بلا شبہ ہر شخص اپنی سمجھ اور حالات کے مطابق کامیابی کی ایک تصویر بناتا ہے اور ساری عمر اسی تصویر کو حقیقت بنانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ کوئی دولت کو کامیابی سمجھتا ہے، کوئی شہرت کو، کوئی اعلیٰ عہدے اور اختیار کواور کوئی علم و مہارت کو اپنی معراج خیال کرتا ہے۔ لیکن اگر گہرائی سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کامیابیاں عارضی اور ناپائیدار ہیں۔ وقت کا ایک جھونکا آتا ہے اور سب کچھ بدل جاتا ہے۔ اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام انسان کو ایک بلند تر اور ابدی معیار عطا کرتا ہےاور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول۔کیونکہ اللہ کی رضا سب سے بڑی نعمت ہےاور جس شخص سے اللہ راضی ہو جائے تواُس کے لئےدنیا کی ہر چیز ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ہم اس بات سے انکار نہیں کرسکتے کہ دولت آج کسی کے پاس ہے تو کل کسی اور کے پاس ہو سکتی ہے، صحت اور جوانی ہمیشہ قائم نہیں رہتیں،جبکہ اقتدار ایک آنی جانی چیز ہے اور شہرت کا سورج بھی ایک دن غروب ہو جاتا ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بڑے بڑے بادشاہ اور حکمران، جن کے نام سے لوگ کانپتے تھے، آج ماضی کا قصہ بن چکے ہیں، ان کی شان و شوکت باقی نہیں رہی، صرف عبرت کی داستانیں رہ گئی ہیں۔ ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ اس کائنات کے سبھی عجائبات اللہ تعالیٰ کی طرف سےہیں اور ان میں انسانوں کے لئے بصیرتیں ہیں۔اس لئےہر حال میں جو شخص اپنی زندگی کے تمام معاملات میںا للہ سے راضی رہتا ہےتو یہ اس بات کی نشانی ہوتی ہے کہ اللہ بھی اُسے راضی ہے۔لیکن اللہ کو راضی کرنا محض ظاہری عبادات کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل طرزِ حیات ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج یقیناً رضائے الٰہی کے بنیادی ذرائع ہیں، لیکن ان کی اصل روح اخلاص اور تقویٰ میں پوشیدہ ہے۔ اگر عبادت میں دکھاوا شامل ہو جائے تو وہ اپنی تاثیر کھو دیتی ہے، لیکن اگر نیت خالص ہو تو معمولی سا عمل بھی عظیم بن جاتا ہے۔ ایک مسکراہٹ، ایک سچی نصیحت، کسی ضرورت مند کی خاموش مدد یا کسی کو معاف کر دینا ـ یہ سب ایسے اعمال ہیں جو اللہ کی رضا کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔رضا میںانسان کے روزمرہ معاملات بھی شامل ہیں۔ سچ بولنا، وعدہ پورا کرنا، امانت میں خیانت نہ کرنا، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، پڑوسیوں کا خیال رکھنا اور معاشرے میں انصاف قائم رکھنا ـ یہ سب اعمال ِ رضائے الٰہی کی راہیں ہیں۔ظاہر ہے کہ زندگی آزمائشوں سے بھرپور ہے۔ کبھی بیماری، کبھی مالی مشکلات، کبھی ناکامی اور کبھی رشتوں کی تلخیاں انسان کو پریشان کر دیتی ہیں، ایسے مواقع پر اصل کامیابی صبر اور اللہ پر بھروسہ ہے۔ جو شخص مشکل حالات میں بھی اللہ کی حکمت پر یقین رکھتا ہے اور شکوہ کرنے کے بجائے دعا اور استغفار کا راستہ اپناتا ہے، وہ دراصل کامیابی کی طرف قدم بڑھا رہا ہوتا ہے۔ صبر اور شکر وہ اوصاف ہیں جو بندے کو اپنے ربّ کے قریب کر دیتے ہیں۔انسان کو چاہیے کہ وہ محنت کرے، ترقی کرے، علم حاصل کرے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرے، مگر اس کی نیت اللہ کی رضا ہو۔ اگر دولت ملے تو اسے غرور کا ذریعہ نہ بنائے بلکہ شکر ادا کرے اور مستحقین پر خرچ کرے۔ اگر اختیار ملے تو انصاف قائم کرے۔ اگر علم ملے تو اسے انسانیت کی خدمت میں استعمال کرے۔ اس طرح دنیا بھی سنورتی ہے اور آخرت بھی روشن ہوتی ہے۔حقیقت بھی یہی ہے کہ انسان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد اللہ کی خوشنودی کا حصول ہونا چاہیے۔ جب یہ مقصد سامنے ہو تو انسان کے فیصلے سنور جاتے ہیں، اس کی ترجیحات درست ہو جاتی ہیں اور اس کا کردار نکھر جاتا ہے۔ وہ لوگوں کی وقتی تعریف یا تنقید سے بے نیاز ہو کر صرف اپنے ربّ کی رضا کو مقدم رکھتا ہے اور یہی سوچ اُسے نہ صرف دنیا میں باوقار بناتی ہے بلکہ آخرت میں کامیاب بنا دیتی ہے۔حق بات بھی ہی ہے کہ بندہ وہی جو اللہ کی رضا میں راضی رہے،اور جس بندے کے پاس راستی ہے،اُس کا سب ادب کرتے ہیں اور اُس سے راضی رہتے ہیں۔
�������������������
بندہ وہی جو اللہ کی رضا میں راضی رہے