جموں//مختلف مسلم تنظیموں نے گذشتہ شام جموں شہرکے مختلف مقامات پر ہیرانگرکٹھوعہ کے رسانہ کی آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانوکی عصمت دری اورقتل معاملے کے ملزمان کوکیفرکردارتک پہنچانے کے مطالبے کولے کربٹھنڈی میںشام کے وقت کینڈل مارچ نکالا۔اس کے علاوہ بارایسوسی ایشن جموں نے متاثرہ کے کنبے کومعاوضہ اورانصاف دینے کے مطالبہ کولیکراحتجاجی ریلی نکالی ۔اس کے علاوہ جموں یونیورسٹی کے طلباء وطالبات نے بھی احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرہ کیلئے انصاف کی مانگ کی۔ذرائع کے مطابق تالاب کھٹیکاں تاگوجرنگرپل اوربٹھنڈی موڑ میں متاثرہ بچی کے ملزمان کوسزائے موت دینے کے مطالبہ کولے کردوالگ الگ کینڈل مارچ نکالے گئے ۔اس دوران مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مسلم قائدین نے حکومت سے آصفہ عصمت ریزی وقتل معاملہ کی تحقیقات کی چارج شیٹ درج کرانے میں کرائم برانچ کاراستہ روک کرروڑے اٹکانے والے اورملزمان کی حمایت کرنے والے کٹھوعہ اورجموں کے وکلاء کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے ساتھ ساتھ انتہائی سنجیدہ نوعیت کے معاملہ کوفرقہ وارانہ رنگت دینے والے حکومت کے وزراء لعل سنگھ اور چندرپرکاش گنگاکی بھی تحقیقات کرنے کامطالبہ کیا۔اس دوران ٹرائبل کوآرڈی نیشن کے نائب چیئرمین نزاکت کھٹانہ نے کہاکہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ آٹھ سالہ معصوم بچی کی عصمت ریزی اورقتل کیس میں وکلاء ملزمان کی حمایت کرکے جموں بندکرواتے ہیں ۔دیگرمقررین نے کہاکہ بارایسوسی ایشن جموں کی ہڑتال ہندوستان کی تاریخ کاسیاہ ترین دن تھا۔انہوں نے کہاکہ وکلاء کوکم ازکم یہ خیال رکھناچاہیئے تھاکہ اس کیس کی تحقیقات کی نگرانی عدالت عالیہ کررہی ہے لیکن اس کے باوجودمعاملہ کوفرقہ وارانہ بنیادپردیکھ کرتحقیقات کے عمل میں اڑچنیں پیداکرنے کی کوششیں کیں۔ انہوں نے حکومت کوکسی دبائومیں نہیں آناچاہیئے اورآصفہ عصمت دری اورقتل سانحے کے ماسٹرمائنڈاوردیگرملزمان کوسزادلانے کیلئے سنجیدگی سے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ مقررین نے متاثرہ کی وکیل کوبارایسوسی ایشن کے صدرکی دھمکیوں پربھی تشویش کااظہارکیا۔انہوں نے کہاکہ انسانیت سوزواقعے کوسیاسی اورفرقہ وارانہ رنگ دینے کیلئے ہندوایکتامنچ کاقیام عمل کرکے ملزمان کوبچانے کیلئے ترنگاجھنڈااُٹھاکر ریلیاں نکالنے والوںکے خلاف جھنڈے کی توہین کامعاملہ درج ہوناچاہیئے۔انہوں نے کہاکہ متاثرہ کوانصاف دلانے کی بجائے ملزمان کوبچانے کیلئے بارایسوسی ایشن اوردیگرفرقہ پرستوں کی انسانیت مخالف مہم موجودہ سماج کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔واضح رہے کہ متاثرہ بچی کی نعش گذشتہ 17جنوری کورسانہ گائوں کے جنگلوں سے ملی تھی ،اس سے قبل متاثرہ کو10جنوری کواغواکیاگیاتھا۔بتایاجاتاہے کہ متاثرہ کے جسم پرتشددکے نشانات تھے اورقتل کرنے سے پہلے اس کے ساتھ جنسی زیادتی جیساگھنائوناکھیل کھیلاگیا۔اس معاملے کی تحقیقات کے لیے پہلے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی مگربعدمیں یہ کیس ریاستی پولیس کی کرائم برانچ کومنتقل کردیاگیاتھا ،کرائم برانچ کی تحقیقات کی نگرانی جموں کشمیرہائی کورٹ کررہی ہے اورسی جے ایم کٹھوعہ میں تمام آٹھ ملزمان کے خلاف فردجرم داخل کردی گئی تھی۔
حمایتیوں کیخلاف معاملہ درج کیاجائے:جموں مسلم فرنٹ
جموں//جموں مسلم فرنٹ کاایک اجلاس منعقدہواجس میں سابق وزیراعلیٰ اورنیشنل کانفرنس کے کارگذارصدرکی جانب سے رسانہ عصمت دری وقتل معاملے میں ملزمان کی حمایت کرنے والوں کیخلاف ایف آئی آردرج کرنے کی مانگ کوحق بجانب قراردیااورمرکزی حکومت کی ایک مسلم بچی کی عصمت ریزی وقتل پرخاموشی توڑنے میں تاخیرکرنے پرتشویش کااظہارکیا۔جموں مسلم فرنٹ کے ممبران نے کہاکہ دوماہ کاعرصہ گذرنے کے بعدمرکزی حکومت نے اپنی خاموشی توڑی جوکہ بی جے پی حکومت پرسوالیہ ہے۔انہوں نے کہاکہ قومی جھنڈ ے کواُٹھاکر ملزمان کی حمایت کرنے اورخاتون وکیل کوکورٹ میں حاضرہونے سے روکنے کیلئے دھمکیاں دینے سے پتہ چل جاتاہے کہ ان لوگوں کی منشاکیاہے۔انہوں نے کہاکہ صرف استعفے لیناتک ہی بہترنہیں ہے بلکہ دونوں وزراء کی تحقیقات ہونی چاہیئے ۔فرنٹ نے کہاکہ ملزمان کی حمایت کرنے والوں کے رویے سے ظاہرہوتاہے کہ وہ ملک دشمن عناصرکومضبوط بنارہے ہیں۔اس دوران شجاع ظفرنے ہیرانگرکے وکیلوں نے کرائم برانچ کی ٹیم کوچارج شیٹ پیش کرنے کی حرکت توہین عدالت ہے جس کونظراندازنہیں کیاجاسکتاہے۔میٹنگ کے دوران سکھ لیڈر سدرشن سنگھ وزیرکاانسانیت کے بچائوکیلئے متاثرہ کے حق میں مظاہروں کیلئے شکریہ ادا کیا۔ عمران قاضی اورمحمدحسین نے حکومت کے رول کی ستائش کی اورریاستی ہائی کورٹ سے اپیل کی کہ وہ انصاف کی فراہم میں رکاوٹیں پید اکرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے۔انہوں نے وزیراعظم ہندوستان سے اپیل کی کہ وہ مسلمانوں کے تحفظ کویقینی بنائیں۔اس دوران جموں کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ انسانیت اورملک دشمن عناصرکے عزائم کوخاک میں ملانے کیلئے آگے آئیں۔
ملزمان کوسزائے موت دی جائے:ایڈوکیٹ محمداکرم
جموں//گوجربکروال یوتھ کانفرنس نے ضلع کٹھوعہ کی ہیرانگرتحصیل کے رسانہ گائوں میں آٹھ سالہ بچی ’کی وحشیانہ آبروریزی اورقتل کے معاملے کوسیاسی اورفرقہ وارانہ رنگ دینے کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کوسزائے موت دینے کامطالبہ کیاہے۔یہاں جاری پریس ریلیزکے مطابق گوجربکروال یوتھ کانفرنس کے جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ چوہدری محمداکرم نے کہاکہ رسانہ ہیرانگرکٹھوعہ عصمت ریزی اورقتل کے اس معاملے کوسیاسی اورمذہبی رنگ دیناباعث تشویش ہے۔انہوں نے کہاکہ چارج شیٹ پیش کرنے میں ہیرانگرکٹھوعہ کے وکلاء کی جانب رکاوٹیں کھڑی کرنااورجموں بارایسوسی ایشن کی جانب سے عدالت عالیہ کی نگرانی میں ہورہی تحقیقات پرسوالات اٹھانااوربندکال دے کرلوگوں کوہراساں کرنااورمعاملے کوفرقہ وارانہ رنگت دے کرجموں خطے کے پرامن ماحول کوبناکرمتاثرہ کوانصاف دلانے کے بجائے اس میں رکاوٹیں کھڑی کرناایک ناقابل معافی جرم ہے ۔انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے فاسٹ ٹریک قائم کرنے کیلئے ہائی کورٹ کوکی گئی گذارش قابل ستائش ہے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ اورکرائم برانچ کی تحقیقاتی ٹیم نے متاثرہ کوانصاف دلانے کیلئے جوکاوشیں کی ہیں باعث اطمینان ہیں۔انہوں نے مانگ کی کہ ملزمان کوعبرتناک سزادینے کیلئے لازمی ہے کہ سزائے موت دی جائے۔واضح رہے کہ ہیرانگرکٹھوعہ کے رسانہ گائوں کی آٹھ سالہ بچی کی نعش گذشتہ 17جنوری کومقامی جنگلوں سے ملی تھی ،اس سے قبل متاثرہ کو10جنوری کواغواکیاگیاتھا۔بتایاجاتاہے کہ آصفہ کے جسم پرتشددکے نشانات تھے اورقتل کرنے سے پہلے اس کے ساتھ جنسی زیادتی جیساگھنائوناکھیل کھیلاگیا۔یہاں یہ واضح کرناضروری ہے کہ آصفہ کاتعلق خانہ بدوش طبقے سے تھا ۔اس معاملے کی تحقیقات کے لیے پہلے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی مگربعدمیں یہ کیس ریاستی پولیس کی کرائم برانچ کومنتقل کردیاگیاتھا ۔
طالب چوہدری پرحملے کی مذمت
شرپسندوں کی نکیل کسی جائے:شیعہ فیڈریشن
جموں//شیعہ فیڈریشن کے صدر عاشق حسین خان نے ٹرائبل کوآرڈی نیشن کمیٹی کے چیئرمین ایڈووکیٹ چوہدری طالب پر اودھمپور میں ہوئے حملہ کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ الیکشن کا موسم قریب آتے دیکھ کر فرقہ پرست طاقتیں جموںمیں بھائی چارے کو نقصان پہنچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کررہی ہیں ۔ اپنے ایک پریس بیان میں عاشق خان نے کہاکہ طالب نے رسانہ قتل کیس میں متاثرہ کنبہ کو انصاف دلانے کیلئے سخت جدوجہد کی اور وہ مظلوم کنبے کے حق میں ہونے والے احتجاج اور ہڑتالوںمیں پیش پیش رہے اور یہی وجہ ہے کہ ان پر حملہ کیاگیاہے ۔ انہوںنے کہاکہ پولیس کو ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میںلانی چاہئے جنہوںنے اس نوجوان وکیل پر حملہ کیا ۔ عاشق خان نے کہاکہ وہ پہلے بھی خبردار کرچکے ہیں کہ الیکشن کاوقت قریب آتے دیکھ کر فرقہ پرست طاقتیں جموں کے بھائی چارے اور امن کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کررہی ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ جموں کے باشعور طبقہ کو ایسی طاقتوںسے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اور ان کی ہر ایک کوشش کو ناکام بنایاجاناچاہئے ۔ ان کاکہناتھاکہ ان لوگوں کا واحد مقصد تفریق اور تقسیم کرکے اپنافائدہ اٹھاناہے اور وہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں ۔ انہوںنے رسانہ قتل کیس کی تحقیقات میں تیزی لانے پرزور دیتے ہوئے کہاکہ وہ عصمت اور قتل کے مجرموں کو سزائے موت دینے کے قانون کی حمایت کرتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ جیساکہ وزیر اعلیٰ نے کہاہے ، اس قانون میں ترمیم کرکے اسے مزید سخت بنایاجائے تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص اس طرح کے گھنائونے جرم کا ارتکاب نہ کرسکے ۔ عاشق خان نے کہاکہ ملزمان کوسبق آموز سزا ملنی چاہئے اور ان کے حمایتیوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے جنہوںنے انسانیت کو پھر سے شرمسار کیاہے ۔ عاشق خان نے کہاکہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کا از خود نوٹس لینا قابل ستائش ہے اور اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ ملک میں عدلیہ نہ صرف آزاد ہے بلکہ انصاف پسند بھی ہے اور انصاف کے تقاضوںکو پورا کیاجاتاہے ۔