پونچھ// آل انڈیا سُنی یوتھ وِنگ جموں و کشمیر کی پونچھ اکائی کا ایک اجلاس تنظیم کے صوبائی صدر اعجاز احمد مدنی کی قیادت میں منعقد ہوا۔ یہاں جاری بیان کے مطابق اجلاس کے دوران مُلک و ریاست میں انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کی بڑھ رہی اشتعال انگیز اور شدت پسندانہ سرگرمیوں پر گہری تشویش ظاہر کی گئی۔ شُرکا نے چند روز قبل ڈگری کالج گرائونڈ پونچھ میں پستولوں، بندوقوں اور تلواروں سے لیس آر ۔ایس۔ایس کے کارکنان کی ریلی پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایسی ریلیوں کا انعقاد آئینِ ہِند کے سراسرخلاف ہے کیوں کہ بھارت ایک جمہوری اور سیکولر سٹیٹ ہے اور اس مُلک میں اس طرح کی غُنڈہ گردی اور شر پسندی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ شُرکا ء نے کہا کہ اگر سرکاری اعلیٰ تعلیمی ادارہ کے گرائونڈمیں آر۔ایس۔ایس کی جانب سے کُھلے عام ہتھیاروں کی نمائش کے بعد انتظامیہ کی جانب سے اُن پر کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی تو مستقبل میں اس کے کافی سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ آئین نے تمام مذاہب کے لوگوں کو یہ حق دیا ہے کہ وہ قانونی دائرہ میں رہ کر کوئی بھی تحریک چلا سکتے ہیں لیکن ایسی کسی بھی تحریک کی مُلکی قانون میں کوئی جگہ نہیں ہے کہ جس کے شدت پسند حکومتی اداروں کو استعمال میں لاکر اور ہتھیاروں سے لیس ہوکر مُلکی اقلیتوں کے دِلوں میں خوف و ہراس پیدا کریں۔ شُرکا اجلاس نے ریاستی حکومت سے پُر زور مطالبہ کیا ہے کہ ایسی انتہاپسند تنظیموں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ اقلیتوں کے ذہن میں اس سے پیدا ہوئے خدشات کو دُور اور اُن کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے ۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت ایک طرف تو نوجوان نسل کو نشہ اور دہشت گردی سے دُور رکھنے کی بات کرتی ہے جو قابلِ تحسین ہے لیکن وہیں دوسری طرف مُلک کو آر۔ایس۔ایس جیسی تنظیموں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اقلیتوں میں خوف ہ ہراس پیدا کر رہی ہے جو قابلِ مذمت ہے۔ تنظیم کے صوبائی صدر اعجاز احمد مدنی نے مرکزی وزیر گری راج سنگھ کے اُس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ خواجہ کا ہندوستان کہنے والے پاکستان چلے گئے ہیں ،اب یہ دیش بھارت ماتا کا ہیـ۔ مدنی نے کہا کہ خواجہ کا ہندوستان کہنے والے تقسیم ِ مُلک کے وقت خواجہ صاحب کے ساتھ اسی مُلک میں رُک گئے تھے کیوں کہ وہ محبت اور مساوات کا درس دینے والے صوفی بُزرگ تھے ۔ اُنہوں نے کہا کہ 1947 میں مُلک کی تقسیم او ر عوامی قتل عام ایسی ہی تنظیموں اور ایسی سوچ رکھنے والے سیاست دانوں کی دین ہے ورنہ صوفی سنتوں کا دیش متحد ہندوستان آج بِلا شُبہ عالمی طاقت بن کر اُبھرا ہوتا۔ موصوف نے کہا کہ خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمہ وہ شخصیت ہیں کہ جنہوں نے ہندوستان میں صوفیت کی بُنیاد ڈال کر مُختلف المذاہب کے عوام میں اخوت و اخلاق اورمساوات کی تعلیم عام کی جس کی بُنیاد پر اُن کے عقیدت مندوں نے اُنہیں خواجہ مہاراجہ کہہ کر پُکارا۔ مدنی نے کہا کہ اسی لئے ہندوستان میں ووٹوں کی بُنیاد پر اگرچہ حکومت کسی کی ہو لیکن لوگوں کے دلوں پر حکومت خواجہ پِیا کی ہی رہے گی۔ کُرسی پر کوئی بھی بیٹھے ہندوستان کے راجہ تو خواجہ ہی کہلائیں گے۔