جموں//سینئر پی ڈ ی پی لیڈر مظفر حسین بیگ کی زوجہ صفینہ بیگ جنہیںپی ڈی پی وومن ونگ کی پریذیڈنٹ مقرر کیا گیا نے کہا کہ کٹھوعہ معاملہ کو کسی اور رنگ میںرنگ دینا سراسر غلط ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ کٹھوعہ کی 8سالہ آصفہ کے ساتھ جنسی زیادتی و قتل ریاستی سرکار کیلئے ایک چیلنج ہے ۔اس کے علاوہ ریاست کو اور بھی چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔یہاںکسی کوسیکولر روایات کا زک پہنچانے کی اجازت نہیںدی جا سکتی ہے ۔صفینہ نے کہا کہ پی ڈی پی کی کولیشن میںساتھی بھاجپا اس وقت سوالوںکے گھیرے میںآگئی ہے ۔اس کیلئے اس کے در وزیر ذمہ دار ہیںجنہوںنے عوام کو گمراہ کرنے کا کام کیا ،انہوںنے ملزمان کے حق میںبیان بازی کر کے سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے ۔صفینہ نے زور دے کر کہا کہ اس کیلئے پوری بھاجپا کو ذمہ دار قرار نہیںدیا جاسکتا ،کیونکہ اس قسم کے عناصر ہر پارٹی میںہوتے ہیں۔لیکن ایسی چیزوںکا ہائی کمان کو نوٹس لینا چاہئے تاکہ مستقبل کیلئے ایسے واقعات سے بچا جا سکے ۔انہوںنے کہا کہ ہم نے پہلے ہی ریاست میںکافی کچھ کھو دیا ہے ۔انہوںنے کٹھوعہ واقعہ کو سنگین جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا ۔یا د رہے کہ آصفہ 10جنوری کو اپنے گھر سے کچھ دوری پر رسانہ گائوںمیںگم ہو گئی تھی ،جبکہ اس کی نعش 17جنوری کو پاس کے جنگل سے برآمد ہو ئی تھی ،اس معاملہ کی تحقیق میںکرائم برانچ نے سچائی کا پتہ لگاتے ہوئے کہا کہ بکروالوںکو علاقے سے نکالنے کے لئے اس سگین جرم کو انجام دیا گیا ۔یہاںیہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے صفینہ کو گذشتہ روز صفینہ کو پی ڈی پی مہلا ونگ کا پریذیڈنٹ نامزد کیا ہے ۔صفینہ جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی لاء گریجویٹ ہیںجموںکشمیر ہائی کورٹ میںوکالت کرتی ہیں۔انہوںنے کہا کہ میری تمام تر توجہ خواتین کی فلاح و بہبود پر رہے گی اس کے ساتھ ساتھ بے گھر ہونے والوںکی آباد کاری میرا فرض اولین ہوگا ۔صفینہ نے کہا کہ میری توجہ تشدد سے متاثرہ خواتین کی فلاح و بہبود پر رہے گا ۔