راجوری //اس بات کا انکشاف ہواہے کہ راجوری میں چالیس کروڑ روپے مالیت کی چھپن کنال اور ایک مرلہ اراضی کی ہیئت غیر قانونی طور پر تبدیل کردی گئی ہے اور یہ اراضی اہم مقامات پر واقع ہے جس کے حصول کیلئے عمل شروع کردیاگیاہے اور ساتھ ہی تحقیقات کا آغاز بھی کیاگیاہے ۔اس سلسلے میں ضلع ویجی لینس افسر اور محکمہ مال و محکمہ پولیس کی ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو جامع تحقیقات کرکے کروڑوں روپے مالیت والی اس اراضی کی حیثیت کو تبدیل کرنے میں کچھ افسران اور مستفید ہونے والوں کے رول کی جانچ کرے گی ۔افسران کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں اس بات کا فیصلہ لیاگیاکہ اس اراضی کو واپس لیاجائے گا جسے بس اڈہ اور پارکنگ کیلئے استعمال کیاجائے گا۔وہیں ایک ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جموں و کشمیر سٹیٹ لینڈ س ایکٹ اور قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کئی لوگوںکو مالکانہ حقوق دیئے گئے ہیں اوراس کی خاطر ریکارڈ میں ہیرا پھیری کی گئی ہے ۔یہ معاملہ تب سامنے آیاہے جب شہر میں سڑکوں اور پارکنگ کیلئے جگہ کی نشاندہی کا عمل شروع کیاگیا ۔ اس دوران اس اراضی کے کاغذات کی جانچ کی گئی اور یہ پایاگیاکہ نجی طور پر لوگوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے افسران نے بے ضابطگیاں کی ہیں ۔انتظامیہ کے مطابق چار مختلف کیسوں کی جانچ کی گئی جن کی اراضی چونتیس مختلف خسرہ نمبرات اور 89کنال اور تین مرلہ اراضی پر مشتمل ہے جس میںسے پایاگیاکہ چالیس کروڑ روپے مالیت کی 56کنال اور ایک مرلہ سرکاری اراضی کے ریکارڈ میں کئی سال قبل ہیرا پھیری کی گئی ہے اور غیر قانونی طور پر اس کی حیثیت بدل دی گئی ہے جس سے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچاہے ۔ڈپٹی کمشنر راجوری کی ہدایت پر تشکیل دی گئی محکمہ مال کے افسران پر مشتمل ٹیم نے اپنی جامع رپورٹ معہ دستاویز تیار کی ہے جس میں یہ بھی سامنے آیاہے کہ کچھ افسران نے بھی بے ضابطگیاں کی ہیں ۔کچھ معاملات میں زرعی اور آبپاشی والی اراضی کو بھی روشنی ایکٹ کے تحت الاٹ کرکے مالکانہ حقوق دیئے گئے ہیں اور اس طرح سے محکمہ آبپاشی کے افسران بھی سکینر تلے ہیں اور ان کے رول کی تحقیقات بھی کی جارہی ہے ۔ایک اور مجرمانہ عمل میں سرکاری زمین کو اوقاف کمیٹی کے ماتحت اراضی دکھاکر بعد میں اسے کچھ لوگوں کو الاٹ کردیاگیاہے اور یہ سب کام غیر قانونی طور پر ہواہے ۔ اس سلسلے میں محکمہ اوقاف کا ریکارڈ میں کہیں کوئی ذکر نہیں جس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ کچھ افسران نے اس اندراج کو صرف اس لئے استعمال کیاتاکہ سرکاری اراضی کو پرائیوٹ طور پر الاٹ کیاجاسکے ۔اسی طرح سے چار کنال اور نومرلہ سرکاری اراضی کو روشنی ایکٹ کے تحت الاٹ کیاگیاہے اور یہ عمل بغیر گردواری کے ہواہے اور قوانین کی بھی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں ۔اس کے ساتھ غیر قانونی ڈھانچے کھڑے کئے گئے ہیں جن کے بارے میں متعلقہ افسران نے کوئی ذکر نہیں کیا جو غیر قانونی کام کرنے والوں کو مدد فراہم کرنے کے مترادف ہے ۔ایسے افسران سے کہاگیاہے کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کریں ۔ اس پورے معاملے کی تحقیقات ضلع ویجی لینس افسر کی قیادت والی ایک کمیٹی کرے گی جو افسران اور دیگر لوگوں کے ملوث ہونے ، غیر قانونی طور پر مالکانہ حقوق دینے ، سرکاری اراضی پر ناجائز طور پر قبضہ کرنے اور محکمہ مال کے ریکارڈ میں ہیرا پھیری کرنے کے معاملات کی تحقیقات ہوگی ۔یہ کمیٹی محکمہ مال کے دو افسران ، دو پولیس افسران اور ضلع سٹیٹکس و ایوالویشن افسر پر مشتمل ہے ۔ اس کمیٹی کو اپنی رپورٹ پیش کرنے کیلئے ایک مہینے کا وقت دیاگیاہے ۔دریں اثناء ضلع انتظامیہ نے اس بات کی تجویز دی ہے کہ پچپن کنال سے زائد سرکاری اراضی پر نارتھرن ایریا بس اڈہ اوردو ہزار گاڑیوں کیلئے تین مختلف جگہوں پر پارکنگ زون کا قیام عمل میں لایاجائے گا۔