جموں/ سپیکر جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کویندر گپتا نے آج نیشنل ہائی وے کے متعلقہ حکام کو گریٹر کیلاش ، کنجوانی ، سینک کالونی چوک کے اہم فلائی اوور پروجیکٹوں کی منظوری کیلئے ضروری اقدامات اٹھانے کیلئے کہا تا کہ ان مجوزہ پروجیکٹوں پر فوری طور کام شروع کیا جا سکے ۔ سپیکر نے اس کا اظہار آج وجے پور سے سدھڑا تک جموں نیشنل ہائی وے کے پٹھان کوٹ حصہ پر مختلف مجوزہ سہولیات کی فراہمی کا جائیزہ لینے کیلئے طلب کی گئی میٹنگ میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ تکمیل کے بعد اس پروجیکٹ سے ملحقہ علاقوں کے لوگوں کو ٹریفک کے دباؤ سے راحت ملے گی ۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر این ایچ اے آئی نے سپیکر کو ان پروجیکٹوں کے مجوزہ منصوبوں کے بارے میں تفصیل دی ۔ انہوں نے کہا کہ بڑی براہمناں میں سڈکو جنکشن پر چار رویہ فلائی اوور اور گریٹر کیلاش جنکشن دوم جو کہ جموں بائی پاس پر ہے کے علاوہ کنجوانی جنکشن پر بھی دو رویہ فلائی اوور چودھری پیلس سے وشال میگا مارٹ تک تعمیر کرنے کی تجویز ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کالو چک ، ملک مارکیٹ ، نزدیک مسجد ، چیچی ماتا مندر پر فُٹ برج کی تعمیر کے منصوبے کے علاوہ وجے پور میں دریائے دیوک پر دو رویہ پُل کی تعمیر کا منصوبہ بھی زیر غور ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کنجوانی سے نروال تک نالیوں کی تجدید و مرمت اور قاسم نگر ، نروال چوک ، ویو مال جنکشن اور چھنی ہمت جنکشن ، نزدیک جموں دربار ریسٹورنٹ کی تجدید و مرمت کا بھی منصوبہ زیر تجویز ہے ۔ میٹنگ میں مزید بتایا گیا کہ نروال سے سدھڑا تک ڈھلوانوں کے تحفظ کے کاموں کا بھی منصوبہ زیر تجویز ہے اس کے علاوہ وجے پور سے سدھڑا تک سڑک کے حصے پر روڈ سیفٹی کاموں کی تعمیر کی بھی تجویز ہے ۔ میٹنگ میں مزید بتایا گیا کہ وجے پور سے کنجوانی اور جموں بائی پاس سیکشن سے کنجوانی سے سدھڑا تک سڑکوں کی تجدید و مرمت کے کام بھی ہاتھ میں لئے جا رہے ہیں ۔ سپیکر نے امید ظاہر کی کہ حکومت ہند ان پروجیکٹوں کیلئے 380 کروڑ روپے کومنظوری دینے کیلئے ہر ممکن قدم اٹھائے گی تا کہ مجوزی جنکشنوں پر ٹریفک کے دباؤ کا مسئلہ حل ہو سکے ۔ میٹنگ میں انجینئر پی آئی یو این ایچ اے آئی ، پرائیویٹ سیکرٹری اسمبلی کے علاوہ این ایچ اے آئی اور اسمبلی سیکرٹریٹ کے اعلیٰ افسران موجود تھے ۔