جموں//پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کے نائب صدر وریندرسنگھ سونونے ہندوستان اورپاکستان کے ڈی جی ایم اوزکی طرف سے سیزفائرکے معاہدے پرعملدرآمدکرنے کے اعلان کوخوش آئندقراردیتے ہوئے اسے مثبت پیش رفت سے تعبیرکیاہے۔ انہوں نے کہاکہ اس فیصلے سے سرحدوں کے قریب رہنے والے لوگوں کوراحت ملے گی۔یہاں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں پی ڈی پی کے نائب صدروریندرسنگھ سونو نے کہاکہ وسیع تفہیم کے لئے سرحدوں پر قیام امن پہلا ضروری قدم ہے اور مجھے یقین ہے کہ سرحدوں پر قیام امن قائم ہوگا‘۔سونو نے کہاہے کہ اس طرح کے مزیداعتمادبحالی کے اقدامات دونوں ممالک کواٹھانے چاہیئے تاکہ خطے میں امن بحال رہ سکے۔انہوں نے رمضان سیزفائرکی بھی ستائش کی۔اس دوران پریس کانفرنس میںگریش شرما، نیرج چندیل، سورن سنگھ سینٹی، پنکج گپتا، طالب حسیب،راجندرچب، نوین شرما، دیپک گپتا، ڈمپل آنندودیگران بھی موجودتھے۔واضح رہے کہ ہند و پاک کے ڈی جی ایم اوز نے چندروزپہلے ہاٹ لائن پر بات چیت کی جس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر عمل کرنے پر اتفاق ہوا۔ یہ بھی اتفاق ہوا ہے کہ دونوں ہی طرف مستقبل میں جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔ ہندوستانی فوج کے مطابق یہ بات چیت پاکستان کے فوجی آپریشن ڈائریکٹر جنرل کی پہل پر گذشتہ منگل کی شام چھ بجے ہوئی۔ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی تجویز رکھی گئی جسے ہندوستان نے قبول کرلیا۔ دونوں فریقوں نے طے کیا کہ کسی بھی مسائل کو ہاٹ لائن اور فلیگ میٹنگ جیسے بات چیت کے موجودہ ذرائع سے حل کیا جائے گا۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق جموں وکشمیر میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر رواں برس سرحدی شلنگ کی وجہ سے 44 لوگ مارے گئے جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے۔ مہلوکین میں 18 سیکورٹی فورس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ان اعداد وشمار کے مطابق اس سال اب تک پاکستان نے 1200 سے زائد بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان 1999 ءکے تنازعے کے بعد سنہ 2003 میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔ تاہم جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود سرحدوں پر فائرنگ کے واقعات پیش آتے رہے۔