جموں//حکمران اتحاد میں شامل بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریاستی پولیس پر سپریم کورٹ کے احکامات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا ہے ، عدالت عظمیٰ نے کٹھوعہ عصمت دری و قتل معاملہ کے ایک ملزم وشال جنگوترہ کے تین دوستوں کو ، جو اس معاملہ میں گواہ بنائے گئے ہیں کے اہل خانہ کو پوچھ گچھ کے وقت ساتھ رکھے جانے کی ہدایت دی تھی۔ پارٹی کے ریاستی ترجمان انل گپتا کی طر ف سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ’ریاستی پولیس کی کرائم برانچ کو سپریم کورٹ کے احکامات پر من و عن عمل کرنا چاہئے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ گواہوں سے پوچھ گچھ اہل خانہ سے قابل دید فاصلہ سے کی جائے تاکہ ان تین طلباء کو کسی بھی طرح سے ہراساں کئے جانے کے امکانات ختم ہو جائیں ‘‘۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد کرائم برانچ نے معاملہ کی تحقیقات از سر نو شروع کی تو عدالت عظمیٰ کی طرف سے دئیے گئے احکامات کی عمل آوری میں کامیاب نہیں رہ پائی جس کے مطابق ان گواہوں کے اہل خانہ کو دوران تفتیش ساتھ رکھے جانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ بی جے پی ترجمان کا کہنا ہے کہ ساحل شرما، سچن شرما اور نیرج شرما نے عدالت عظمیٰ میں عرضداشت دائر کر کے کرائم برانچ پر انہیں ہراساں کرنے کا الزام لگا یا تھا جس کا نوٹس لیتے ہوئے معز ز عدالت نے تینوں گواہوں کے رشتہ دار کو دوران پوچھ گچھ ان کے ہمراہ رہنے کی اس شرط کے ساتھ اجازت دی تھی کہ وہ پوچھ تاچھ والے کمرہ میں داخل نہیں ہو پائیں گے بلکہ مناسب فاصلہ سے انٹروگیشن کو دیکھیں گے۔چیف جسٹس دیپک مشرا کی قیادت والے سہ رکنی بنچ نے کہا تھا کہ ’’ہم امید کرتے ہیں کہ ریاستی سرکار اس تحقیقات کو انتہائی شفافیت کے ساتھ گواہوں پر کسی قسم کا دبائو ڈالے بغیر آگے بڑھائے گی۔ ترجمان نے بتایا کہ انہوں نے یہ معاملہ ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید کے ساتھ اٹھایا تھا اور انہوں نے فوری طور پر کرائم برانچ کو سپریم کورٹ کے احکامات پر من و عن عمل کرنے کا حکم دیا ہے ۔