نئی دہلی //وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ مفاد خصوصی رکھنے والے عناصر کشمیر میں ملی ٹینسی کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں جب کہ کشمیری نوجوان آگے بڑھنے کے خواہاں ہیں۔ "Jammu & Kashmir – A Cultural Prism"کے عنوان سے منعقدہ سہ روزہ تعلیمی و ثقافتی تقریب کے افتتاحی خطبہ کے دوران انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ’نام نہاد تحریک آزادی کو سرحد پار سے سپانسر کیا جا رہا ہے لیکن باعث تشویش یہ بات ہے کہ صرف علاحدگی پسند ہی نہیں بلکہ کچھ نام نہاد مین سٹریم سیاسی جماعتیں بھی وادی میں ملی ٹینسی کو جاری رکھنا چاہتی ہیں تا کہ ان کے سیاسی مفادات کی آبیاری ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں ایسے سیاسی لیڈربھی ہیں جنہوں نے بندوق کے سائے میں انتہائی کم شرح پولنگ کی بدولت الیکشن جیتے ہیں ، وہ نہیں چاہتے ہیں کہ حالات ٹھیک ہو جائیں اور انہیں سیاسی حریفوں کا سامنا کرنا پڑے۔ وزیر موصوف کا کہنا تھا کہ نئی نسل کے کشمیری نوجوان اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہو چکے ہیں کہ انہیں کچھ مفاد خصوصی رکھنے والے افراد کی طرف سے یرغمال بنا دیا گیا ہے ، اسی کا نتیجہ ہے کہ اب یہ نوجوان آگے بڑھنے کے ہر موقع سے استفادہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2017میں وادی کے ملی ٹینسی متاثرہ علاقوں کے 20نوجوان آئی آئی ٹی اور جے ای ای میں کامیاب ہوئے تو پچھلے دو برس کید وران آئی اے ایس کی میرٹ لسٹ میں کشمیری نوجوانوں نے جگہ بنائی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیرکا ثقافتی ورثہ بہت ہی عظیم ہے جس میں مختلف فرقوں اور طبقوں کا حصہ شامل ہے ۔ انہوں نے کشمیری پنڈت طبقہ کے نواجونوں کو زندگی کے ہر شعبہ میں آگے بڑھنے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وادی کے دیگر طبقہ جات بھی اب ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سماج میں اپنا مقام بنانے کی جد و جہد کر رہے ہیں ۔ اس موقعہ پر انہوں نے ڈاکٹر اودھے ککرو کی تحریر کردہ کتاب کا "Connect With Sharda" بھی اجراء کیا۔