جموں //سنجواں حملہ کے بعد جموں شہر اور گردونواح میں مقیم بے گھر روہنگیامہاجرین کیلئے حالات مزید مشکل ہوگئے ہیں اور ان کے خلاف ایک منظم طریقہ سے مہم چلائی جارہی ہے ۔روہنگیامسلمانوں کے خلاف پہلے بھی جموں میں مہم شروع کی گئی لیکن سنجواں حملہ کے بعد اس میں مزید شدت آگئی ہے اور دایاں بازو کی جماعتوں کی طرف سے یہ مطالبہ کیاجارہاہے کہ انہیں جموں بدر کیاجائے ۔ان کے خلاف سنجواں ، نڑوال بالا ، بٹھنڈی ، چوہادی اور گاندھی نگر وغیرہ علاقوں کی دیواروں پر تنبیہ کن پیغامات درج کئے گئے ہیں ۔ان دیواروں پر ’جموں چھوڑ دو ‘ ،’واپس جائو ‘، ’اہالیان جموں جاگ جائو ‘،’روہنگیا کو تحفظ مت دو ‘اور ’بھارت ماتا کی جئے ہو ‘جیسے درج کئے گئے ہیں ۔کئی تنظیمیں اس سلسلے میں احتجاج بھی کررہی ہیں ۔حال ہی میں ہوئے بجٹ اجلاس کے دوران حکومت نے اس بات کا اعتراف کیاکہ جموں کشمیر میں 13ہزار 433برمی اور تبتن رہ رہے ہیں ۔تاہم حکومت نے یہ واضح کیاکہ کوئی بھی برمی ملی ٹینسی سے جڑے معاملات میں ملوث نہیں پایاگیا لیکن منشیات ، چوری اور دیگر معاملات میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئے ہیں ۔پنتھرز پارٹی کے سربراہ بھیم سنگھ اس بات کا مطالبہ کررہے ہیں کہ جموں میونسپل حدود میں غیر ملکیوں کے غیر قانونی طور پر قیام پر اعلیٰ سطحی تحقیقات کروائی جائے ۔پنتھر ز پارٹی پچھلے کئی عرصہ سے برمی مہاجرین کے خلاف مہم چلارہی ہے جبکہ جموں چیمبر آف کامرس و انڈسٹری نے ’شناخت کرو اور ماردو ‘کی دھمکی تک دی تھی ۔