بھارتی پارلیمانی انتخابات 2019ء کے انتخابات کے نتائج کے حصول کے بعد بھارت کے اندر و باہر کئی نامور مبصر اِن خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ کہیں یہ نتائج بھارت کی سیکولر ڈیموکریسی کی موت ثابت نہ ہو؟ اِن خدشات کا اظہار اسلئے کیا جا رہا ہے کہ بھاجپا نے یہ انتخابات ہندتوا کے نظریے کو سامنے رکھ کے لڑے۔ہندتوا کے نظریے کے مطابق بھارتی کے اکثریتی فرقے کو مملکتی امور میں فوقیت حاصل رہے گی جبکہ اقلیتی فرقوں کیلئے دوسری درجے کے شہری بننے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ بھاجپا کو سنگھ پریوار کا سیاسی انگ مانا جاتا ہے۔سنگھ پریوار کا سرغنہ راشٹریہ سیوک سنگھ ہے جسے عرف عام میں آر ایس ایس (RSS)کہا جاتا ہے۔بھاجپا کے علاوہ آر ایس ایس کے کئی اور انگ ہیں جیسے کہ ویشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل جن کا اعتقاد ہندو بالا دستی پہ قائم ہے۔ ہندو بالا دستی ہندوتوا کا بنیادی تصور ہے۔اِس تصور کے مطابق بھارت کے سبھی شہری ہندو ہیں بھلے ہی اُنکا مذہب کچھ بھی ہو۔ یہ نظریہ کلچرل نیشنلزم یعنی ثقافتی وطن پرستی سے جڑا ہوا ہے جہاں مذہب،ثقافت اور وطن پرستی ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوئے نظر آتے ہیں۔تشریح کے طور پہ کہا جا سکتا ہے کہ مذہب، ثقافت او ر وطن پرستی جداگانہ تصورات نہیں بلکہ منجملہ ایک ہی تصور ہے۔اِس کا یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ بھلے ہی آپ مسلمان ہوں یا عیسائی ہوں یا کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں آپ بنیادی طور پہ ہندو ہیںچونکہ آپ بھارت میں رہتے ہیں جہاں کا مذہب،کلچر اور وطن پرستی ایک ہی دھارا سے جڑے ہوئے ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ تصور بھارت کے قانون اساسی سے میل نہیں کھاتاجسے پرکھنے کی ضروت ہے۔
1947ء میں آزادی کے حصول کے بعد بھارت نے اپنے قانون اساسی میں ملکی لائحہ عمل کیلئے سیکولر ڈیموکریسی کا راستہ چنا۔ بھارت کے قانون اساسی کی تشکیل میں بیم راؤ رام جی امبیدکر (1891-1956) کو کلیدی حثیت حاصل رہی۔ بیم راؤ رام جی امبیدکر کو عرف عام میں بابا صاحب امبیدکر کہا جاتا ہے اور وہ بھارت کی نیچی ذات کے شہری تھے جنہیں دلت کہا جاتا ہے۔ بابا صاحب ماہر قانون تھے ۔ ہندو دھرم میں عزت و آبرو کا مقام نہ پانے پہ اُنہوں نے اپنے ساتھیوں سمیت بدھ دھرم اختیار کیا۔امبیدکر کے سیکولر ڈیموکریسی کے تصور کو بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی تائید حاصل ہوئی ۔موہن داس کرم چند گاندھی کے بعد جواہر لال نہرو کانگریس پارٹی کے سب سے بڑے لیڈر کے روپ میں اُبھر آئے۔گاندھی نے اُنہیں اپنا جانشین چنا تھا اور عوام الناس میں اُنہیں کافی محبوبیت حاصل تھی لہذا سیکولر ڈیموکریسی کے حق میں اُن کی تائید نے اِس نظریے کو قانون اساسی میں جگہ بنانے کے قابل بنایا۔جواہر لال نہرو کے ارد گرد کی کانگریسی لیڈرشپ پہ نظر ڈالی جائی تو کہا جا سکتا ہے کہ 1947ء کے بعد قانون اساسی میں سیکولر ڈیموکریسی کے نظریے کو اپنانے میں ہمہ گیر تائید حاصل نہیں تھی۔ بھارت کے ڈپٹی پرائم منسٹر سردار پٹیل کے اَس نظریے کے بارے میں اپنے خدشات تھے ۔وہ نجی محفلوں میں پرائم منسٹر نہرو کو مولانا نہرو کہنے سے نہیں چوکتے تھے جس کا یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ وہ نہرو کو پنڈت سے زیادہ مولانا مانتے تھے۔ نظریاتی اختلاف نے اِن دو رہبروں کے بیچ جو دوریاں پیدا کی تھیں اُسے پاٹنے میں گاندھی جب تک وہ زندہ رہے کافی جانفشانی کی ۔گاندھی 30جنوری 1948ء میں نتھو رام گوڈسے کی گولیوں کا شکار ہوئے جن کا تعلق ہندتوا لابی سے تھا۔ سردار پٹیل پہ اِس لابی کو لبھانے کے الزامات عائد ہوئے چناچہ بحثیت ہوم منسٹر اُنہوں نے آر ٓیس ایس پہ پابندی عائد کی لیکن آج تک ہندوتوا لابی پٹیل کو اپنی آواز مانتی ہے۔سردار پٹیل کو اپنا گرو ماننے کا ثبوت کروڑوں کی لاگت سے بنا ہوا وہ مجسمہ ہے جو بھاجپا سرکار نے احمد آباد میں اُنکا نام زندہ رکھنے کیلئے حالیہ برسوں میں بنوایا ہے۔
پارلیمانی انتخابات 2019ء میں بھاری کامیابی کے بعد جب پچھلے دنوں نریندرا مودی احمد آباد گئے تو اُنہوں نے سردار پٹیل کے مجسمہ پہ پھول مالائیں چڑھائیں اور وہ اُن کی تعریف کرتے ہوئے نہیں تھکتے جب کہ نہرو پہ تنقید کرنے سے وہ نہیں چوکتے بلکہ اُنکا یہ بھی ماننا ہے کہ سردار پٹیل کا بس چلتا تو مسلہ کشمیر کا وجود ہی نہ ہوتا۔اِس سے بھاجپا کے مانے ہوئے نیتا کی وچار دھارا کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جبکہ مسلہ کشمیر کے ضمن میں پٹیل کے بارے میں اُنکا جو کہنا ہے وہ تاریخی حقائق سے میل نہیں کھاتا۔ سردار پٹیل کے سیاسی رویے سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سیکولرازم کا نظریہ شروع سے ہی سب کیلئے قابل قبول نہیں تھا اور کانگریس پارٹی میں ایک پُر اثر لابی ہندتوا کے نظریے سے میل کھاتی تھی ۔بال گنگا دھر تلک سے لے کے مدن موہن مالویہ تک یہ لابی اگر چہ کانگریس سے جڑی رہی لیکن ہندوتوا کے نظریے کی آبیاری کانگریسی حلقوں میں ہوتی رہی۔آزادی کے بعد سردار پٹیل کے علاوہ بھارت کے پہلے صدر راجندر پرشاد بھی کم و بیش ہندوتوا کے نظریے سے جڑے رہے۔ صدر جمہوریہ ہند بننے سے پہلے وہ آئین ساز اسمبلی کے صدارت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے ۔جب مملکت نو زائیدہ کا نام رکھنے کی بات پہ غور ہوا تو راجند پرشاد کی رہنمائی میں ہندوتوا لابی نے انڈیا جو بھارت ہے (India that is Bharat) کا نام رکھنے پہ اصرار کیا چناچہ قانون اساسی میں یہی نام ثبت ہوا۔ راجندر پرشاد گاؤ رکھشا پر بھی اصرار کرتے رہے اور اُن کا اصرار یہ بھی رہا کہ ہندی کو قومی زباں قرار دیا جائے جبکہ گاندھی کا نظریہ ہندوستانی کے حق میں تھا جس میں کچھ نہ کچھ اقلیتی لسانی ترجیحات کیلئے جگہ بنتی تھی۔پس یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہندتوا کے نظریے کو قانون اساسی میں جگہ دینے کی پہلے سے ہی کوششیں ہوتی رہیںہیں۔
پنڈت نہرو کی حمایت سے بابا صاحب امبیدکر کا سیکولر ڈیموکرٹیک نظریہ گر چہ قانون اساسی میں ثبت ہوا لیکن اِس کے باوجود سیکولر آئیڈیل کا حصول مشکلات سے دوچار رہا۔ بھارت کی اقلیتیوں کو ایک سیکولر بھارت میں آگے بڑھنے کے وہ امکانات حاصل نہیں رہے جس سے اُنہیں تعلیمی میدان میں فروغ حاصل رہتا ثانیاََ ایک خوف کی فضا مانع رہی جو پے در پے فرقہ وارانہ فسادات کا نتیجہ تھی۔ بھارت کی کانگریسی سرکار نے مسلم ووٹ کے حصول کیلئے مسلمین ہند کی ظاہری دلجوئی کے لئے کئی کمیشن قائم کئے تاکہ مسلمین کی پسماندگی کی وجوہات کا سراغ لگایا جا سکے لیکن جب کمیشن کی سفارشات کو لاگو کرنے کا وقت آیا تو وہی ڈھاک کے تین پات سامنے آئے جو ہمیشہ کی روش رہی ۔اِن کمیشنوں میں راجندر سچر کمیشن کو گنا جا سکتا ہے جس کا ذکر اکثر ہوتا ہے اور جو کہ مسلم پسماندگی کی وجوہات کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔ پنڈت نہرو کے 17سالہ دور حکومت(1947-1964)میں کم و بیش سیکولرازم کا بھرم قائم رہالیکن اُنکی بیٹی اندرا گاندھی کے دور حکومت میں بھارتی نیشنلزم کو منوانے کے تصور کو نہ صرف داخلی دائرے میں فروغ حاصل ہوا بلکہ یہ خارجی پالیسی کا ایک جز لازم بھی بنتا گیا۔ کہیں نہ کہیں خواہ نخواہ یہ نظریہ ہندتوا کے نظریے سے میل کھاتا ہوا نظر آیا۔ اندارا گاندھی کے دور حکومت میں کئی انتخابی مراحل ایسے بھی آئے جہاں اُنکی انتخابی مہم کا نعرہ ہندؤں کا ووٹ حاصل کرنے پہ متمرکز رہا۔1982ء میں جب جموں و کشمیر میں فاروق عبداللہ نے کانگریس کے ساتھ مل کے انتخاب لڑنے سے انکار کیا تو اندرا گاندھی نے جموں میں ہندو کارڑ کا استعمال کیا۔اُس سے پہلے 1971ء میں جب بنگلا دیش وجود میں آیا تو اتل بہاری واجپائی نے اندارا گاندھی کو درگا کا خطاب دیا۔ اندرا سرکار کے دور حکومت میں کئی مراحل ایسے بھی آئے جہاں اُنہیں آر ایس ایس کی حمایت حاصل رہی چونکہ وہ طاقتور ہندو رہنما کے روپ میں منظر عام پہ آئیں۔
بھاجپا کے موجودہ روپ میں اُبھرنے سے پہلے کہا جا سکتا ہے کہ ہندتوا کا نظریہ کہیں در پردہ کہیں کھل کے صحنہ سیاسی پہ چھایا رہا البتہ اب یہ نظریہ بغیر کسی لگی لپٹی کے نمایاں ہے۔ 20ویں صدی کے آواخر اور 21 صدی کے ابتدائی سالوں میں بھاجپا کا جو سیاسی روپ رہا اُس میں دو چیزیں نمایاں تھیں ایک اتل بہاری واجپائی کی رہبری ثانیاََ بھاجپا اپنے بل بوتے پہ ایک اکثریتی سرکار تشکیل دینے کے قابل نہ تھی بلکہ اُسے کولیشن پارٹنرز کی ضرورت رہی جو ظاہر ہے ہندتوا کے کھلے پرچار سے ہم آہنگ نہیں تھے۔ واجپائی بھاجپا کے رہبر ہوتے ہو ئے بھی ایک میانہ رو سیاستداں تھے لہذا ہندوتوا نظریے کے کھلے پرچار پہ اُنہوں نے لگام کس لی تھی ۔سالہا سال بھارتی سیاست کے تجربے نے اُن پہ یہ واضح کیا ہوا تھا کہ ہندتوا نظریے کے فروغ کیلئے سخت گیر رویہ اپنانے سے اقتدار کی بھاگ ڈور تھامنا مشکل ثابت ہو سکتا ہے ثانیاََ اُنہیں کولیشن پارٹنرز کو بھی ساتھ لے کے چلنا تھا ثالثاََ اُن کی طبیعت شاعرانہ تھی اور وہ فنون لطیفہ کے دلداہ تھے جو کسی بھی سخت گیر نظریے سے میل نہیں کھاتا۔یہ بھی مانا جا سکتا ہے کہ وہ ایک ایسے ہند و نظریے کے حامی تھے جو میں ہر مذہب کی مانند اخلاقاقیات سے مطابقت رکھتا ہے۔ 2002ء میں گجرات کے مسلم کش فسادات کے بعد اُنہوں نے نریندرا مودی کو راج دھرم نبھانے کا مشورہ دیا تھا۔ مودی تب گجرات کے وزیر اعلی تھے۔راج دھرم نبھانے کے مشورے میں یہ عیاں تھا کہ وہ اقلیت کے ساتھ کسی بھی زیادتی کو دھارمک اصولوں کے منافی مانتے تھے۔ نریندرا مودی کے خلاف کسی بھی ایکشن کے آڑے لال کشن آیڈوانی آئے۔مانا جا سکتا ہے کہ اتل بہاری واجپائی کی رہبری میں بھاجپا کا روپ دور حاضر کے روپ سے مختلف تھا۔
2014ء میں نریندرا مودیـ’’ سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘‘ کے دلفریب نعرے کے ساتھ انتخابی میدان مارنے میں کامیاب رہے۔’وکاس‘ کے معنی ترقی کے ہیں ۔بھارت کی پچھلے پانچ سالوں میں کتنی ترقی ہوئی ہے اُس کے بارے میں اقتصادی ماہرین کی رائے میں بے روز گاری میں اتنا اضافہ ہوا ہے جو پچھلے45سالوں میں دیکھنے کو نہیں ملا۔ پرانے500 اور 1000روپے کے نوٹوں کو بازار اقتصاد سے نکالنے کے بعد کاروبار کو جو دھکا لگا اُسکے بارے میں صفحوں کے صفحے لکھے جا چکے ہیں۔یہ کساد بازاری آج تک اقتصادی موضوع بنی رہی ہے۔اقتصاد کو دوسرا دھکا جی ایس ٹی (GST) لاگو ہونے سے لگا۔ملک بھی میں ٹیکس کی شرح کو ایک ہی سطح پہ لانا اگر چہ کچھ اقتصادی ماہرین کی رائے میں ایک مناسب فیصلہ ہو سکتا تھا لیکن اُس کو جس عجلت سے لاگو کیا گیا جوبہت حد تک نا مناسب ثابت ہوا۔بھارت کے طول و عرض میں کسانوں کی خو د کشی اقتصادی زبوں حالی کی گواہ ہے۔ ابتر اقتصادی حالات کے باوجود بھاجپا نے جس طرح انتخابی معرکے کو اپنے بس میں کر لیا اُسے قومی سیکورٹی کو نیشنلزم کے غلاف میں سجانے کی سعی سے تعبیر دی جا سکتی ہے۔پلوامہ کے واقع کے بعد بالاکوٹ ہوائی حملے کو انتخابی مہم کا مرکزی نعرہ بنا کے نریندرا مودی کی رہبری میں بھاجپا نے مخالفین کو چہاروں شانے چت کر لیا۔
اِس صحنہ سیاسی میں بھارتی قانون اساسی کا سیکولر ڈیموکرٹیک روپ کہیں نظر نہیں آتا۔ کئی مانے ہوئے مبصرین کی رائے میں جہاں بھاجپا کی جیت درج ہوئی وہی انڈیا ہار گیا۔ 17ویں بھارتی پارلیمان میں جو تشکیل ہونے جا رہی ہے بھاجپا کے 303ممبراں میں صرف ایک مسلمان ہے جو بنگال سے جیت کے آیا ہے۔بھارتی پارلیمنٹ کے 543ممبروں میں مسلمان ممبروں کی کل تعداد 27ہے جو کم و بیش 5فیصد حصہ بنتا ہے جبکہ بھارت کی منجملہ جمعیت میں مسلمین 14فیصد آبادی تشکیل دیتے ہیں ۔آج تک کسی بھی بھارتی پارلیمان میں مسلمین کو اُنکی آبادی کے تناسب سے نمائندگی نہیں ملی ہے۔ 2014ء سے مسلمین گاؤ رکھشا کے نام پہ تشدد کا شکار رہے ہیں جبکہ حکومت تحفظ فراہم کرنے میں نا کام رہی ہے ۔ حالیہ انتخابی جیت کے دوراں مدھیہ پردیش میں ایک اور دلدوز واقعہ پیش آیا ہے جس کا ویڈیو وائرل ہو گیا۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ پولیس دیکھنے کو حرکت میں آ جاتی ہے لیکن شاز و نادر ہی کوئی سانحہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ پاتا ہے۔
نریندرا مودی نے پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں دوبارہ پارلیمانی لیڈر چنے جانے کے بعد اقلیتوں کی خوفزدہ حالت کو اپنی تقریر کا موضوع بناتے ہوئے یہ کہا کہ اُنہیں خوف کی حالت سے باہر آنا چاہیے جس کا شکار وہ ماضی میں رہے ہیں۔مسلمین کے خوف کی اِس حالت کا ذمہ وار وہ اپنے سیاسی مخالفین کو مانتے ہیں جن میں کانگریس پیش پیش ہے۔ حقیقت میں پرکھا جائے تو بھارتی مسلمین کے ساتھ نہ ہی ماضی کی کانگریسی حکومتوں نے انصاف کیا ہے نہ ہی بھاجپا کی موجودہ رہبری سے یہ توقع رکھی جا سکتی ہے۔ ایسے میں مسلمین ہند کو اپنی صف آرائی اپنی مدد آپ کے اصولوں کو مد نظر رکھ کے کرنی ہو گی۔حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی اور سے چارہ گری کی امید رکھنا بیجا ہو گا۔
Feedback on<[email protected]