پہاڑی مشاورتی بورڈ میں تعزیتی اجلاس
مقبول ساحل ؔکی وفات کوعظیم نقصان قرار دیا
جموں//نامور صحافی، شاعر، ادیب،کالم نویس، فوٹوگرافر اور براڈ کاسٹر ساحل مقبول کی وفات پر ادبی، صحافتی برادری کے علاوہ متعدد سیاسی، سماجی شخصیات نے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیاہے۔ان کی یاد میں متعدد تعزیتی اجلاس منعقد ہوئے جس میں موصوف کی بے وقت موت پر افسوس ظاہر کیاگیا۔پہاڑی مشاورتی بورڈ جموں میںایک تعزیتی اجلاس منعقد ہوا جس میںپہاڑی طبقہ سے وابستہ سیاستدانوں، اراکین قانون سازیہ، ادبا، وکلاکے علاوہ صحافتی اور ادبی دنیا سے جڑی متعدد شخصیات نے شرکت کی۔ اس تعزیتی اجلاس کی صدارت ایم ایل سی اور کلچرل اکیڈمی کے نائب صدر ظفر اقبال منہاس نے کی۔ایوان صدارت میں سابقہ رکن پارلیمان اور بزرگ پہاڑی رہنما مرزا عبدالرشید، رکن اسمبلی کرناہ راجہ منظور خان، ایم ایل سی جاوید مرچال، ایم ایل سی وبودھ گپتا، سابقہ ایم ایل سی سعید رفیق حسین شاہ بھی تھے۔اجلاس میں جودیگر شخصیات موجود تھیں، ان میں ڈاکٹرجہانگیر اقبال دانش اور روزنامہ چٹان کے مدیر اعلیٰ طاہر محی الدین، سرینگر ٹائمز سے وابستہ نامور کارٹونسٹ بشیر احمد بشیر، اڑان کے سرپرست اور مدیر اعلیٰ سید اقبال حسین شاہ کاظمی، کلچرل اکیڈمی میں پہاڑی شعبہ کے مدیر اعلیٰ ڈاکٹر انور مرزا، کلچرل اکیڈمی میں گوجری شعبہ کے مدیر اعلیٰ ڈاکٹر جاوید راہی، وحید منہاس، ، روزنامہ اڑان کے سب ایڈیٹر الطاف حسین جنجوعہ، اقبال ملک،حفیظ علی شاہ ، شیخ ظہور، شیخ سجاد پونچھی، پہاڑی بورڈ کے سیکریٹری ڈاکٹر ذاکر حسین، سعید جماعت علی شاہین وغیرہ قابل ذکر تھے۔ مقررین نے ساحل مقبول کی وفات کو ادبی اور صحافتی برادری کے لئے عظیم نقصان قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ مرحوم ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔انہوں نے ہمیشہ زندگی کے ساتھ ہمت، خود اعتمادی اور دلیری سے لڑائی لڑی۔ معاشی حالت خستہ ہونے کے باوجود کبھی بھی مالی فوائید کے لئے اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ظفر اقبال منہاس نے صدارتی خطبہ میں کہاکہ مرحوم ساحل مقبول قلمی مزدور تھے، اس سی انہوں نے جوکمایا، اپنی اور اہل وعیال کی کفالت کی، یہی ان کی بود وباش کا ذریعہ تھا۔ انہوں نے بتایاکہ سال 1985کو دل محمد ڈار جوکہ مرحوم شمیم احمد شمیم کے رشتہ دار تھے، کے ذریعہ ساحل مقبول سے ان کا تعارف ہوا۔انہوں نے کہاکہ ساحل جب جیل سے رہاہوئے تو کوئی بھی انہیں قبول کرنے کوتیار نہیں تھا، ہرکوئی ڈرتا تھاکہ شاہد ایسا کیا تو انہیں سیکورٹی فورسز تنگ وطلب نہ کریں۔ لیکن انہوں نے اس وقت ان سے تعاون کیا اور وہ دوبارہ کیرئر شروع کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ساحل مقبول کی خواہش تھی کہ اس کا بیٹا بڑا صحافی بنے۔ظفراقبال منہاس نے کہاکہ ساحل مقبول میں اعتماد بہت تھا، انتھک تھا۔ انہوں نے کہاکہ افسوس کا مقام ہے کہ ہم جب کوئی مرجاتا ہے تو اس کی تعریف کرتے ہیں، اس وقت ہمیں اس کی اہمیت اور قدرومنزلت کا احساس ہوتا ہے، زندہ آدمی ہمیں نظر نہیں آتا، ہمیں چاہئے کہ دوران حیات شخص کی اہلیت، قابلیت اور صلاحیت کا صلہ دیاجائے، اس کی قدر کی جائے، انہوں نے کہاکہ ساحل مقبول کو پہچان دینے میں چٹان کے طاہر محی الدین کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔اس دوران طاہر محی الدین نے بھی اپنے زریں خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایاکہ ایڈیٹر گلڈز نے ساحل مقبول کے لواحقین کی مالی معاونت کا فیصلہ کیاہے۔شیخ سجاد پونچھی نے کہاکہ ساحل مقبول سمندر تھے اور تشنہ سمندر تھے، جس کو ہمیشہ سیکھنے کی چاہ رہتی تھی۔نظامت کے فرائض ڈاکٹر فاروق انور مرزا نے انجام دیئے۔ مقررین میں ظفر اقبال منہاس، مرزا عبدالرشید، ایم ایل اے کرناراجہ منظورخان، سید اقبال حسین شاہ کاظمی، الطاف حسین جنجوعہ، ایم ایل سی وبودھ گپتا، سعید رفیق حسین شاہ، طاہرمحی الدین، بشیر احمد بشیر، ڈاکٹرجہانگیر اقبال دانش، ڈاکٹر جاوید راہی،شیخ سجاد پونچھی، سعید جماعت علی شاہ، شیخ ظہور احمد وغیرہ شامل تھے۔اس دوران فیصلہ کیاگیاکہ ساحل مقبول کا جتنا بھی Un Publishedکلام، ادبی مواد ہے، اس کو کلچرل اکیڈمی شائع کریگی، اس کو مکمل طور محفوظ رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ان کے اہل خانہ کی کفالت کا معقول انتظام کیاجائے گا۔
وزیر اعلیٰ کا مقبول ساحل کے انتقال پر اظہاردُکھ
جموں //وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے معروف صحافی اور مصنف مقبول ساحل کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جو دوروزقبل سرینگر میں انتقال کر گئے ۔ اپنے ایک تعزیتی پیغام میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرحوم مقبول ساحل نے ریاست میں اردو صحافت کو استحکام بخشنے اور پہاڑی زبان و ادب کو محفوظ رکھنے اور اسے فروغ دینے کے سلسلے میں ہمیشہ یاد کیا جائے گا ۔ محبوبہ مفتی نے سوگوار کنبے کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کیلئے دعائے مغفرت کی ہے ۔
۔۔2018 امر ناتھ جی یاترا
گورنر نے انتظامات کا جائیزہ لیا
جموں //گورنر این این ووہرا جو شری امر ناتھ جی شرائین بورڈ کے چئیر مین بھی ہیں ، نے 28 جون سے شروع ہونے والی سالانہ امر ناتھ یاترا انتظامات کا جائیزہ لیا ۔ اس میٹنگ میں گورنر کے پرنسپل سیکرٹری اور شرائین بورڈ کے چیف ایگزیکٹو افیسر امنگ نرولہ ، بورڈ کے ایڈیشنل سی ای او بوپندر کمار کے علاوہ کئی دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں ۔ اس موقعہ پر گورنر کو ایڈوانسڈ یاترا رجسٹریشن کے بارے میں جانکاری دی گئی کہ رجسٹریشن کا عمل یکم مارچ 2018 کو ملک بھر میں 440 بنک شاخوں میں شروع کیا گیا ۔ انہیں بتایا گیا کہ اب تک لگ بھگ 60 ہزار یاتریوں نے رجسٹریشن کی ہے جن میں سے اکثر کا تعلق مہاراشٹرا ، پنجاب ، اتر پردیش ، مدھیہ پردیش ، اترا کھنڈ اور گجرات سے ہے ۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ مجوزہ یاتریوں کو لازمی صحت سرٹیفکیٹ آسانی سے دلانے کیلئے ان ڈاکٹروں اور اداروں کی فہرست شرائین بورڈ کی ویب سائیٹ www.shriamarnathjishrine.com پر اپ لوڈ کی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ شرائین بورڈ کے دفتر میں یاتریوں کی سہولت کیلئے ہیلپ ڈیسک بھی قایم کیا گیا ہے ۔ اس ہیلپ ڈیسک کے نمبرات 0191-2555662,2503399 ہیں ۔ گورنر کو یاترا کے حوالے سے پہلگام اور بال ٹل کے راستوں سے کئے جا رہے انتظامات کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی گئی ان میں بجلی ، پانی اور طبی سہولیات شامل ہیں ۔ گورنر کو بتایا گیا کہ چیف سیکرٹری بی بی ویاس نے حال ہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کی میٹنگ کی صدارت کی اور یاترا 2018 کو خوش اسلوبی سے منعقد کرانے کیلئے عملائے جا رہے کچھ اہم پروجیکٹوں کا جائیزہ لیا ۔ گورنر نے دونوں ٹریکوں پر سے بروقت برف ہٹانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سی ای او سے کہا کہ وہ اس کام پر کڑی نظر گذر رکھیں ۔ گورنر کو جانکاری دی گئی کہ شرائین بورڈ اننت ناگ اور ضلع گاندر بل کی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ دیگر محکموں کے اشتراک سے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہا ہے ۔ گورنر متعلقین پر زور دیا کہ وہ یاترا کے دوران پیدا ہونے والے کوڑا کرکٹ کو سائینسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے کیلئے انتظامات کریں ۔
۔
پنتھرس پارٹی کی 36ویں سالگرہ
انتظامات کاجائزہ لینے کیلئے میٹنگ 22 مارچ کومنعقدہوگی
جموں//پنتھرس پارٹی کے چیرمین ، صدر جنرل سکریٹریوں اور ورکنگ کمیٹی کے اراکین 22مارچ ، 2018کو ہونے والی پارٹی کی تیاری کمیٹی کی میٹنگ میں شرکت کریں گے جو پارٹی کے ہیڈکوارٹر ، جموں میں ہوگی۔پنتھرس پارٹی کی 36ویں سالگرہ ڈوگرہ ہال، سول سکریٹریٹ کے نزدیک جموں میں منائی جائے گی۔پنتھرس پارٹی اس میں سیاسی امور، اقتصادی صورتحال اور صدر سے ہندستانی آئین کی دفعہ 370 اور جموں وکشمیر آئین کے سیکشن 92 کے تحت مرکزی حکمرانی کے لئے فوری مداخلت کے مطالبہ والی تین قراردادیں پیش کی جائیں گی جو تینوں خطوں لداخ ، وادی کشمیر اور جموں پردیش کے لوگوں کے مفاد میں ہے۔جموں وکشمیر کے 22اضلاع کے نمائندے پارٹی کی اس تاریخی تقریب میں شامل ہوں گے۔ خیال رہے کہ پروفیسر بھیم سنگھ نے 1982میں کانگریس کے رکن اسمبلی کے عہدہ سے استعفی دیکر اپنے ساتھیوں کی مدد سے یہ پارٹی قائم کی تھی جس سے جموں وکشمیر کی تشکیل نو یقینی بنائی جاسکے اور تینوں خطوں کے لوگوں لوگوں کو ہر شعبہ میں مساوی حقوق حاصل ہوسکیں۔
تنظیم علماء اسلام کاوفدوزیرمال واوقاف سے ملاقی
عشرت بٹ
منڈی//تنظیم علماء اسلام جموں کشمیر کے جنرل سیکریٹری مولانا سخی خان راٹھور کی صدارت میں ایک وفدنے ریاستی وزیر برائے مال و اوقاف عبدالرحمان ویری سے یہاں جموں میں ملاقات کی۔اس دوران وفدنے وزیر موصوف سے سرحدی علاقہ جات میں رہنے والی عوام اور وقف اراضی کے حوالے سے مسائل کواُجاگرکیا۔یہاں جاری پریس بیان میں سخی محمدراٹھورنے کہا کہ وفد نے وزیر موصوف سے یہ مطالبہ کیا کہ آئے روز سرحدوں پر ہند پاک افوج کے مابین گولہ باری ہوتی ہے جس سے انسانی جانیں تلف ہو رہی ہیں اس لیے سرحدوں پر رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات پر متبادل پلاٹ فراہم کئے جائیں تاکہ سرحد ی لوگ بھی سکون سے اپنی زندگی جینے کیساتھ ساتھ اپنے بچوں کی تعلیم جیسی بنیادی ضرورت پوری کرسکیں ۔انہوں نے وزیر موصوف سے کہا کہ وقف کی جتنی اراضی پر آرمی یا عام لوگوں کا ناجائز قبضہ ہے اسے آزاد کراکے وقف بورڈ کے سپرد کیا جائے خصوصی طور پر اعلی پیر پونچھ جو زمین آرمی کے زیر قبضہ ہے اسے واپس دیا جائے جس پر وزیر براے مال و اوقاف عبدالرحمن ویری راٹھور کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اس سلسلہ میں ریاستی وزیر اعلی محبوبہ مفتی سے بات چیت کرنے کے بعد جلد ان مسائل کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں گے ۔ویری سے جنرل سیکرٹری آل انڈیا تنظیم علماء اسلام جموں و کشمیر مولانا سخی خان راٹھور نے وزیرموصوف سے کہاکہ ہم نہیں چاہتے پونچھ میں کشمیر جیسے حالات پیدا ہوں لہذا جلد از جلد ان معاملات پر غور کیا جائے تاکہ عوام پریشانی سے دو چار نہ ہوں۔
سکھ تنظیموں کا چھٹی سنگھ پورہ کے مہلوکین کوخراج
جموں//مختلف سکھ تنظیموں پر مشتمل سکھ دانشوروں کے ایک گروہ سکھ انٹلیکچول سرکل کی طرف سے چھٹی سنگھ پورہ میں مارچ 2000 میں مارے گئے 38 سکھوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ سینئرسکھ لیڈران نے کہا کہ یہ حادثہ بالکل پتھری بل حادثہ کی طرح تھا۔اور اس قتل و غارت کی وجہ سے سکھ طبقہ کو جتنی ٹھیس پہنچی ہے وہ ناقابل فراموش ہے ۔اس دوران اس حادثہ میں مارے گئے لوگوں کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کااظہارکرتے ہوئے سمرن جیت سنگھ مان نے کہا کہ اس مسئلے کے بارے میں ہم صدرہند اور اقوام متحدہ کو تفصیلی خطوط لکھ چکے ہیں ہم نے جموں و کشمیر کے مسلمان طبقہ اور سکھ طبقہ کو لے کر بھی مرکزی اور ریاستی حکومت سے جواب مانگا تھا لیکن مرکزی و ریاستی سرکاریں ابھی تک چپ ہیں اور بدقسمتی سے ابھی تک کوئی جواب نہیں ملاہے۔اس لئے تمام سکھ تنظیموں کے لیڈران نے ایک ہو کر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کو تحفظ فراہم کرنے والی دوسری تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ چھٹی سنگھ پورہ کے مسئلے میں ذاتی مداخلت کرے۔
جموں میونسپل کارپوریشن کے وارڈنمبر71 میں بجلی نظام بہتربنانے کامطالبہ
جموں// شہرکے بیرونی علاقہ عیدگاہ سدھرا ،وارڈنمبر 71 اورنکی محلہ میں ناقص بجلی انتظامات کی وجہ سے مقامی لوگوں کومشکلات کاسامناکرناپڑرہاہے۔مقامی لوگوں نے مطالبہ کیاہے کہ متعلقہ محکمہ بجلی کے نظام میں شفافیت لانے کیلئے اقدامات اٹھائے ۔باوثوق ذرائع سے معلوم ہو ا ہے کہ اس محکمہ کے اہلکار ہی محکمہ کے خسارے کے ذمہ دار ہیں ۔ عام شہریوں کا کہنا ہے کہ اس محکمہ کو رشوت خوروںاور کورپٹ اہلکاروں سے صاف و پاک بنانے کی اشد ضرورت ہے ۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس محکمہ میں سدھار لانے کے لئے ایک اور بسنت رتھ کی زبردست ضرورت ہے ۔ یہ بھی شکایات ملی ہیں کہ جو لوگ محکمہ کے اہلکاروں کی جیب گرم کرتے ہیں ان کے بل وہ اسی حساب سے دیتے ہیں اور جو لوگ ایسا نہیں کرتے ہیں ان کو زیادہ رقومات کے بل دیتے ہیں ۔ میونسپل وارڈ نمبر 71کے علاقہ عید گاہ روڈ اور نکی محلہ اس کا واضح ثبوت ہیں ۔ اہلکاروں کی ملی بھگت سے اکثر بجلی کے میٹر خراب کردئے گئے ہیں اپنی مرضی سے بجلی کے بل بنائے جاتے ہیں ۔ زمینی صورت حال اور بجلی کے بلوں میں آسمان زمین کا فرق ہے۔اس علاقہ میں بجلی کتنی خرچ ہو رہی ہے اور بل وہ کتنی رقم کے دیتے ہیں ۔ایک محارہ ہے ’’جب باڑ ہی کھیت کو کھانے لگے‘‘یہ محاورہ اس محکمہ کے اہلکاروں پر برابر صادق آتا ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس محکمہ میں سدھار لانے کی اشد ضرورت ہے اس کے لئے کورپٹ اہلکاروں کونکال باہر کرنا لازمی ہے ۔ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی جو کہ ایک ذہین اور دانشور باپ کی دانشور اور بصیرت افروز بیٹی ہیں جس طرح سے انہوں نے جموں میں ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے لئے ایک قابل اور ایماندار افسر کو آئی جی تعینات کیا اور حد سے زیادہ بگڑا ہو ا ٹریفک نظام بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہے حالانکہ عوام کا کہنا تھا کہ ٹریفک نظام کا درست ہونا ناممکن ہے مگر جب حکومت کسی چیز کو درست کرنے پر آتی ہے تو ناممکن سے نا ممکن چیز بھی ممکن بن جاتی ہے ۔اس طرح سے اس نظام کو بھی درست کرنے کی از حد ضرورت ہے ۔
روٹری کلب کے زیراہتمام مفت طبی کیمپ 25مارچ کو
جموں//روٹری کلب نے یہاں ایک پریس کانفرنس کے دوران میڈیاکوبتایاکہ روٹری کلب جموں سٹی اورشلبی ہسپتال موہالی کے اشتراک سے یہاں جموں میں آئندہ اتوارکو جوڑوں کے معائینے کامفت طبی کیمپ منعقد کیاجارہاہے ۔ روٹری کلب کے عہدیدارن نے بتایاکہ ہمارامقصدضرورتمندوں کی امدادکرناہے۔انہوں نے کہاکہ اس طبی کیمپ میں غریب افرادآکرمعائینہ کراسکتے ہیں۔
پروین سرورخان کا سرحدی علاقوں کادورہ
حکومت سے عوام کی مشکلات کاازالہ کرنے پرزور
مینڈھر //آل انڈیاکانگریس کمیٹی کی رکن پروین سرور خان نے بالاکوٹ کے سر حدی دورہ کے بعد جاری کئے گئے اخباری بیان میںکہاکہ گولہ باری سے علاقے میں ہونے والا نقصان اس قدرر بھیانک ہے کہ ایک ہی خاندان کے پانچ افراد بیک وقت لقمہ اجل بن گئے۔ گولہ اُنکی رسوئی میں آگر اجہاں وہ ناشتہ کر رہے تھے ۔ جائے وقوعہ نہایت ہی خوفناک منظر پیش کر رہی تھی۔ دو گھر ایسے دیکھنے کو ملے جنکے گرد ونواح تیس سے زائد گولے گرے ہوئے تھے جسے گھروںکو شدید نقصان پہنچا ۔ مقیم لوگوں نے نہایت ہی درد بھری سسکیوں میں امن کی مانگ کی اور یہ بھی بتایا کہ انتظامیہ یا حکومت کی طرف سے کسی بھی ذمہ دار نے ہماری خبر نہ لی ہے۔البتہ وہاںکوئی بھی انسانی جانی نقصان نہ ہوا ہے ۔ کافی تعداد میںمویشی مارے گئے ہیں۔گھر والوں نے تقریبًا دو درجن سے زاید پھٹے ہوئے بمبوںشیل دکھائے ہیں۔جو ابھی بھی اُنکے صحن میں موجود ہ ہیں۔دورہ کے دوران حاجی امتیاز احمد خان اور راجہ وسیم کے علاوہ علاقہ کے معززین بھی موجود تھے۔ پروین سرورخان نے کہاکہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک انتظامیہ کا کوئی بھی فرد وہاں پر نہ گیا۔اور بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں ۔تحصیل اور ضلع انتظامیہ کی شدید اور سخت الفاظ میں مذمت کی کہ اُنکا کوئی بھی اہل کار موقعہ پر نہ گیاجسے اُنکی بے حسی واضح ہوتی ہے ۔ حکومت کو چاہیئے کہ کہ وہ اپنے پڑوسی ملک سے بات کرے اور امن کی راہ ہموار کرے تاکہ اس علاقہ کے لوگ پر امن زندگی گزار سکیں۔دورہ کے دوران علاقہ مین بنیادی سہولیات کا فقدان دیکھنے کو ملا حکومت کو چاہیئے کہ انھیں تمام بنیادی ضروری سہولیات فراہم کرے ۔ تاکہ علاقہ میں حکمران طبقہ پر عوام کا اعتماد بحال رہے ۔
پونچھ میں چھوٹی مسافر گاڑیوں کے لئے سٹینڈ کا مطالبہ
حسین محتشم
پونچھ//پونچھ قصبہ میں چھوٹی مسافر گاڑیوں کے لئے الگ سے سٹینڈ نہ ہونے کی وجہ سے ان گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس سلسلہ میں نیشنل کانفرنس یوتھ کے ضلع صدر نیشو شرما کی قیادت میں ایک احتجاجی مظاہرہ عمل میں لایاگیا جس میں ان گاڑیوں کے ڈرائیوروں اور مالکان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس دوران انتظامیہ سے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرین نے نعرے بازی کر کے الگ سٹینڈ کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نیشو شرما نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بار بار مطالبہ کے بعد بھی ان کی آواز نہیں سنی جاتی۔انہوں نے کہا کہ پونچھ کے مختلف علاقوں کے لئے سینکڑوں آٹوز، سوموز اور دیگر گاڑیوں کو پرمٹ دیئے گئے ہیں لیکن ان کو کھڑا کرنے کی جگہ فراہم نہیں کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے انھیں گاڑیٰاں سڑکوں پر کھڑی کرنی پڑتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکمہ کو بار بار اپیل کئے جانے کے بعد بھی سٹینڈ کے سلسلہ میں کوئی پیش رفت نہیں کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے اب ان مقامات پر نو انٹری زون قائم کئے گئے ہیں جہاں وہ اپنی گاڑیاں کھڑی کر کے سواریاں بھرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ ان لوگوں کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے جس کو وہ برداشت نہیں کر سکتے ہیں۔انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر جلد از جلد ان مسافرو گاڑیوں کے لئے الگ سٹینڈ قائم نہ کیا گیا اور منصوبہ بند طریقہ کار اپنا کر ان کو راحت نہ پہنچائی گئی تووہ لوگ سخت احتجاج کر کے گاڑیوں کو بند کر دیں گے اور اس کے بعد جو بھی ہو گا اس کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
پراسرارپختہ شیڈکاڈھانچہ پراسرارطورمنہدم
انتظامیہ سے ملوثیں کے خلاف کارروائی کامطالبہ
حسین محتشم
پونچھ //چند سال قبل تک پونچھ میونسپل کونسل کی جانب سے پونچھ شہر میں داخل ہونے والے کاروباریوں سے چونگی وصول کی جاتی تھی اس دور میں شہر کے اندر داخل ہونے والے تمام راستوں پر پختہ شیڈ بنائے گئے تھے۔ ان میں سے ایک محلہ شنکرنگردریا کے بالکل نزدیک ہے جسے گزشتہ روز رات کے اندھیرے میں گرا دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سماجی کارکن عبدالرشید شاہپوری نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ ڈھانچہ کسی نے اپنے ذاتی مفاد کے لئے گرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پونچھ کے کچھ لوگ سرگرم رہکر سرکاری املاک پر قابض ہورہے ہیں اور پھر اسے بیچ دیتے ہیں۔ انہوں نے اس معاملہ کی چھان بین کر کے قصوروار افرد کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کی مانگ کی ہے۔ انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ طارق احمد زرگر اور ایس ایس پی پونچھ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری املاک پر قابض ہونے والے مافیا کی نشاندہی کر کے ان لوگوں کے خلاف کاروائی کی جائے تاکہ دوسروں کے لئے سبق بنے اور دوبارہ کوئی سرکاری املاک پر قابض ہونے کی جرأت نہ کرے۔
ملٹی لینگول لٹریری سوسائٹی کامقبول ساحلؔکی وفات پراظہارتعزیت
پونچھ//ملٹی لینگول لٹریری سوسائٹی پونچھ کی جانب سے معروف شاعر و ادیب اورصحافی و پہاڑی سماجی رکن ساحل مقبول کی اچانک وفات پر ایک تعزیتی اجلاس زیر صدارت احتشام حسین بٹ منعقد کیا گیا ۔اس دوران خطاب کرتے ہوئے مقررین نے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کشمیر سے تعلق رکھنے والے ساحل مقبول کی موت حرکت قلب بند ہونے سے ہوگئی جس پر ریاست بھر کے ادبی ، سماجی وسیاسی شخصیات دکھ کا اظہار کررہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ انہیں یقین نہیں ہورہا کہ ساحل مقبول رحلت کرگئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وہ ابھی جوان تھے اور صحت یاب بھی لیکن موت نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا۔انہوں نے کہاکہ ساحل نے نہ صرف شعر و ادب اور صحافت کے میدان میں نمایاں کام کیا بلکہ ان کی پہاڑی قوم کیلئے بھی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مرحوم نے بطور پہاڑی قلمکار ایسی خدمات انجام دیں جن کی وجہ سے انہیں ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ مرحوم کے لواحقین کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور مرحوم کی روح کی مغفرت کیلئے دعا گو ہیں۔ اس دوران خصوصی فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ اس موقع پر پروفیسر محمد اعظم، پروفیسرامجد علی با بر،پروفیسر مجاہد مغل، پروفیسر محمد اعظم اور لیکچرر فرید خان موجود تھے۔