جموں//ریاستی سرکار نے کہا ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کے فیس ڈھانچہ کو منظم کرنے اورفیس ڈھانچہ متعین کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور بہت جلد اس کو قانون سازی کے دائرے میں لایا جائے گا ۔اسی طرح جموں وکشمیر ریاست میں طالب علم اور استاد کا تناسب1:20اوسطاً سے بھی کم ہے۔ قانون ساز کونسل میں شہناز گنائی کے ایک سوال کے تحریری جواب میں وزیر تعلیم الطاف بخاری نے بتایاحکومت نے پچھلے 2 برسوں کے دوران رمسا اور ایس ایس اے کے تحت کوئی بھی اسکول اپ گریڈ نہیں کیاہے البتہ آئی سی ٹی اسکیم کے تحت آئی سی ٹی لیبارٹریاں اور سمارٹ کلاس رومز قائم کئے گئے ہیں۔ وزیر نے تحری جواب میں بتایا ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کے فیس ڈھانچہ کو منظم کرنے اور’پرائیویٹ سکولوں کو منافع بخش وتجارتی‘بنانے پر روک لگانے کیلئے عدالت عظمیٰ کی ہدایات کے مطابق محکمہ تعلیم نے نجی تعلیمی اداروں کے فیس ڈھانچہ متعین کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور کمیٹی کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ حکیم امتیاز حسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام نجی تعلیمی اداروں کے فیس ڈھانچہ میں شفافیت لانے کیلئے ایک قانون لایاجارہاہے جس کا مسعودہ تیار کیاجاچکا ہے اور جلد اس کو ریاستی قانون سازیہ میں لاکر عملی شکل دی جائے گی۔انہوں نے استاد اور طالب علم کے درمیان تناسب کے حوالے سے ا عدادوشمار پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ لہہ ضلع میں سب سے کم 1:7 اور پلوامہ میں سب سے زیادہ 1:54استاد طالبعلم تناسب ہے۔انہوں نے بتایا کہ بانڈی پورہ میں1:21 اور رام بن ضلع میں1:20، ریاسی اور سانبہ اضلاع میں1:16ٹیچرسٹوڈنٹ تناسب ہے۔ اسی طرح جموں اور کپواڑہ میں15طلبہ کیلئے اوسطاًایک ٹیچر ہے۔اودھم پور، ڈوڈہ، کشتواڑ، راجوری اور پونچھ اضلاع میں 14طلبہ کو پڑھانے کیلئے اوسطاًایک استاد ہے۔اسی طرح اننت ناگ ، بڈگام اور کلگام اضلاع میں 13طلبہ پر ایک ٹیچر ہے۔ بارہمولہ میں1:10، گاندربل اور کرگل اضلاع میں 1:10ٹیچرسٹوڈنٹ تناسب ہے۔ گرمائی راجدھانی سرینگرشہر میں 9طلبہ کو پڑھانے پر اوسطاً1ٹیچرمامور ہے۔