جموں// سیکرٹری سماجی بہبود ڈاکٹر فاروق احمد لون نے یہاں ایک میٹنگ کے دوران ایم ڈبلیو پی ایس سی ایکٹ 2014کی عمل آوری کا جائزہ لیا۔ایکٹ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بزرگ شہریوں اور والدین کی بہبودی کو یقینی بنایا جائے اور اولڈ ایج ہومز کے قیام کے ساتھ ساتھ بزرگ شہریوں کیلئے ویلفئیر فنڈ وجود میں لایا جا سکے ۔ ایکٹ کی بدولت منٹینس ٹربیونل ، اپلیٹ ٹربیونل ، سٹیٹ ایڈوائیزری کونسل اور کنسلیشن افسروں کی تشکیل بھی ممکن ہو سکے گی تا کہ بزرگ شہریوں کے مسائل کو حل کیا جا سکے ۔ میٹنگ کے دوران سیکرٹری سٹیٹ سوشل ویلفیئر بورڈ ڈاکٹر خالد حسین ملک نے جانکاری دی کہ منٹینس اینڈ اپلیٹ ٹربیونل کے قیام سے متعلق منصوبے انتظامی محکمے نے خزانہ محکمہ کو بھیج دیا ہے اس موقعہ پر فیصلہ لیا گیا کہ کنسلیشن افسروں کی باضابطہ تعیناتی تک متعلقہ سی ڈی پی او کو اپنے اپنے علاقوں مین کنسلیشن افسروں کے طور پر نامزد کیا جائے گا جبکہ ڈسٹرکٹ سوشل ویلفئیر افسروں کو متعلقہ علاقوں کے منٹینس افسروں کے طور پر نامزد کیا جائے گا ۔ میٹنگ میں سٹیٹ ایڈوائیزری کونسل اور ڈسٹرکٹ کمیٹیوں کی تشکیل کے خدو خال کا بھی جائیزہ لیا گیا تا کہ ایکٹ کی موثر عمل آوری ممکن ہو سکے۔ سیکرٹری موصوف نے کہا کہ ایکٹ کو من و عن عملایا جانا چاہئیے تا کہ معزز شہریوں کو فائدہ مل سکے ۔انہوں نے کہا کہ جموں میں 9.73کروڑ روپے کی لاگت سے ایک اولڈ ایج ہوم قائم کیا جارہا ہے اور تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں کو ہدایت د ی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں اس طرح کے ہومز تعمیر کرنے کے لئے اراضی کی نشاندہی کریں۔میٹنگ میں معزز شہریوں کیلئے ویلفئیر فنڈ قایم کرنے کے خدو خال پر بھی تبادلہ خیال ہوا تا کہ ان شہریوں کی بہبودی کو یقینی بنایا جا سکے اور اُن کی طبی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ اس موقعہ پر پنشنر انجمنوں کے نمائندوں نے اپنے اپنے مطالبات سیکرٹری موصوف کے سامنے رکھے جنہوں نے ان پر ہمدردانہ غور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔دیگر لوگوں کے علاوہ کمشنر ڈس ابیلٹیز محمد اقبال لون ، ڈائریکٹر سماجی بہبود جموں ڈاکٹر بھارت بھوشن بھی موجود تھے۔