انقلاب اسلامی ایران کے رہبر کبیر حضرت امام خمینیؒ نے اس چیز کے پیش نظر کہ اتحاد قدرت اور ترقی کا باعث ہے اور تفرقہ انتشار ، سستی اور پسماندگی کی وجہ ہے، انہوں نےیو م قدس کا اعلان کر کے مسلمانان ِ عالم میں تحرک پیدا کیا ۔گزشتہ تین دہائیوں سے امت مسلمہ اس دن کو دنیائے اسلام میں اتحاد پیدا کرنے کی ایک ٹھوس کاوش کے طور لیتی ہے اورعالمی صہیونزم کے نحس کا مقابلہ کرنے کی خاطر اس دن کو منعقد کرنے کا خاص اہتمام کرتی ہے تا کہ دنیائے اسلام میں اتحاد قائم ودائم ہو اورا سی کے ذریعے فلسطین کی آزادی کا خواب پورا ہو ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قدس شریف وحی کی حامل اور اسلامی نگاہ میں مسجد الاقصی کی وجہ سےغیر معمولی قدر و قیمت کا حامل ہے ۔قدس شریف کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ یہ مقدس سر زمین انبیائےکرام ؑکی جائے سکونت اور ان کی بعثت کی جگہ ،مسلمانوں کا پہلا قبلہ اور پیغمبر اعظم ؐ کے آسمانی معراج کی جانب تشریف لے جانے کا نقطہ ٔ آغاز ہے ۔ بیت المقدس یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے بھی دینی اور مذہبی لحاظ سے خاصی اہمیت رکھتا ہے ۔قدس شریف ایک مقدس شہر ہے کہ عمرؓ بن عاص بن وائل نے صدر اسلام میں اس کو فتح کیا تھا اور صلاح الدین ایوبی نے ۱۱۸۷ ھ میں اس کو صلیبیوں کے چنگل سے آزاد کروایا تھا، سلیمان قانونی نے سولہویں صدی میں اس کی دیواریں تعمیر کی تھیں ۔ یہ شہر مسلمانوں کے نزدیک کلیدی اہمیت کا حامل ہے ۔ قبۃ الصخرۃ اور مسجد الاقصی دو ایسے تقدس مآب س مقامات ہیں جو اس شہر میں ہیں ۔
۱۹۶۷ میں جب سے قدس شریف پر صہیونیوں نے قبضہ کیا ہے ،اس کو اسرائیل کا دائمی پائے تخت ہونے اعلان کر دیا ۔ تمام نظریں قدس پر جمی ہوئی ہیں اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے دل اس پر ٹکے ہوئے ہیں ۔اسی وجہ سے یہودی اس کوشش میں ہیں کہ اپنے لیے ایک تاریخ بنائیں اور انہوں نے اپنی پوری کوشش قدس کو یہودی بنانے پر متمرکز کر رکھی ہے ۔ اس کی اصل اہمیت اس اعتبار سے ہے کہ یہ تین آسمانی ادیان ،اسلام ،عیسائیت اور یہودیت کا مسلمہ مرکز ہے ۔ یہ وہ مشترکہ نقطہ ہے جو دوسرے ادیان اور مذاہب سے مختلف ہے ۔ خداوند عالم نے مسجدالاقصیٰ شہر کا انتخاب کیا ہے کہ یہ تین آسمانی ادیان کے اتصال کا مرکز بن جائے لیکن اس کو یہودی بنانا اور اس میں یہودیوں کے رہائشی شہر تعمیر کرنا اور اسلامی اور وحانی آثار مٹانے کی سیاست اسرائیلی حکومت کی وسعت طلبی اور نسل پرستی کی سیاست اس شہر کی ماہیت اور اس کے تقدس مآبی کے ساتھ متضاد اور متعارض ہے ۔قدس شریف اور فلسطین پر قبضہ کیے ہوئے چھ دہائیوں سےزیادہ گزر چکی ہیں ۔عرب حکومتوں نے ابتدائی مقابلے اور اقدامات کے بعد اور غاصب اسرائیلی حکومت کے چھ روزہ جنگ میں عربوں کی شکست کے بعد کہ جس میں مصر ، شام اور لبنان کے کچھ علاقوں پر صہیونیوں کا قبضہ ہو گیا تھا ۔
صہیونی پہلے تو اس شہر کو مذہبی اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔جس زمانے میں دیگر ملکوں جیسے یوگینڈا ، سیبری ، یا اتریش میں دنیا کے یہودیوں کے لیے اسرائیل کی غاصب حکومت کی تاسیس کی بات چلی تو اس کو رد کر دیا گیا ،اس لیے کہ یہودیوں کی عالمی تنظیم نے محسوس کیا کہ یہودیوں کو کسی ایک ملک میں جمع کرنے کا واحد راستہ صرف مذہبی مسئلہ ہے ۔ اسی لیے انہوں نے فلسطین پر اصرار کیا ،نہ کہ اس اعتبار سے کہ وہ فلسطین کی سر زمین کو دوست رکھتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ قدس پر غلبہ حاصل کریں کیونکہ قدس یہودیوں کے لیے ایک مذہبی محرک ہے ۔اگر چہ صہیونی تحریک کے رہنما اور خود تحریک بے دین اور لا مذہب تھی لیکن انہوں نے محسوس کیا کہ یہودیوں کے یکجا کرنے کا واحد راستہ قدس ہے، اسی بنا پر انہوں نے طے کیا کہ یہودی حکومت اس ملک میں ایجاد کی جائے ۔ عالم ِ کفر کی یہ سازش ایسی حالت میں رچائی گئی کہ برطانیہ کے مفاد اور منافع بھی اس کی تخلیق کے ساتھ وابستہ تھے ۔ صہیونیوں کے لیے قدس کی اہمیت کو صہیونی حکومت کے پہلے وزیر اعظم بن گورین کے اس مشہور جملے سے جانی جا سکتی ہے کہ اسرائیل کا قدس کے بغیر اور قدس کا ہیکل سلیمانی کے بغیر کوئی وجود نہیں ہے اور یہ تینوں ایک دوسرے کے بغیر بے معنی ہیں ۔ بنا بریں قدس میں صہیونی اس کی یہودی طرز پر تعمیر کے لیے ہاتھ پیر مار رہے ہیں اورامریکہ قدس اور اس کے اطراف کی زمینیں غصب کر نے میںیہودیوںکا کھلے عام مددگار ہے، چناںچہ واشنگٹن نے اپنا سفارت خانہ بھی کچھ ماہ قبل اسی شہر میں منتقل کیا ۔
قدس فلسطین کی نشانیٔ عظمت اور علامتِ عروج ہے ، یہ جہان اسلام کے اتحاد کا محور ہے مگر افسوس کہ یہودیوں نے اس مقدس شہر پر قابض ہیں ۔صہیونیوں نے بارہا اعلان کیا ہے کہ اسرائیل قدس کے بغیر اور قدس اسرائیل کے بغیر بے معنی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ قدس شریف سب سے پہلے تو اسلام سے متعلق ہے اور مسلمانوں کے لیے مذہبی اور حیاتی اہمیت کا حامل ہے ،اس لیے کہ مسلم دنیا قدس اور اس کے مذہبی مفہوم واہمیت کے گرد مجتمع ہیں ۔مسلمان قدس کے سلسلے میں اپنے مذہبی، اعتقادی اور دینی اصول سے صرف نظر نہیں کر سکتے کہ بندھے ہاتھوں اسے یہودیوں کے حوالے کر دیں تا کہ وہ یہاںجو چاہیں کرگزریں ۔ اگر بالفرض اسے یہودیوں کے اختیار میں دیا جائے توو وہ خود کو قدس یا فلسطین تک محدود نہیں رکھیں گے بلکہ صہیونیوں کا شیطانی منصوبہ قدس اور فلسطین تک محدود نہیں ہے ،وہ پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی مملکت میں شامل کرنا چا ہتے ہیں ۔اس مسئلے کی نقطہ رسی اور قدس کا مسلمانوں کے واسطے کلیدی حیثیت کا فہم وادراک کرتے ہوئے اما م خمینیؒ اور آپ کے زیر سایہ حکومت ِایران نے ابتدا سے ہی مستضعفین خاص کر فلسطینی عوام اور قدس شریف کے دفاع کو اسلام کا ایک اہم اور ناقابل التوا لائحہ عمل مقرر کیا ۔ ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعے کو عالمی یوم قدس اور فلسطین کے کاز کے دفاع کا دن قرار دینے کا پس منظر یہ ملّی درد مندی کا اظہار ہے۔ امام خمینی کی ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعے کوعالمی یوم قدس کا نام دینے کے بے نظیر اقدام نے دنیا والوں اور صہیونی حکومت ، اس کے مغربی حاشیہ برداروں کو صاف بتا دیا کہ اس کے بعد نہ قدس اور نہ فلسطین اور نہ دنیا کا کوئی مظلوم خود کو تن تنہا سمجھے ۔
یوم قدس ایک ایسی ناگفتہ بہ حالت میں منعقد ہو رہا ہے کہ جب مشرق وسطیٰ اور مسلم دنیا کے حالات ناگفتہ بہ ہیں ۔ عالمی صہیونزم اور سامراجی نظام سے وابستہ طاقتیں بہت سارے مسلم ممالک سازشوں کی تختہ ٔ مشق ہو رہی ہیں اور ایسی گھمبیر فضامیں مقبوضہ فلسطین کو غاصب وقابض اسرائیل سے کیسے آزاد کرنے کا حق اداکیاجائے ، یوم قدس اسی احساس کو دل وجان میں جاگزیں کر نے کا نام ہے ۔اس کی ابتدا کر کے آیت اللہ روح اللہ امام خمینیؒ نے ایک تاریخ ساز رول نبھایا۔ صہیونی حکومت اس وقت سخت مقبوضہ فلسطین کی سر حدوں کے اندر اہل فلسطین کی شدید مزاحمت کا سامنا کر رہی ہے ۔ مجموعی طور دنیائے اسلام کی فضا قدس کی آزادی دوبارہ یقینی بنانے کے لیے تمام مسلمانوںکو اس کے لئے اپنی آواز بلند کر نی چاہیے تاکہ اصل مقصد کے حصول کی راہ ہموار ہو ۔ یوں بلاشبہ امام کی جو عمر کے آخری دنوں میں فکر اور آرزو دامن گیرتھی کہ قدس آزاد ہو جائے ،وہ ممکن العمل بنے اور عالم اسلام اتحاد کی لڑی میں پرویا جائے ۔