’’ خیالات و احساسات کی افادیت جانچنے کے لیے کوئی مجرد اور مطلق معیار کام نہیں دے گا بلکہ ان کا صرف ایک پیمانہ ہے کہ یہ خیالات نسل انسانی کی بقا میں کس حد تک معاون ہوسکتے ہیں؟“
ساحر ؔکی طویل نظم ’پرچھائیاں‘ پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ساحر کے خیالات نسل انسانی کی بقا کے لیے نہایت مفید اور معاون ہیں۔ خود ساحر نے لکھا ہے کہ:
”ہر نوجوان نسل کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ا سے جو دنیا اپنے بزرگوں سے ورثے میں ملی ہے، وہ آئندہ نسلوں کو اس سے بہتراور خوب صورت دنیا دے کر جائے۔ میری یہ نظم اس کوشش کا ادبی روپ ہے۔“
نسل انسانی کی بقاکا شدید احساس نہ ہوتا تو ساحر یوں نہ کہتے:
ہمارا خون امانت ہے نسل نو کے لیے
ہمارے خون پہ لشکر نہ پل سکیں گے کبھی
کہو کہ آج بھی ہم سب اگر خموش رہے
تو اس دمکتے ہوئے خاکداں کی خیر نہیں
جنوں کی ڈھال ہوئی ایٹمی بلاؤں سے
زمیں کی خیر نہیں، آسماں کی خیر نہیں
گزشتہ جنگ میں گھر ہی جلے مگر اس بار
عجب نہیں کہ یہ تنہائیاں بھی جل جائیں
گزشتہ جنگ میں پیکر جلے مگر اس بار
عجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیں
اسی خوف نے ساحر کو خواب بننے کے لیے مہمیز کیا:
آؤ کہ کوئی خواب بنیں، کل کے واسطے
ورنہ یہ رات، آج کے سنگین دور کی
ڈس لے گی جان و دل کو کچھ ایسے کہ جان و دل
تاعمر پھر نہ کوئی حسیں خواب بن سکیں
خوف اور خواب کی کشمکش نے ساحر کی شاعری کو ایک نیا زاویہ عطا کیا ہے او ر یہ بھی ساحر کا ’نشان انفراد‘ ہے۔
~قول ثالث بھی ساحر کی عظمت کے گراف کو بلند کرتا ہے کیوں کہ ساحر کی شاعری ’ عرفانِ حقیقت‘میں بھی معاون ہے۔ ساحر نے جس طرح حقیقتوں کا عرفان حاصل کیا ہے، ویسا بہت کم شاعروں کو نصیب ہوا ہے۔ ساحر نے حقائق کو متقارب اور متعارض دونوں صورتو ںمیں محسوس کیا ہے کہ یہ کائنات بنیادی طور پر متضادات، متعادیات اور متبائنات کا مجموعہ ہے۔ حقیقتیں بھی متضاد شکلوں میں منکشف ہوتی ہیں۔ ساحر نے حیات و کائنات کی حقیقتوں کی جستجو کی ہے اور پھر متضاد حقیقتوں کے امتزاج سے ایک تصور کو تشکیل کیا ہے۔ ظلمت میں نور، سادگی میں عیاری ، جنگ میں امن، محبت میں نفرت، اور اس طرح کے تنوع و تضاد سے شعری تعبیرات تلاش کی ہیں۔
عرفان حقیقت کا عکس ساحر کی بہت سی نظموں میں ہے اور یہ سچ ہے کہ ساحر کی نگاہ میں حقیقت زیادہ واضح انداز میں روشن ہوئی ہے۔بغیر کسی ابہام و اسہال کے:
علم سولی پہ چڑھاتب کہیں تخمینہ بنا
زہر صدیوں نے پیا تب کہیں نوشینہ بنا
سینکڑوں پاؤں کٹے تب کہیں اک زینہ بنا
۰۰۰
مرے جہاں میں سمن زار ڈھونڈنے والے
یہاں بہار نہیں آتشیں بگولے میں
دھنک کے رنگ نہیں سرمئی فضاؤں میں
افق سے تا بہ افق پھانسیوں کے جھولے ہیں
۰۰۰
بنام امن ہیں جنگ و جدل کے منصوبے
بہ شور عدل، تفاوت کے کارخانے ہیں
ساحر نے فلسفہ کی پرپیچ راہوں میں الجھے بغیر حقیقت کا عرفان حاصل کیا اور اسے اپنے شعری احساس و آہنگ میں شامل کرکے ان انسانوں کو حیات و کائنات کے اسرار سے آشنا کیا جن کے لیے ’عرفان حقیقت‘ کی منزل شاید ہی کبھی روشن ہوپاتی۔ ساحر نے حیات و کائنات کی کلیت میں حقیقت کو تلاش کرلیا اور حقیقت بس اتنی سی ہے کہ :
راستہ منزل ہستی کا مہیب آج بھی ہے
ساحر نے نہ صرف منزل ہستی کا راستہ دریافت کیا بلکہ انسانوں کے داخلی مسائل کا حل بھی ڈ ھونڈ نکالا کہ:
”زندگی کے خارجی مسائل کا حل شاعری نہیں لیکن وہ داخلی مسائل کا حل ضرور ہے — فراق گورکھپوری۔
ساحرؔ لدھیانوی کی شاعری میں انسانی وجود کو داخلی بحران کی تمام تر شکلوں سے آگاہ کرنے او ران سے نجات دلانے کی کوشش کار فرما ہے۔ اے شریف انسانو! ،خون پھر خون ہے، مگر ظلم کے خلاف، ایسی ہی نظمیں ہیں جن میں ساحر نے انسانیت سے ہم آہنگ ادب کی تشکیل کی ہے اور انفرادیت پر اجتماعیت کو ترجیح دی ہے اور یہی ’اجتماعیت‘ کا انفرادی تصور ان کی تخلیقی عظمت کا ایک اور روشن حوالہ بن جاتا ہے۔
چوتھا قول بھی ساحر کو تخلیقی انبوہ میں ایک نوع کا امتیاز عطا کرتا ہے کہ ساحر کی شاعری میں بھی آفاق سے زیادہ انفس کا عنصر غالب ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں اس انسانی روح کی شناخت کی ہے جو حد درجہ مضطرب اور ملہتب ہے۔ انسانی روح کی دریافت کا عمل بہت مشکل ہوتا ہے مگر ساحر نے اس روح تک رسائی حاصل کی اور اس کے اضطرابات اور ہیجانات سے انسان کو روشناس کرایا۔ ’چکلے‘ ایسی ہی ایک نظم ہے جس میں انسانی روح کی کراہ صاف سنائی دیتی ہے۔ ساحر نے ایک ’مجرد جسم‘ کو روح کی آنکھ سے دیکھا ہے اور اپنے روحانی کرب کا اظہار استفہامیہ انداز میں کر کے انسانی ذہن، ضمیر کو بھی جھنجھوڑا ہے۔
یہ پرپیچ گلیاں یہ بے خواب بازار
یہ گمنام راہی یہ سکوں کی جھنکار
یہ عصمت کے سودے یہ سودوں پہ تکرار
ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں؟
تعفن سے پر نیم روشن یہ گلیاں
یہ مسلی ہوئی ادھ کھلی زرد کلیاں
یہ بکتی ہوئی کھوکلی رنگ رلیاں
ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں؟
وہ اجلے دریچوں میں پائل کی چھن چھن
تنفس کی الجھن پہ طبلے کی دھن دھن
یہ بے روح کمروں میں کھانسی کی ٹھَن ٹھَن
ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں؟
”کھانسی کی ٹھَن ٹھَن “بےمار انسانی روح کی علامت ہے۔ اخلاقی روحانی قدروں کا زوال ہوتا ہے تو صرف اور صرف انسانی وجود میں کھانسی کی ٹھَن ٹھَن رہ جاتی ہے اور ساحر کو پورے انسانی معاشرے میں ٹھَن ٹھَن پہ ٹھَن ٹھَن کی آواز سے وحشت ہونے لگتی ہے۔ ساحر نے اس نظم میں اس روح کی تشخیص کی ہے جسے بازار نے جسم محض میں تبدیل کردیا ہے۔نظم کے ایک ایک بند میں روح کے کرب کی لہر نمایاں ہے۔ جب کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ ’چکلے‘ جیسے موضوع پر ساحر کی یہ کوئی بالکل نئی نظم ہو۔ یہ موضوع ادب کے لیے ماءمستعمل ہے مگر ساحر نے اس ’مستعمل‘ میں بھی احساس و اظہار کے امتزاج سے ایک نئی معنویت پیدا کردی ہے۔ کیفی اعظمی کا یہ خیال بھی اس نظم کی انفرادیت کا اعتراف ہی ہے۔ساحر نے ثنا خوان تقدیس مشرق کو جس شدت سے ، جس نفرت اور خلوص سے جھنجھوڑا ہے اس کی مثال مجھے دوسرے فن پاروں میں نہیں ملتی۔ چکلے میں ساحر کی غیریت، اس کی روح، اس کے احساس کی تلملاہٹ، بلندی کے انتہائی نقطے پر نظر آتی ہے۔ اس کے لہجے کی مخصوص افسردگی یہاں ایک بے پناہ بہاؤ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔‘‘اس موضوع نے اگر ساحر کی روح کو مرتعش نہیں کیا ہوتا تو شاید یہ نظم وجود ہی میں نہ آتی۔ اگر آ بھی جاتی تو اتنی شدت اور تاثیر کے ساتھ نہ آتی۔ ساحر نے ہمیشہ وہی کچھ لکھا ہے جس نے ان کے ذہن، جذبہ کو ہی نہیں بلکہ پورے وجود میں تحریک پیدا کی۔ ساحر کی بےشترنظموں میں ان کی روح کا ارتعاش نظر آتا ہے اور یہ ارتعاش، ان کا نقطہ امتیاز ہے ؎
لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں
روح بھی ہوتی ہے اس میں یہ کہاں سوچتے ہیں
روح کیا ہوتی ہے اس سے انہیں مطلب ہی نہیں
وہ تو بس تن کے تقاضوں کا کہا مانتے ہیں
ساحرؔ انسانی روح کے رمز و ایماسے آگاہ تھے۔ اسی لیے تخلیق کی اصل روح کی عظمت کو منہدم ہوتے ہوئے دیکھنا انہیں گوارہ نہ تھا۔ ’روح‘ کو بازار میں بدلتے دیکھ کر ان کی برگشتگی بڑھ جاتی تھی۔ مرد معاشرے نے جب روح کے حقیقی جوہر کو مسلنے کی مسلسل کوششیں کیں تو ساحر کا غصہ آتش فشاں کی طرح پھوٹ پڑا۔ اس غصہ میں ’روح‘ کی بازدید کا نیک عمل پوشیدہ ہے ؎
مردوں نے بنائیں جو رسمیں ان کو حق کا فرمان کہا ؎
عورت کے زندہ جلنے کو قربانی اور بلیدان کہا
عصمت کے بدلے روٹی دی اور اس کو بھی احسان کہا
عورت نے جنم دیا مردوں کو، مردوں نے اسے بازار دیا
عورت انسانی روح کی اساس ہے ، اس سے انحراف انسانی کائنا ت کو شدید اخلاقی بحران اور انتشار میں مبتلا کرسکتا ہے۔ساحر نے اپنی فکر میں انفس، کو اولیت دی ہے اسی لیے ان کے شعروں میں جسم سے زیادہ روح کی بازگشت سنائی دےتی ہے۔انسانی روح کے زخموں کے احساس نے ساحر کو سراپا التہاب بنادیا تھا، ان کے پورے ذہنی وجود کو ’انگارے‘ میں تبدیل کردیا تھا، اسی لیے انہوں نے انسانی روح کی سا لمیت اور بقا کے لیے آتشیں نظمیں لکھیں، انقلابی شعر کہے اور ہر اس احساس پر کاری ضرب لگائی جس سے انسانوں کی زبونی اور زوال میں اضافہ ہو۔فرقہ وارانہ فسادات اور جنگ میں سب سے زیادہ زخم انسانی روح جھیلتی ہے۔ ساحر نے روح کی گہرائی میں اترکر ہی ایسے شعر کہے ہیں ؎
طرب زاروں پر کیا بیتی صنم خانوں پہ کیا گزری
دل زندہ ترے مرحوم ارمانوں پہ کیا گزری
زمیں نے خون اگلا آسماں نے آگ برسائی
جب انسانوں کے دل بدلے تو انسانوں پہ کیا گزری
یہ منظر کون سا منظر ہے، پہچانا نہیں جاتا
سیہ خانوں سے کچھ پوچھو شبستانوں پہ کیا گزری
چلو وہ کفر کے گھر سے سلامت آگئے لیکن
خدا کی مملکت میں سوختہ جانوں پہ کیا گزری
ساحرؔ کا ایک ایک شعر دل میں نشتر بن کر چبھتاہے۔ شاعری میں کرب کی وہی ساری کیفیت اتر آئی ہے جس سے فسادات میں لوگ گزرتے رہتے ہیں، اس کیفیت کا انعکاس اس سے بہتر طور پر شاید ممکن نہ ہو۔ پروفیسرنظیر صدیقی کا بھی یہی خیال ہے:”فسادات پر نظم و نثر دونوں میں بہت کچھ لکھا گیا لیکن ان میں سے بہت کم چیزیں زندہ رہ سکیں یا رہیں گی۔ خود ساحر نے فسادات پر نظمیں اور غزلیں لکھی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ فسادات پر لکھی جانے والی شاعری میں ساحر کی یہ غزل :
طرب زاروں پہ کیا بیتی صنم خانوں پہ کیا گزری
دل زندہ ترے مرحوم ارمانوں پہ کیا گزری
کامیاب ترین غزلوں میں سے ہے اور اس کے چھ شعروں میں ہر شعر جو زبان زد خاص وعام ہے ، بہت ممکن ہے کل بھی زندہ رہے“
ایک اور نظم ہے جس میں انسانی روح کی آواز ہے، لَے ہے، فریاد ہے۔ یہ ایک ایسا تخیل ہے کہ تیرہ و تاریک ذہن میں یہ جنم ہی نہیں لے سکتا، انسانیت سے عاری ذہنوں میں ایسے احساس و آہنگ کے لیے کوئی جگہ ہی نہیں ہوتی۔ نظم کا عنوان ہے ’اے شریف انسانو!‘ اور اس کاآغاز یوں ہوتا ہے:
خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسل آدم کا خون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں
امن عالم کا خون ہے آخر
بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر
روح تعمیر زخم کھاتی ہے
کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے
زیست فاقوں سے تلملاتی ہے
ٹینگ آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں
کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے
فتح کاجشن ہو کہ ہار کاسوگ
زندگی میتوں پہ روتی ہے
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی
اس لیے اے شریف انسانو!
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں
شمع جلتی رہے تو بہتر ہے
آؤ اس تیرہ بخت دنیا میں
فکر کی روشنی کو عام کریں
امن کو جن سے تقویت پہنچے
ایسی جنگوں کا اہتمام کریں
جنگ وحشت سے بربریت سے
امن، تہذیب و ارتقاءکے لیے
جنگ مرگ آفریں سیاست سے
امن، انسان کی بقاءکے لیے
جنگ، افلاس اور غلامی سے
امن، بہتر نظام کی خاطر
جنگ بھٹکی ہوئی قیادت سے
امن، بے بس عوام کی خاطر
جنگ، سرمائے کے تسلط سے
امن، جمہور کی خوشی کے لیے
جنگ، جنگوں کے فلسفے کے خلاف
امن، پرامن زندگی کے لیے
ساحر کو انسانی روح کا حقیقی عرفان ہے اسی لیے ان کی شاعری روح کی آزادی کا نغمہ ہے۔ وہ ہر اس زنجیر کو توڑ دینا چاہتے تھے جس سے انسانی ذہن، ضمیر اور روح غلام بن جائے۔ان کے اشعار میں اقتصادی، سیاسی، سماجی آزادی اور مساوات کے جذبے ملتے ہیں۔
(بقیہ سنیچر کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)