راجوری //جسمانی طور پر ناخیز ہونے کے باوجود بھی گورنمنٹ ڈگری کالج راجوری میں زیر تعلیم 18سالہ محمد رفیع اپنے خوابوں کی تعبیر کیلئے محنت سے کام کررہاہے اوراس کا مقصد ایڈمنسٹریٹو افسر بنناہے ۔محمد رفیع کا تعلق کالاکوٹ کے کھادریاں علاقے سے ہے جو اس وقت کالج یونین کا نائب صدر بھی ہے ۔رفیع اس وقت بی ایس سی تیسرے سمسٹر میں زیر تعلیم ہے۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے رفیع نے کہاکہ اس کی ٹانگوں کا نچلا حصہ کام نہیں کرتا اوراسے اپنے ہاتھوں اور بازوئوں کے سہارے چلناپڑتاہے ۔اس کاکہناہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود اس نے تعلیم کو ذریعہ بناکر آگے بڑھنے کا فیصلہ لیاہے اوروہ سمجھتاہے کہ جسمانی طورپر ناخیز افراد بھی زندگی میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں ۔اس کاکہناہے کہ وہ جسمانی طور پر تندرست طلباء کی طرح روزانہ سکول آتاہے اور اس کا ریکارڈ واضح ہے ۔محمد رفیق کاکہناہے ’’میں بچپن سے ہی ریگولر طالبعلم رہاہوں اورکبھی اپنی جسمانی صحت کو مقصد میںرکاوٹ نہیں بننے دیا ،میں کالاکوٹ کے ایک دورافتادہ علاقے سے تعلق رکھتاہوں اور اس وقت کالج کے ہوسٹل میں قیام پذیر ہوں ‘‘۔جب اس سے اپنے مقصد کے بارے میں پوچھاگیاتواس کاکہناتھاکہ وہ سرکاری سیکٹر میں ایڈمنسٹریٹر افسر بنناچاہتاہے تاکہ اپنے لوگوں کی خدمت کرسکے ۔طلباء قیادت پر بات کرتے ہوئے اس نے کہاکہ وہ اس وقت یونین کا نائب صدر ہے اور طلباء کی طرف سے اسے بھرپور تعاون ملتاہے ۔مقامی لوگوں نے ریاستی و مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کے جسمانی طور پر معذور افراد کیلئے کوئی جامع پالیسی بنائے تاکہ ان کی مناسب مدد ہوسکے ۔