اکھنور //بی جے پی کی جموں و کشمیر ریاست عاملہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش سیاسی قرارداد پر بحث کو ختم کرتے ہوئے مرکز کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کانگریس اورنیشنل کانفرنس (این سی) پر الزام لگایا ہے کہ دونوں پارٹیاںجموں کی عوام کی بہبودی کے بجائے اپنی بہبودی کی طرف زیادہ توجہ مرکوز کررہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے یہاں تک کہ جموں خطہ میں پارٹی کی موجودگی انتہائی مایوس کن ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جمہوری نظام میں ہرایک سیاسی کارکن کو کونسلریاکارپوریٹر بنتے کی خواہش رکھنے کاحق حاصل ہے لیکن یہ پارٹیوں اپنی نجی مفادکے خاطر جمہوری اورآزادنہ حقوق کی آواز کوسلب کررہے ہیں ۔ ڈاکٹرسنگھ نے تمام امیدواروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی آواز کو کمزورنہ کریں اپنی قسمت آزمائی کےلئے پنچایتی اوربلدیاتی انتخابات میںحصہ لے لیں۔ انہوںنے عوام کی فلاح وبہبود کےلئے کام کرنے کےلئے بی جے پی کی حمایت دینے کی بھی اپیل کی ۔ایک سنگین حملے میں، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس حکمران خاندانی خود مختاری چاہتا ہے، لیکن منتخب ہوئے پنچایتوں کے لئے نہیں، جبکہ کانگریس آئین کے 73 ویں آئینی ترمیم کو لاگو کرنے کے لئے تیار نہیں ہے جس کو راجیو گاندھی نے ہی آئین میں لایا ہے۔آرٹیکل 35 اے پر براہ راست تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے اکٹر جتندر سنگھ نے کہا کہ ماضی میں کم از کم تین وزیر اعلیٰ رہے ہیں، ان میں سے سب وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا، صنفی امتیاز کا مسئلہ کسی خاص مذہب یا علاقے تک محدود نہیں ہے، لیکن وادی کشمیر میں رہنے والے تمام مذاہب اور تمام علاقوں کی خواتین کو یکساں طور پر اور منفی طور پر متاثر کیا گیا ہے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے دعویٰ کیا کہ صرف چار برسوں میں نریندرمودی کی قیادت میں مرکزی حکومت نے جموں سمیت ریاست کے لئے بہت کچھ کیا ہے، کانگریس اور اس کے شراکت داروں کی قیادت والی دیگر حکومتوں نے گزشتہ 65 سالوں میں کیا کیا ہے ، وہ سب کی نظروں سے اوجھل نہیں ہے۔انہوں نے کہا، اس سال کے ماہ ستمبر سے چار قومی سطح کے پروجیکٹوں کو حتمی شکل دیدی گئی جوکہ گزشتہ 40 برسوں سے زیرالتوا میںپڑے تھے ۔انہوںنے شاہپور کنڈی دھام اور اُجھ ملٹی پرپرز پرو جیکٹوں کے علاوہ کٹھوعہ میں سیڈ پروسیسنگ پلانٹ کابھی حوالہ دیا ہے۔