جموں//اگرچہ ریاست جموں وکشمیرمیں ریاستی خواتین کمیشن، پولیس کاوومن سیل اورمتعددغیرسرکاری سماجی تنظیمیں خواتین کے تحفظ کیلئے کام کرنے کابلندبانگ دعویٰ کرتی ہیں تاہم موجودہ حالات ظاہرکرتے ہیں کہ جموں وکشمیرمیں خواتین کے تحفظ اورتکریم کے سلسلے میں نہ ہی حکومتی سطح اورنہ ہی سماجی سطح پرمکمل طورپرذمہ داریوں کی ادائیگی ہورہی ہے بلکہ آئے روز خواتین پرمظالم کے نت نئے معاملات منظرعام پرآرہے ہیں ۔اسی طرزکاایک واقعہ بلاورکے مانڈلی گائوں میں پیش آیاجہاں ایک بھدرواہ سے تعلق رکھنے والی خاتون پرسسرال والوں نے تشددکیاجس کی اس کاایک ٹخنہ فریکچرہے ۔بقول خاتون اس واقعہ کے بارے میں پولیس تھانہ بلاورمیں معاملہ درج کرنے کیلئے فریادکی گئی ہے لیکن تاحال اس تعلق سے ایف آئی آر درج نہ کی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق طاہرہ بانودخترمرحوم گُل محمد کی شادی سال 1998میں مانڈلی بلاورکے سیف الدین کے ساتھ ہوئی تھی لیکن شادی کے بعداسے جہیزکم لانے کے سبب ہراساں کیاجاتارہا۔طاہرہ بانو نے نمائندہ کوبتایاکہ 2016میں دیورکے ساتھ ہوئے کسی معاملے کے سلسلے میں 3فروری 2018کواسے بلاورکورٹ میں پیش ہوناتھالیکن انہوں نے کہاکہ میں عارضی طورپراپنے بچوں کے ساتھ بٹھنڈی میں رہنے آئی تھی ،مجھے ساس اورسیف الدین (خاوند)کے چچانے اسے بلاورمانڈلی ،سسرال میں بلایااورکہاکہ آپ کاسمجھوتہ کروایاجائے گالیکن وہاں جب وہ پہنچتی تووہاں اس کاخاوندنہیں تھا،پھراسے گھرکے اندرباندھ کرتشددکانشانہ بناتے ہوئے سسرال والوں نے اس کاایک ٹخنہ توڑدیا۔طاہرہ بانونے مزیدکہاکہ اس نے پولیس تھانہ بلاورمیں بھی ایف آئی آردرج کرنے کی اپیل کی لیکن اس کی ایک بھی نہ سنی گئی ،جس کے بعدوومن سیل گاندھی نگرسے بھی رابطہ کیاگیالیکن وہاں سے بھی کوئی مددنہ ملی ۔اس کے بعدمجھے میرے بچوں نے جموں میڈیکل کالج میں داخل کروایاہے۔اس سلسلے میں جب خاتون مذکورہ کے خاوندسے بات کی تو میری بیوی نے ہمیں تنگ کررکھاہے ۔اس کے ساتھ رہنے سے موت بہترہے۔انہوں نے کہاکہ 3فروری کووہ مانڈلی آئی تھی ،اس وقت میں گھرمیں نہیں تھا۔یہ پوچھے جانے پرکہ اس کے ٹخنہ کیسے ٹوٹاتواس نے کہاکہ مجھے اس بارے میں معلوم نہیں کیونکہ میں اس وقت گھرمیں نہیں تھامجھے نہیں پتہ کہ یہاں پرکیاہوا ۔انہوں نے کہاکہ وہ ہمارے خلاف کبھی تھانوں میں جاتی ہے کبھی کورٹوں میں۔ہم اس سے بہت تنگ آئے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اپنے ساتھ ساتھ اس نے بچوں کامستقبل بھی خطرے میں ڈالاہواہے۔اس ضمن میں جب ایس ایچ او بلاورسے بات کی توانہوں نے کہاکہ ہمارے علاقے میں اس عورت کے ساتھ مارپیٹ نہیں ہوئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ خاتون کودماغی فرق ہے اوروہ جموں رہتی ہے وہیں پرکوئی واقعہ ہواہوگا،یہاںپرنہیں ہواہے اس لیے تھانے میں رپورٹ درج نہیں کی ہے۔