جموں//حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان خلیج ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید وسیع ہوتی جا رہی ہے، بالخصوص ہیرانگر میں 8سالہ آصفہ بانو کی آبر و ریزی اور قتل کے معاملہ پر دونوں جماعتیں ایک سمت میں نہیں چل پا رہی ہیں۔ جمعہ کے روز پی ڈی پی کے قد آور لیڈر اور کونل ممبر فردوس احمد ٹاک نے سوشل میڈیا کا سہارہ لے کر بی جے پی کے طرز فکر کو مسلم مخالف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ زعفرانی جماعت جموں کے مسلمانوں کو نظر انداز کر کے اکثریتی سوچ کو تھوپنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ فیس بک اور ٹویٹر پر انہوں نے خانہ بدوشوں کوغیر ضروری استحصال سے بچانے کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات پر جموں کے نام نہاد لیڈروں کی طرف سے نکتہ چینی اور اس کے بعد آصفہ قتل معاملہ کی کرائم برانچ کی طرف سے کی جا رہی تحقیقات کو سیاسی رنگ دئیے جانے پر شدید برہمی ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ جموں کو ’ہندو جموں ‘ کے طور پر پیش کئے جانے کی سوچ انتہائی افسوسناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ’ مسلم طبقہ کو بھی اس خطہ میں برابر کے حقوق حاصل ہیں ، وہ دوسرے درجہ کے شہری نہیں ہیں‘۔ بی جے پی پر عوامی اور آئینی فتویٰ کے ساتھ کھلواڑ کا الزام لگاتے ہوئے فردوس ٹاک نے کہا ہے کہ بھاجپا ممبران اسمبلی کو ہر طبقہ اور فرقہ کے ووٹ ملے تھے ۔ انہوں نے کہا جموں میں اقلیتوں کو پشت بہ دیوار کرنے کا یہ سلسلہ نیا نہیں ہے ، بی جے پی بھی کانگریس کے نقش قدم پر چل رہی ہے کہ اکثریتی طبقہ کی خوشنودی حاصل کی جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ دایاں بازوں جماعت کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ان کا پیر پنچال سے ایک مسلم امیدوار کامیاب ہوا ہے تو وادی چناب کے 4بھاجپا امیدواروں کی جیت میں مسلمانوں کا کردار اہم رہا ہے ۔ رابطہ قائم کرنے پر اپنے بلاگ کی وضاحت دیتے ہوئے ایم ایل سی موصوف نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بی جے پی ایک جمہوری طور منتخب حکومت کا حصہ ہے اور سماج کے تمام طبقوں کے مفادات کی حفاظت کرنا اس پر فرض ہے ۔لیکن یوں لگتا ہے کہ بی جے پی ابھی اس بات کو سمجھ نہیں پائی ہے کہ وہ صرف ہندو توا کے نام پر ووٹ مانگنے والی ایک دایاں بازو کی جماعت ہی نہیں ہے اور صرف جموں ضلع کی نمائندگی نہیں کرتی بلکہ پوری ریاست بالخصوص پورے جموں خطہ کی بھی نمائندہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست جماعتوں کے دبائو میں آکر 8سالہ آصفہ کے قتل اور دست درازی معاملہ کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپنے کا مطالبہ لے کر وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرنے والے بھاجپا وزراء کے چہرے شرم سے جھک جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ’آج سیاسی مخالفین بھی اقتصادی، ترقیاتی اور سماجی محاذ پر کئے گئے بے مثال کام کیلئے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی ستائش کرنے پر مجبور ہیں لیکن سرکار میں ہمارے اتحادی، جنہیں جموں خطہ کے بیشتر حصہ کا منڈیٹ ملا ہوا ہے ، صرف جموں شہر اور گرد و نواح کے چند فرقہ پرست عناصر کے دبائو میں آگئے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ پی ڈی پی کونسل ممبر نے بی جے پی پر اس طرح کھل کر تنقید کی ہے ۔شوپیاں ہلاکتوں پر میجر آدتیہ کے خلاف دائر معاملہ پر سپریم کورٹ کی طرف سے روک لگائے جانے کے بعد فردوس ٹاک ، جو کہ ایک وکیل بھی ہیں ، نے ٹویٹر پر لکھا تھا کہ ’علاحدگی پسند صرف پاکستان کی مانگ کرتے ہیں لیکن آپ بی جے پی لیڈران نے اسے بنا بھی دیا ہے ، ایک ایسا ملک جہاں فوج کے پاس مارنے کا لائسنس ہو اور سیاسی اداروں کو اجتماعی ضمیر کے نام پر دبایا جارہا ہو۔ فوج اور سپریم کورٹ کو پولیس کے فرائض سے لے کر سوچھ بھارت کرنے دیجئے‘۔تاہم ان کے اس ٹویٹ کی بھاری نکتہ چینی بھی ہوئی ۔