جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی اور ہند-فلسطین دوستی کمیٹی نے نئی دہلی میں امریکی سفارتخانہ کے سامنے زبردست مظاہرہ کیا اور امریکی صدر کے ذریعہ یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرنے کے اعلان کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔پروفیسر بھیم سنگھ نے کہا کہ امریکی صدر کا یہ فیصلہ قرارداد نمبر 242 (1967) اور قرارداد نمبر338 (1973) میں دی گئی ہدایات کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر181کی قانونی حییثیت پر پہلی کتاب لکھی تھی، جسے 1968 میں بیروت کے پی ایل او نے شائع کیا تھا۔پروفیسر بھیم سنگھ 1968 سے 2004 تک فلسطینی ہیرو اور پی ایل او کے بانی یاسر عرفات کے قریبی دوست رہے ہیں۔ پروفیسر بھیم سنگھ نے نیشنل پنتھرس پارٹی اور ہند۔فلسطین فرینڈشپ سوسائٹی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کی مذمت کی اور امریکی صدر پر زور دیا کہ وہ یروشلم میں امریکی سفارتخانہ قائم کرنے کا اپنا فیصلہ واپس لیں جو عالمی امن کے لئے خطرہ ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کے اراکین ممالک سے اپیل کی کہ وہ اس معاملہ کو بلاتاخیر سلامتی کونسل میں لیکر جائیں ۔انہوں نے اعلان کیا کہ ہند ۔فلسطینی فرینڈشپ سوسائٹی اور نیشنل پنتھرس پارٹی صدر امریکہ کے یروشلم میں امریکی سفارتخانہ قائم کرنے کے فیصلہ کے خلاف ہیگ کی بین الاقوامی عدالت جائیں گی ۔ انہوں نے کہاکہ یروشلم اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 181کے تحت فلسطین کی زمین ہے جسے 1947میں اقوام متحدہ نے دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا ۔ انہوں نے حکومت ہندسے بھی اس معاملہ کو بین الاقوامی امن اور سیکورٹی کی خاطر بلاتاخیر اقوام متحدہ لے جانے ی اپیل کی ۔امریکہ کے خلاف اس مظاہر ہ میں، جس کی قیادت پروفیسر بھیم سنگھ کررہے تھے ، شامل ہونے والوں میں دہلی پردیش کے صدر راجیو جولی کھوسلہ، سینئر نائب صدر رومیش کھجوریا، محفوظ خان، دلدار حسین بیگ، سنیتا چودھری، انل شرما، محترمہ سدیش ڈوگرہ، سورن سنگھ یادو، رینا سنگھ ، زینت آرا ، جگموہن پاسوان اور دیگر شامل تھے۔ان سب لوگوں کو چانکیہ پوری پولیس نے تقریبا دو گھنٹہ تک اپنی حراست میں رکھنے کے بعد رہا کردیا۔