جموں// جموں وکشمیر ہائی کورٹ جموںونگ کے جسٹس جنک راج کوتوال نے رہبر تعلیم ٹیچر کو ملازمت سے فارغ کرنے سے متعلق حکمنامہ پر حکم امتناع جاری کردیاہے ۔نسیم اختر زوجہ غلام حسین ساکن کوٹ تھنہ منڈی جو مڈل سکول کوٹ کنڈیاں زون تھنہ منڈی میں تعینات ہے ،کو ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں کی ہدایت پر چیف ایجوکیشن افسر راجوری نے ملازمت سے فارغ کردیاتھا کہ اس نے رہبر تعلیم ملازمت جعلی سکونتی اسناد کی بناپر حاصل کی ہے جس سرٹیفکیٹ کو بعد میں ڈپٹی کمشنر راجوری نے منسوخ کردیاتھا ۔تمام تر دلائل سننے کے بعد جسٹس جنک راج کوتوال نے یہ پایاگیاکہ پیغام زیر نمبر DSEJ/Legal/32665-66بتاریخ 27.09.2017سے یہ شواہد ملتے ہیں کہ نسیم اختر کی سکونتی سند اس بناپر منسوخ کی گئی کیونکہ اس نے تعیناتی کے وقت جو سند پیش کی تھی اس کے مطابق وہ موہڑہ کنڈیاں کی سکونتی تھی جبکہ بعد میں یہ پایاگیاکہ یہ گائوں مختلف موہڑہ جات سے مل کرنہیں بنتا اوراس نے جعلی طور پر تیار کردہ سند پیش کی ہے ۔جسٹس جنک راج نے مزید پایاکہ یہ وضاحت کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر یہ گائوں مختلف موہڑہ جات سے مل کرنہیں بناتو تعیناتی گائوں کی بنیاد پر ہونی چاہئے لیکن اس کیس میں ایسا نہیں کیاگیا۔دونوں طرف کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد جسٹس جنک راج کوتوال نے کمشنر سیکریٹری محکمہ تعلیم ، ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں ، ڈائریکٹر سکول آف ایجوکیشن کے پرسنل سیکشن ، چیف ایجوکیشن افسر راجوری ، زونل ایجوکیشن افسر تھنہ منڈی اور وحید الرحمن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید حکمنامہ تک حکم امتناعی جاری کردیاہے ۔