منڈی// حد متارکہ پر واقع علاقے ساوجیاں کے لوگوں نے اپنے مسائل کی خاطر تحصیل کمپلیکس کے سامنے منڈی پل کو بند کر کے مسلسل چھ گھنٹے تک دھرنا دیا ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ساوجیاںکے سکولوں میں تعلیم کا نظام ہی خراب ہے اوراساتذہ کی غیر قانونی طور پر اٹیچ منٹ کی گئی ہے جس سے طلباء کی تعلیم پر اثر پڑرہاہے ۔ انہوںنے کہاکہ پانی اور بجلی کی سپلائی کاحال بھی براہے ۔مظاہرین نے الزام لگایاکہ سولر لائٹوں کی تقسیم میںہیرا پھیری کی گئی ہے جبکہ بی پی ایل زمرہ کے لوگوں کو اے پی ایل میں شامل رکھاگیاہے اور راشن بھی وقت پر نہیں ملتا۔انہوں نے کہا کہ وہ بارہا متعلقہ افسران سے شکایت کرچکے ہیں لیکن انہیں ٹس سے مس نہیں اوراس حوالے سے کوئی اقدام نہیں کیاجاتا۔احتجاج کو دیکھتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنربشارت انقلابی موقعہ پر پہنچے اور انہوںنے مظاہرین کو یقین دلایاکہ وہ جاتے ہی ان کے مسائل ڈپٹی کمشنر کو پیش کریںگے تاکہ جلد از جلدان کے مطالبات کا حل ممکن ہوسکے۔موصوف کی یقین دہانی پر چھ گھنٹے بعد ہڑتال ختم کر دی گئی۔اس دوران ان کے ہمراہ تحصیلدار منڈی عبدالقیوم خان، نائب تحصیلدار منڈی عابد حسین ،انسپکٹر سمیر ،مولوی فرید ملک، عبدالاحد بٹ، فاروق خان وغیرہ بھی تھے ۔ہڑتال کی وجہ سے عام راہگیروں کومشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ لورن ساجیاں سے پونچھ جانے والی گاڑیاں سڑک بند رہنے کے باعث درماندہ رہیںاور پولیس کو ڈیڑھ کلومیٹر دور ہی گاڑیوں کو روکناپڑا۔احتجاج کی وجہ سے بزرگ عورتیں ،مریض اور بچے بھی پریشان نظر آئے اور انہوںنے الزام لگایاکہ پولیس نے ڈیڑھ کلو میٹر دور گاڑیاں رکواکر ان کے ساتھ زیادتی کی ۔