کٹھوعہ//موسم سرماکی پہلی برفباری کے ساتھ ہی حسن سے مالامال قدرتی وسائل بنی وادی کی اونچی اونچی پہاڑیوں نے سفیدچادراوڑھ لی ہے تووہیں بنی کی بے حد خوبصورت اورقدرتی سے مالامال سرتھل ضلع کٹھوعہ سے فقط پانچ گھنٹوں کی مسافت پرواقع سرتھل قدرتی حسن سے مالامال خوبصورت ترین سیاحتی مقامات حکومت کی عدم توجہی کاشکار ہے اوربھی دیگرکئی سڑکوں کی خستہ حالت اوررہائشی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے سیاح ان علاقوں کارخ کرنے سے کتراتے ہیں ،ڈھگر ڈوگن،سرتھل،بنی سمیت دیگر درجنوں ایسے قدرتی وسائل سے مالامال مقامات موجود ہیں جنھیں سیاحتی مقامات کے طورپرمتعارف کروایاجاسکتاہے لیکن سڑکیں نہ ہونے کے باعث یہ مقامات حکومت کی عدم توجہی کاشکارہونے کی وجہ سے یہاں پرسیاح نہیں آتے ہیں۔سیاحت کیلئے دلچسپ سیاحتی مقامات موجودہیں جوابھی تک حکومت عوام اوربطور خاص میڈیا کی نظروں سے اوجھل ہیں۔حسین ترین سیاحتی مقامات جن کارخ کرنے والے سیاح علاقے کے لوگوں کی مہمان نوازی اورقدرت کے شاہکاردیکھ کردنگ رہ جاتے ہیں۔ان مقاما ت پرپہنچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ سڑکوں کی خستہ حالی اورسرکاری طورپررہائشی سہولیات اورسڑکوں کافقدان ہے ۔سڑکوں کی خراب حالت کی وجہ سے کئی حادثات بھی یہاں پیش آتے ہیں اورساتھ ہی ساتھ علاقے میں بسنے والے لوگ پرامن ،خوش اخلاق اورمہمان نوازی میں اپناثانی نہیں رکھتے ۔اورعوام کاکہناہے کہ برف کالطف اٹھانے کیلئے دوسرے کسی مقامات کارخ کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اگربنی ویلی میں سیاحت کوفروغ دینے کیلئے سڑکوں کی تعمیراوررہائشی سہولیات کی فراہمی پرتوجہ دی جائے تونہ صرف حکومت کوکروڑوں روپے سالانہ کی آمدن ہوگی بلکہ علاقے کے لوگوں کوباعزت روزگاربھی میسرآئے گا۔ عرصہ درازسے مشکل ترین حالات میں زندگی بسرکرنے والے لوگوں نے حکومت اوروزیرسیاحت سے مطالبہ کیاکہ قدرتی حسن سے مالامال علاقوں کاایک مرتبہ دورہ کریں شایداسی طرح اس علاقے کی تقدیربدل جائے گی۔