جموں//شیر کشمیر یونیورسٹی برائے ایگریکلچر و ٹکنالوجی کے شعبہ انٹومولوجی کی جانب سے کرشی وگیان کیندر راجوری کے اشتراک سے مکھی پالکوں کے لئے سندر بنی کے کانگڑی گائوں میں ایک بیداری و تربیتی کیمپ کا اہتمام کیا گیا۔ڈاکٹر ڈی پی ابرول ڈین اس موقعہ پر مہمان خصوصی تھے جنہوںنے مکھی پالن کے شعبہ کے بارے میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے کسانوں کو ترغیب دی کہ وہ مکھی پالن کو ایک شعبہ روزگار کے طور پر اپنائیں ۔ انہوں نے بتایا کہ جدید ٹکنالوجی کا سہارہ لے کر اسے ایک منافع بخش صنعت کے طور پر قائم کر سکتے ہیں۔ وزیر اعظم کی طرف سے بھارت کے کسانوں کی آمدن 2022تک دوگنا کئے جانے کے عزم کا ذکرکرتے وہئے ڈاکٹر دیوندر شرما انچارج پروجیکٹ ہذا نے کہا کہ زراعت کو روزگار فراہمی کے ایک اہم شعبہ کے طور پر ترقیاب کیا جا رہا ہے اور نئی نسل کو اس جانب متوجہ کرنے کے لئے جدید ترین ٹکنالوجی کو بروئے کار لایا جا رہا ہے ۔ کرشی وگیان کیندر کے ڈاکٹر اروند ایشر نے کیندر کی طرف سے کسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے شروع کی گئی اسکیموں کی جانکاری دیتے ہوئے کسانوں کو ترغیب دی کہ وہ مرکزی اور ریاستی سرکار کی طرف سے چلائی جار ہی اسکیموں سے استفادہ کر کے اپنی آمدن میں اضافہ کریں ۔ انہوں نے کسانوں کو مشروم کی کاشت کے بارے میں بتایا اور انہیں موقعہ پر بیجائی، کٹائی، کھدائی، کھاد نیز جراثیم کش ادویات کے استعمال کے بارے میں بھی مفید جانکاری دی۔