مینڈھر//منکوٹ تحصیل کی پنچایت ساگرہ کے لوگوں نے محکمہ دیہی ترقی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب بھی پنچایت کے الیکشن نزدیک آتے ہیں یا سرکار کی طرف سے الیکشن کروانے کا اعلان ہوتا ہے تو محکمہ کے ملازمین ان کی پنچایت کو کبھی اس کوریزرو کھاتے میں لاتے ہیں تو کبھی اوپن کھاتے میں ۔سابق سرپنچ آفتاب خان،محمد خان ملک، نور محمد ملک اور مہراب خان نے بتایا کہ پنچایت میں1260 ووٹ بغیر ایس ٹی کے ہیں جبکہ ایک ہزار ووٹ ایس ٹی سے تعلق رکھتا ہے اور کبھی پنچایت کو ریزرو کھاتے میں ووٹ بڑھا کرلایا جاتا ہے اور کبھی ریزرو کھاتے سے باہر نکال لیاجاتاہے ۔ان کاکہناتھاکہ اسی طرح وارڈوں میں بھی ہیرا پھیری کی جا رہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ وارڈ نمبر چھ سے کچھ ووٹ نکال کر وارڈ نمبر پانچ میں لگائے جا رہے ہیں جو سراسر نا انصافی ہے۔ان کاکہناہے کہ اگر پنچایت کے ساتھ نا انصافی کی گئی تو متعلقہ بی ڈی او منکوٹ کے ساتھ ساتھ لیڈران بھی ذمہ وار ہوں گے اور پنچایت کے لوگ احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائیںگے ۔انہوںنے کہا کہ سابق بی ڈی او نے کسی بھی پنچایت کے ساتھ ہیرا پھیری نہیں کی تاہم ان کے تبادلے کے بعد نئے بی ڈی او نے پنچایتوں کے ساتھ آتے ہی چھیڑ چھاڑ کرنا شروع کر دی ۔انہوںنے الزام لگایاکہ مہاتماگاندھی نریگا کے کام بھی صحیح ڈھنگ سے نہیں ہورہے اور مخصوص لوگوں کوفائدہ دیاجارہاہے جبکہ جو پلان پنچایت میں بیٹھ کر بنایا جاتا ہے، کو محکمہ کے ملازمین پھاڑ کر دوسرا پلان تیار کر دیتے ہیںاور اس طرح سے گرام سبھا کے اصول کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں ۔انہوںنے کہا کہ گزشتہ دنوں محکمہ کے وزیر نے مینڈھر میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پلان لوگوں کے بیچ بیٹھ کر بنایا جائے گا لیکن زمینی سطح پر ایسا کچھ نہیں ہو رہا ۔انہوںنے مزید کہاکہ 14FCکے پلان کے ساتھ بھی ہیر اپھیری کی جا رہی ہے اوراگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو محکمہ کے ملازمین کوبھگتنا مشکل ہوجائے گا۔انہوںنے متعلقہ وزیر سے اپیل کی کہ بلاک سطح پر مداخلت کرکے متعلقہ بی ڈی او کو ہدایت دی جائے کہ لوگوں کے کہنے کے مطابق پلان تیار کیا جائے اورپنچایتوں میں ہونے والی ہیراپھیری کے سلسلے کو بند کیاجائے ۔انہوںنے کہاکہ اگر ان کے مسائل حل نہ ہوئے تو بڑے پیمانے پر احتجاج کیاجائے گا۔اس سلسلہ میں جب اے سی ڈی پونچھ سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اورکسی بھی پنچایت کے ساتھ اب چھیڑ چھاڑ نہیں ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو پلان پنچایتی سطح پر بن کر آئے گا وہی دوبارہ لوگوں کے بیچ میں جائے گا۔