جموں//وائس فاررائٹس (این جی او) نے خواتین سے متعلق قوانین کی بیداری عام کرنے کے مقصدسے ایک روزہ تربیتی پروگرام کاانعقاد کیاجس کامقصداعلیٰ سطح کی تربیت کے ذریعے پولیس آفیسران اورڈاکٹروں کوقوانین سے متعلق جانکاری دیناتھا۔اس دوران تربیتی پروگرام میں خواتین کے خلاف مظالم سے متعلق نئی اطلاعات، نئے نظریات اورسب سے زیادہ کامیاب رہی حکمت عملیوں کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی گئی۔پروگرام کاآغاز انورادھابھسین جموال ایڈیٹرکشمیرٹائمزگروپ آف پبلی کیشنزکی افتتاحی تقریرسے ہوا۔انہوں نے عصمت دری کی شکارخواتین کوانصاف کی فراہمی میں رکاوٹوں پرتشویش کااظہارکیا۔انہوں نے کہاکہ عصمت دری متاثرین کوانصاف کی عدم فراہمی میںسماجی برتاﺅ بھی ایک وجہ ہے ۔اندراجیسنگ ،پہلی خاتوین ایڈیشنل سویلسٹرجنرل آف انڈیا اورہیومن رائٹس وکیل نے کریمنل ایمنڈمنٹ ایکٹ 2013 کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی۔ انہوں نے نربھاکیس اورسپریم کورٹ کے فیصلہ جات پربھی روشنی ڈالی۔انہوں نے کہاکہ عصمت دری کے ملزمان کےلئے سزائے موت حل نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ معاشرے کی خوتین کے تئیں سوچ میںتبدیلی لانے سے ہی جرائم کاخاتمہ ہوسکتاہے۔انہوں نے کہاکہ وکلاءکی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ متاثرین کوانصاف دلانے کےلئے آگے آئیں۔نعیمہ مہجورچیئرپرسن جموں وکشمیروومن کمیشن سرینگرنعیمہ مہجورنے خواتین کے تحفظ کے بارے میں خیالات کااظہارکیا۔انہوں نے کہاکہ قوانین کوسختی کے ساتھ لاگوہوناناگزیرہے ۔انہوں نے وائس فاررائٹس کی اہم موضوع پربیداری پروگرام منعقدکرنے کےلئے سراہنا کی۔ڈاکٹرفریدہ غفور،پروفیسروہیڈڈیپارٹمنٹ آف فارینسک میڈیسن اینڈٹیکسکالوجی گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگرنے ”میڈیکولوجیکل ایسپکٹ آف ریپ ٹرائل “کے مختلف پہلوﺅں پرخیالات کااظہارکیا۔ سنگیتامدان سابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج گولیارہ ،سپریم کورٹ وکیل نے سیکشن 498-Aآرپی سی کے بارے میں جانکاری دی ۔انہوں نے کہاکہ کام والی جگہوں پر خواتین کی ہراسانی پربھی تبادلہ خیال کیا۔اس دوران چیئرپرسن ،وائس فاررائٹس ایڈوکیٹ دیپکاسنگھ راجاوت نے مقررین اورشرکاءکاشکریہ اداکیا۔اس دوران پروگرام میں گائناکولوجسٹس ، اورمیڈیکل آفیسر ان،پولیس اہلکاران،لاءطلبائ، صحافیوں اورانسانی حقوق کارکنان، ڈاکٹر سپنیت کور ،سبزازتشی، سٹوڈیٹ آف لاءکوآرڈی نیٹر،وائس فاررائٹس ،گوپال شرماکوآرڈیٹربھی موجودتھے۔