مینڈھر//بالاکوٹ تحصیل کے سرحدی علاقوں میں بسنے والے لوگ ہندوپاک کشیدگی کی وجہ سے بری طرح سے پریشان ہیں۔ سابقہ سرپنچ شادم خان، نمبردار فیض محمد خان اورمحمد فاضل خان نے کہا کہ فصلیں تباہ و برباد ہو چکی ہیں اور مرکزی اور ریاستی سرکار خاموش تماشائی بن کر بیٹھی ہے۔ان کاکہناتھاکہ سرحدی علاقہ میں بسنے والے لوگوں کو چھ مہینے کا مفت راشن فراہم کیا جائے کیونکہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی وجہ سے فصلیں کسی کام نہیں رہیں۔انہوںنے کہاکہ لوگ گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور ہو رہے ہیں اور نہ ہی لوگوں کو مزدور مل رہے ہیںکہ فصلوں کی کٹائی کرائی جاسکے ، خاص طور پر تار بندی کے اندر رہنے والے لوگ زمینداری نہیں کر سکتے اور نہ ہی کوئی مزدور وہاں جانے کو تیار ہے ۔انہوں نے مرکزی و ریاستی سرکار سے اپیل کی کہ فوری طور پاکستانی حکومت سے بات کرکے جنگ بندی معاہدے پر عمل کیاجائے اور لوگوں کو مزید نقصان سے دوچار نہ کیاجائے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت تک سرکار کی طرف سے پختہ بنکر بنانے کی بھی کوئی تجویز نہیں جبکہ ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ نے یقین دہانی کروائی تھی کہ بہت جلد بالاکوٹ میں دس بنکر وں کی تعمیرکاکام شروع کردیاجائے گا۔انہوںنے کہاکہ ان کے جان و مال کے بارے میں کچھ سوچاجائے اور باربار کی پریشانیوںسے نجات دلائی جائے ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ وہ سرحدی کشیدگی کی وجہ سے باربار اجڑتے اور بار بار بستے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ حکومتیں وعدے تو کرتی ہیں لیکن ان پر عمل نہیں کیاجاتا۔انہوںنے کہاکہ پچھلے کئی مہینوںسے کبھی حالات ٹھیک رہتے ہیں توکبھی خراب اور ایسے حالات کی وجہ سے وہ فصلوں کی دیکھ بھال اور اب کٹائی بھی نہیں کرپارہے ہیں ۔انہوںنے مانگ کی کہ حکومت ان کے ان مسائل کا کوئی مستقل حل ڈھونڈے ۔