جموں//پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے نئی دہلی میں گذشتہ شام پنتھرس کارکنوں اور دوستوں کے ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے 54 سال کے چونکانے والی تاریخ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ 27 مئی، 1964 کو جب پنڈت جواہر لال نہرو کا انتقال ہوا تھا ، اسی دن ہندستانی پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہونے جا رہا تھا۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں اور دوستوں کو یاد دلایا کہ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا اور طلبا کانگریس کے مرکزی آرگنائزر تھے۔انہوں نے کئی نوجوانوں اور طلبا رہنماؤں کے ساتھ وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو دینے کے لئے ایک میمو رنڈم تیار کیا تھا اور وہ سب اس دن پارلیمنٹ کے سامنے شیخ محمد عبداللہ کو پاکستان سے واپس بلانے کا مطالبہ کر رہے تھے، جنہیں نہرو جی نے پاکستان بھیجا تھا۔ شیخ محمد عبداللہ نے ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جموں و کشمیر کے انضمام کو چیلنج کرنے کے لئے انتہائی قابل اعتراض بیان دیا تھا۔ طلباکانگریس شیخ عبداللہ کی پاکستان سے واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے اور ساتھ ہی پنڈت نہرو جی سے جموں و کشمیر کے ہندستان کے ساتھ انضمام پر زور دے رہے تھے۔ جموں و کشمیر طلبا کانگریس نے پارلیمنٹ کے سامنے بھوک ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا، اسی دن پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہو رہا تھا۔ طلبا کانگریس نے پروفیسربھیم سنگھ کی قیادت میں پارلیمنٹ کے سامنے 9.00 بجے بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ بھوک ہڑتال میں شامل ہونے والے طلبا کے اہم رہنماؤں میں مسٹر رشپال سنگھ (اس وقت جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں ایڈوکیٹ)، مسٹر شیو چرن سنگھ (ریٹائرڈ زیڈ ای او)، مسٹر کمل گنڈوترا، آنجہانی مسٹر عاصم شاہ، آنجہانی مسٹر سریش انادی، آنجہانی مسٹر راج سہگل، آنجہانی مسٹر ایس پاٹھک، آنجہانی درگاداس ابرول اور جموں و کشمیر کے دیگرطلبا رہنما اہم تھے۔ طلبا کانگریس کے لیڈر شیخ عبداللہ کی پاکستان سے واپسی، آرٹیکل 370 میں ترمیم اور جموں و کشمیر کے ہندوستانی شہریوں کے لئے تمام انسانی / بنیادی حقوق کا مطالبہ کر رہے تھے، جو ہندوستانی آئین کے تیسرے باب میں شامل ہیں۔ پنڈت جواہر لال نہرو پارلیمنٹ ہاؤس تک نہیں پہنچ سکے، کیونکہ پارلیمنٹ شروع ہونے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو چکا تھا۔ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ تھا، ہم لوگ پنڈت جواہر لال نہرو کو اپنے اپنے میمورنڈم سونپنے کی بات سوچ رہے تھے اور پارلیمنٹ شروع ہونے سے پہلے اس افسوسناکھ خبر کا اعلان ہو گیا۔ اس وقت کے مرکزی وزیر مسٹر لال بہادر شاستری نے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تمام مظاہرین سے اس قومی سوگ میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ ہم سب لوگ ایک ساتھ اپنے اپنے بینر، پوسٹر اور جھنڈے لے کر اس غم میں شامل ہو گئے۔ بھیم سنگھ نے اس تکلیف دہ وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس افسوسناک دن کے 18 سال کے بعد 1982 میں پنتھرس پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔ پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے اس قومی انضمام کی تحریک کو ساٹھ کی دہائی میں اپنے دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ قائم کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس دن 27 مئی، 1964 کے اس واقعہ سے ان کی زندگی کا بہت گہرا تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1964 میں پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے انتقال کے کچھ دنوں بعد انہیں سرینگر (کشمیر) میں اپنے ساتھیوں، راج کمار سہگل اور مرزا عبد الرشید کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا تھا۔ طلبا کانگریس نئے انتخابات، نئی حکومت اور حق و انصا ف کی وکالت کر رہی تھی۔