اور اہل بیت دونوں ہی سے مخبت کا نام ایمان ہے اورکسی ایک سے بھی نفرت اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ مولانا نے کہا کہ امام حسین نے اپنے گھر خاندان اور جان کی قربانی دے کر یہ پیغام دیا کہ اسلام کے قانون میں تبدیلی کسی طور پر اور کسی زمانے میں برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس دوران مولانا محمد مشتاق خطیب دربار چھوٹے شاہ نے خاندان مصطفی کی عظمت بیان کی۔ مولانا اعجاز قادری خطیب جامع مسجد نے عوام کا شکریہ ادا کیا ۔آخر میں ملک و ملت کے لئے دعائیںکی گئیں ۔وہیں کالی کٹ کے علمائے کرام کا ایک قافلہ بھی پروگرام میں شریک ہوا جو آج کل ریاست کے دورے پر ہے ۔