جموں //بجلی شعبہ میں فنڈس واگزار ہونے کے باوجود سپلائی میں بہتری نہ آنے ، بجلی پروجیکٹوں کی واپسی پر کوئی پیش رفت نہ ہونے اور بڑے مگر مچھوں سے بجلی فیس وصول نہ کرنے کے معاملے کو لیکر قانون ساز اسمبلی میں ممبران نے بجلی کے وزیر ونائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ کو دبے لفظوں میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بجلی شعبہ میں بہتری لانے کا مطالبہ کیا ۔قانون ساز اسمبلی میں بجلی کے وزیر ڈاکٹر نرمل سنگھ نے مطالبات زر ایوان میں پیش کئے تھے جس پر ممبران نے بحث میں حصہ لیا ۔ممبر اسمبلی خانیار علی محمد ساگر نے کہا کہ لوگوں سے وعدے کئے گئے تھے کہ این ایچ پی سی بجلی پروجیکٹ واپس لائے جائیں گے لیکن اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اندھیرے میں نہیں رکھنا چاہئے ۔ساگر نے کہا کہ ایجنڈا آف الائنس پر کیا ہوا کیا نہیں سرکار کو اس پر دھیان دینے کے بجائے لوگوں کو معقول بجلی فراہم کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے چا ہیں ۔اس دوران ممبر اسمبلی رفیع آباد یاور دلاور میر نے کہا کہ غریب لوگوں سے بجلی فیس لی جاتی ہے اور بڑے بڑے مگر مچھوں کی طرف بڑے پیمانے پر بجلی بلیں واجب الادا ہیں وہ نہیں حاصل کی جا رہی ہیں ۔انہوں نے نائب وزیر اعلیٰ سے کہا کہ وہ اب اُن سے یہ نہیں سننا چاہتے ہیں کہ پروجیکٹوں کے متعلق Mouدستخط ہوئے ہیں یا نہیں بلکہ انہیں،ٹنڈر نکالے گے ہیں یا نہیں بلکہ انہیں یہ بتائیں کہ کام کب مکمل ہو گا ۔ حکیم محمد یاسین نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا ہم یہ سنتے آر ہے ہیں کہ پیسہ واگزار ہوا ہے ہو رہا ہے لیکن عملی طور پر اس سلسلے میں کوئی کام نہیں ہو رہا ۔انہوں نے مانگ کی کہ پریم منسٹر ڈولپمنٹ فنڈس سے مزید ایک کروڑ کی رقم فراہم کی جائے تاکہ اسمبلی حلقوں میں بجلی کے ترسیلی نظام میں بہتری آسکے ۔محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ آر اے پی ڈی آر پی ،دین دیال اور دیگر سکیموں کے تحت اگر پیسہ آیا ہے تو اُس کو کیوں خرچ نہیں کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر کب اُس پیسے کو خرچ کیا جائے گا ۔انہوں نے سرکار سے محاطب ہو کر کہا کہ کیا آپ اگلے انتخابات میں یہ ہی اندھیرا لیکر لوگوں کے پاس جائیں گے ۔ممبر اسمبلی میاں الطاف کنگن میاں الطاف احمد نے پاور جرنیشن کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ سرکار جرنیشن کے بڑھائوے کے حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بجلی نیٹ ورک ٹھیک نہیں ہے اور محکمہ دین دیال سکیم کے تحت ہداف کو مکمل کرنے میں بھی مکمل طور پر ناکام ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بجلی ٹرانسفامروں کی مرمت میں تاخیر ہو رہی ہے اور بجلی ٹرانسفامر کئی کئی دنوں تک پڑے رہتے ہیں اور اُن کو ٹھیک نہیں کیا جاتا ۔ممبر اسمبلی پلوامہ محمد خلیل بند نے کہا کہ بجلی نظام میں سدھار لانے کیلئے ابھی تک کوئی بھی اقدمات نہیں ہوئے ہیں اور وادی کے تمام اسمبلی حلقوں میں بجلی نظام بد سے بتر ہے ۔