کٹھوعہ // 8 سالوں سے عمارت کی مرمت نہ ہونے کی وجہ سے گورنمنٹ پرائمری اسکول دھنوئی کی خستہ حال عمارت طلباء کیلئے خطرے کاموجب بنی ہوئی ہے ۔خستہ حال عمارت طلباء کیلئے خوف کاسایہ بن کرکھنڈرکی مانندکھڑی ہے ۔مقامی لوگوں کے مطابق خستہ حال سکول عمارت میں چار درجن سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں لیکن عمارت منہدم ہونے کاخطرہ ہونے کے سبب بچے باہرکھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پرمجبورہیں۔ذرائع نے بتایاکہ اسکول کے کمروں کے اندر پتھروں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اورطلباء جائیں تو جائیں کہاں جائیں، اس سکول کے طلباء کیلئے نہ تو کھیل کے میدان ہے اورنہ بیٹھنے کی سہولت۔جسکے نتیجے میں یہاں درجنوں بچوں کا مستقبل تباہ ہو رہا ہے ۔عمارت کسی بھی وقت گرنے کا خطرہ لاحق ہے ۔اسکول کی عمارت خستہ حالت اور دیگر سہولیات کا بھی فقدان ہے ۔اسکول کی عمارت کی بنیاد 2008 میں رکھی گئی تھی اور تین کمروں پر اس عمارت کو قائم کیا گیا تھا۔ اسکول کی مرمت نہ ہونے کی وجہ سے عمارت خستہ حال بن گئی ہے اور سال 2010 میں تعمیر ہونے کے بعد اس سکول کی جانب محکمہ نے کوئی توجہ نہیں دی ۔اس اسلسلے میں سی ای او کٹھوعہ نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ عمارت کے فنڈ کی کمی کے سبب عمارت کی حالت ابتر بنی ہوئی ہے انہوں نے بتایا کہ 2.10 لاکھ رقم کی پراجیکٹ رپورٹ تیار کی گئی ہے جس کام جلد ہی شروع کر دیا جائے گا۔