جموں//خطہ جموں میں طبی سہولیات برائے نام اورنہ ہونے کے برابرہیں اورحال ہی میں وزارت صحت وطبی تعلیم کاقلمدان سنبھالنے والے بھاجپاکے رکن اسمبلی ڈاکٹردویندرکمارمنیال جموں میڈیکل کالج اوردیگرطبی اداروں میں بہترطبی سہولیات کی فراہمی کویقینی بنانے کےلئے تاحال کچھ بھی نہیں کرسکے ہیں جس کی وجہ سے عام لوگوں بالخصوص مریضوں کی زندگی خطرے میں رہتی ہے اورعوام الناس دربدرٹھوکریں کھانے پرمجبورہیں اوران کی کوئی سنوائی نہیں ہورہی ہے۔اس کی مثال گذشتہ روزعلی الصبح 4 بجے سے 6.15 بجے تک جموں میڈیکل کالج کے الٹراساﺅنڈسنٹرکے بندرہنے سے دی جاسکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ رات لگ بھگ 2 بجے جموں میڈیکل کالج میں ایک خاتون کوثرزوجہ محمدلطیف قریشی جس کی طبیعت اچانک بگڑگئی تھی کوایمرجنسی لے جایاگیا جہاں پرڈاکٹروں نے آناًفاناً میں انجیکشن کودوائی کے ساتھ ملاکرلگادیا،اگرچہ انہیں یہ بتایاگیاتھاکہ خاتون کوپنٹاپ سے الرجی ہوتی ہے ۔جوں ہی انجیکشن لگایاگیاتوانجیکشن کے ری ایکشن کرنے سے مریضہ کی طبیعت کافی زیادہ خراب ہوگئی جس کی وجہ سے تیمارداروں کوکافی دقتوں کاسامناکرناپڑا۔ اس بارے میں محمدلطیف قریشی نے بتایاکہ صبح چاربجے سے چھ بجے تک ہسپتال میںالٹراساﺅنڈسنٹربندرہا،انہوں نے کہاکہ انجیکشن کے ری ایکشن کرنے کے بعدالٹراساﺅنڈکرواناضروری ہوگیاتھالیکن دوسے اڑھائی گھنٹے تک الٹراساﺅنڈنہیں ہوسکاکیونکہ اس دوران یہ الٹراساﺅنڈسنٹربندرہا ۔انہوں نے کہاکہ صبح چاربجے سے چھ بجے تک کوئی بھی کیجولٹی میڈیکل افسرجی ایم سی کی ایمرجنسی میں نہیں تھا محض ایک این اوتھاجوپرچیاں مارک کرنے کے ساتھ ساتھ دیگرکاموں کوبھی دیکھ رہاتھا ۔انہوں نے کہاکہ ہسپتال میں طبی سہولیا ت برائے نام ہیں اورمریضوں کی کوئی خاطرخواہ دیکھ بھال نہیں کی جاتی ہے۔انہوں نے نہ تورات کے وقت ڈاکٹرملتے ہیں اورنہ ہی الٹراساﺅنڈسنٹرکھلاہوتاہے جس کی وجہ سے مریضوں کی زندگی خطرے میں آتی ہے جس کی ذمہ داری محکمہ صحت کے وزیرپرعائدہوتی ہے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ جموں میڈیکل کالج کے نظام کوبہتربناکرلوگوں کوطبی سہولیات کوحقیقی معنوں میں فراہم کیاجائے اوراگرایسانہیں کیاگیاتونہ جانے کتنے مریضوں کی جانیں ہسپتال انتظامیہ کی غفلت کے سبب جاسکتی ہیں ۔ہسپتال میں زیرعلاج مختلف لوگوں نے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی سے پرزورمانگ کی ہے کہ ہسپتال کے طبی نظام کوچست درست کیاجائے تاکہ مریضوں کوبہترطبی سہولیات میسرہوسکیں۔