جموں//مجلس علماء و ائمہ و اہلیان بٹھنڈی اور دیگر معزز حضرات کی مساعی جمیلہ اور مبارک کوششوں کے بدولت عالم اسلام کی مایہ ناز شخصیت محسن قوم و ملت اور عالم اسلام کے عظیم داعی و مبلغ مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی ندوی دو روزہ جموں کے دورے پر تشریف لائے تھے اور حضرت کی اس مبارک تشریف آوری کے موقعہ پر مجلس علماء و ائمہ کی جانب سے چار پروگرام ترتیب دیئے گئے تھے، جن میں سب سے پہلا پروگرام17فروری جامعتہ الصالحات عائشہ نگر بٹھنڈی میں خواتین کیلئے منعقد کیا گیا تھا جس میں مفتی عنایت اللہ امام و خطیب جامع مسجد کھٹیکاں تالاب اور مولانا ارشد ندوی کے پر مغز اصلاحی خطاب ہوئے اور پھر آخر میں مہمان خصوصی اثر انگیز دعا پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔17فروری کی شام کو بعد نماز مغرب دوسرا پروگرام علماء و ائمہ کو ان کی زؤدینی ذمہ داریوں اور فراٗض منصبی سے آگاہ کرنے کیلئے جامعہ روضتہ الطیبات فرقان آبادبٹھنڈی میں طے پایا تھا،جس میں ضلع جموں اور ریاست کے دیگر اضلاع سے علماء و ائمہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت فرمائی اور حضرت مہمان خصوصی نے اس مجلس میں علماء امت کو ان کی ذمہ داریوں اور دور ِ حاضر کے تقاضوں سے روشناس کرایا اور پھر آخر میں حضرت کی دعا پر ہی یہ مجلس اختتام پذیر ہوئی۔اسی طرح سے تیسرا پروگرام18فروری بروزِ اتوار کو جامعہ مرکزالمعارف کے احاطہ دارالسنہ میں صفا ویلی کے سامنے منعقد ہونا طے پایا تھااور یہ پروگرام گیارہ بجے سے دو بجے تک جاری رہاجس میں عوام کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت فرمائی، جن کی تعدد تقریباً پندرہ سے بیس ہزار کے درمیان تھی اور اس پروگرام میں ہر طرح کے مسالک و مشارب سے تعلق رکھنے والے حضرات نے شرکت فرمائی اور اس پروگرام میں مہمان مولانانے ایک گھنٹہ سے زائد روحانی اور ایمانی خطاب فرمایا اور اپنے اس خطاب میں مولانانے مسلمانوں سے خصوصی ہدایت فرائیں کہ وہ اپنے اخلاق و اعمال کو درست فرمائیں اور پوری انسانیت کے ساتھ خیر خواہی اور محبت و ہمدردی کا معاملہ فرمائیں اور آپسی دوریوں و نفرتوں کو مٹا کر تمام انسانیت کے مظلوموں اور بے کسوں، غریبوں اور لاچاروں کی مدد فرمائیں۔18فروری کی شام ہی کو آخری مجلس چھنی چیرٹیبل ٹرسٹ میں منعقد ہوئی جس میں غیر مسلم حضرات اور سکھ برادری کے علاوہ دوسرے زعمائے قوم کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور اس میں بھی مولانا خلیل الرحمن نے یہی پیغام دیا تھا کہ بغیر تفریق دین و مذہب جہاں کہیں بھی مظلوموں اور پسماندہ طبقات پر ظلم اور زیادتی ہورہی ہے ان کی مدد کیلئے تمام انسان ایک ہو کر محض انسانیت کیلئے کام کرنے والے بنیں۔مولانا موصوف نے اس مبارک دورے پر 22فروری بروز ِ جمعرات دوپہر بارہ بجے علماء وائمہ جموں ، سانبہ، کھٹوعہ اور ادھم پور کے حضرات کو مدعوکیا گیا تھا جن کے تعاون اور کوششوں سے یہ تمام پروگرام بحسن ِ و خوبی اختتام پذیر ہوئے اور خصوصاً جامعہ مرکز المعارف کے گراونڈ میں منعقد شدہ پروگرام اور اس کے تمام انتظامات جن کی شب و روز کوششوں اور محنت سے طے پائے اور یہ پروگرام احسن طریقے سے اختتام تک پہنچا۔ ان تمام حضرات کا شکریہ ادا کیا گیا اور جن سرکاری محکموں اور آفیسران نے اس سلسلہ میں اپنا تعاون پیش کیا اُن کا بھی شکریہ بہ شکل ملاقات طے ہونا پایا۔نیز جو کمی اور کوتاہیاں اس پروگرام میں رہیں آئندہ پروگرام کیلئے ان کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کا وعدہ بھی فرمایا اور مجموعی طور ان تمام حضرات نے پروگرام کے عمدہ انتظامات کو سراہا بھی اور تمام منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔