پھر یوں ہوا کہ اَنکل چھپن نے تین سو اور چھپن کا آنکڑا پا ر کر لیا تو بوا بھتیجا کیا ، پنجہ مار پارٹی کے پپو کیا ، بنگال کی دیدی کیا اور جنوب کے بابو کیا، سب کی ہیکڑی نکل گئی ۔ مشرق و مغرب شمال و جنوب سب چاروں خانے چت ہوگئے،سنبھلنے کا موقع نہیں ملا ۔ ایسا لگا کہ بھکت جن الیکشن نہیں بیف کے نام مخالفین پر ٹوٹ پڑے ، دھنائی کی اور ہر ایک کے جسم پر کنول کے پھول گدوائے جیسے تہار جیل میں ایک قیدی کے شانے پر اوم گدوایا تھا۔تہار میں تو اوم گدوا کر قیدی کو پورا ہندو بنوانا تھا ادھر بھارت ورش کی پہنائیوں میں کنول گدوا کر سبھوں کو پورا بھکت جن بنانا تھا تاکہ آگے چل کر سب ترشول بردار بن جائیں۔حملہ ایسا تابڑ توڑ ہوا کہ مشورہ کرنے کو بھی مشاورت کمیٹی نہ بچ پائی بس ہلکے سروں ایک گانے کے بول بڑی مشکل سے زبان زد ہوگئے ۔ یہ کیا ہوا، کیسے ہوا، کب ہوا ۔مفت میں مشورہ دینے والے نامی گرامی ٹی وی دریندر سروں پر چادر اوڑھ کر دبک گئے کہ کہیں بھکت جنوں کی نظر نہ پڑے اور وہ وہی حال کردیں جو وہ مسلم اقلیت اور دلتوں کا کرتے ہیں کہ فلاں جگہ تم نے یا تمہارے بزرگوں نے گالی گلوچ کیا تھا اس لئے اس کی سزا پائو۔ کہیں بابر کے نام پر اور کہیں منو سمرتی کی تقلید میں لگا تھپڑ ، چلا مکہ، اٹھا ٹنگڑی ،کٹا لنگڑی کا ننگا ناچ کرتے ہیں۔ وہ جو ٹی وی اسکرینوں پر حساب کتا ب لگاتے تھے کہ انکل چھپن تو اس بار گیا۔ اور اگر آئے بھی تو کمزور اور لاغراتنا ہوگا کہ بیساکھی کی ضرورت پڑے گی، رشٹ برشٹ رہنے کے لئے چون پراش کی ضرورت ہو گی،ٹانگوں کو کھڑا رکھنے کے لئے وافر کیلشم کی آوشکتا ہوگی، بلکہ کیا پتہ واکنگ اسٹک بھی منگانی پڑے ، وہ بھی اب صرف اتنا کہہ پاتے ہیں کہ لوگوں کا کوئی بھروسہ نہیں۔بھکت جنوں سے ڈرے ڈرے ہیں کہ کہیں ان کا پارہ نہ چڑھ بیٹھے۔ان سے بھی بڑھکر مسلم اقلیت کے لوگ مخمصے میں پڑ گئے کہ آگے کیا ہوگا۔جانے بیف جنتا پارٹی کے بھکت جنوں کا آگے کتنے کلو کا حساب کتنے لیٹر خون سے دینا پڑے گا ۔ابھی تو عالم پریشانی میں لا حول واللہ کا ورد ہی چل رہا تھا کہ مدھیہ پردیش سیونی علاقے میں ایک طرف او رگرو گرام میں دوسری طرف سکل کیپ برداروں کو نشانہ بنایا گیا ، مارپیٹ کے ساتھ جے سری رام کا نعرہ لگوایا ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ایک ہندو کو بھی اس وجہ سے پیٹا کہ تم مسلمان کے ساتھ دوستی کیوں رکھتے ہو۔پٹنے والے ہندو کی بہن نے تو جے سری رام سینا والے کو پہچان بھی لیا ۔پھر کناٹ پلیس میں ایک معروف ہندو ڈاکٹر کو گھیر لیا ، دھرم سے متعلق جان کاری لی ، یقین نہ آیا تو جے سری رام کا نعرہ لگوایا۔مطلب ترشول بردار جب پیٹتے ہیں تو بلا لحاظ مذہب و ملت پیٹتے ہیں یعنی بھارتی آئین پر پکا عمل کرتے ہیں۔مانا کہ اپنے اَنکل چھپن والا نے زور دے کر اپنے ممبران پارلیمان کو تاکید کی کہ فرقہ بندی کے نام پر کام نہ ہو کیونکہ اب کی بار جو مودی سرکار دوسری بار تیز و طرار گھوڑوں پر سوار ہو کر آئی ہے، اس میں ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ ہی نہیں ہوگا بلکہ سب کا وشواس بھی شامل حال رہنا چاہئے۔خیر یہ تو کہنے کی بات ہے ،کیا پتہ انکل چھپن والا اپنے داخلی مینی فیسٹو پر ہی قائم ہوں کہ بھکت جنو مارو کاٹو رام بھلی کرے گا ،عوام کو خانوں میں بانٹو امت شاہ شاباشی دے گا ۔ہو نہ ہو اقوام عالم کو دکھاوے کے لئے سب کا وشواس کی گردان کر رہے ہوں کیونکہ عالمی پریس نے تو انہیں پھوٹ ڈالو اور سرکار بنائو کا معمار کہہ ڈالا ۔وہ لوگ جو نعرۂ وشواس کو وشواس گھات کی نظر سے تاڑ کر دیکھتے ہیں ان پر سادھوی پرگیہ کا بھوت سوار ہو گیا ہے کیونکہ اس کے من میں گوڈسے کی روح بستی ہے جبھی تو وہ باپو کو خاطر میں نہیں لاتی بھلا عام لوگ کس کھیت کی مولی ہیں۔وہ تو ویسے بھی مولی کا سواد نہیں چھکتی بلکہ بھائو نہیں پوچھتی ،فقط آہنی شلغم ، بارودی آم، ٹایمر لگے کھیرے ہی استعمال میں لاتی ہے ۔پھر کرکرے صاحب جیسے لوگ جو سادھوی کی تپسیا کا حساب لگاتے ہیں انہیں تو شراپ دیتی ہے یعنی اس کے بارودی آیٹم سے جو بچ جائے وہ اسے کوسنے کا شکار ہو ہی جاتا ہے۔
اَنکل چھپن والا نے تو بھڑک کر کہا کہ وہ سادھوی کو زندگی بھر معاف نہیں کریں گے کہ اس نے گوڈسے کو دیش بھگت کہہ کر باپو کی تذلیل کی ہے ۔ اسی لئے تو سادھوی کے لئے الیکشن ٹکٹ کا انتظام کروایا، اس کے لئے ووٹ مانگنے مدھیہ پردیش پہنچے،ووٹ کی اپیل کرتے گلا سوکھ گیا مگر چُپ نہ بیٹھے۔مقصد صرف یہ تھا کہ کسی طرح سادھوی الیکشن جیت جائے ۔الیکشن میں جیت تو سادھوی کے لئے سزا ہے کہ جیت کے بعد لوگ اسے تنگ کریں گے کہ ہمارا یہ کام وہ کام کردو ۔اس طرح اسے آرام ہی کہاں ملے گا۔ووٹروں کو خوش کرنے کے لئے بار بار اپنے حلقہ انتخاب میں جانا پڑے گا ۔ظاہر ہے کہ کسی بھی طرح آرام میسر نہیں ہوگا۔ایسے میں کچھ لوگ بھلے ہی خوش ہوں لیکن کئی ایک تو ناراض بھی ہوں گے اور وہ پیٹھ پیچھے گالی گلوچ بھی کریں گے ،یعنی جیت کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سکون کہیں نہیں ملے گا ، تو بھلا اس سے برا انتقام کیا ہوگا؟بھائی مودی ہے تو سب ممکن ہے !!
اس بیچ آنکھ مار بابا رام دیو کی بھی جان میں جان آئی اور انکل چھپن کی کامیابی کی دیکھا دیکھی میں اس کی سانس سنبھل گئی کہ چلو اب پتنجلی پروڈکٹ کے غلط رپوٹوں پر شاید کاروائی نہ ہو کیونکہ جس پر بھی ناگپوری مہر لگے، بھکت جنوں کی تعریف کرے وہ سمجھو واشنگ مشین میں اُچک کر گرتا ہے۔ایک دو سپِن کے ساتھ اس کی ساری میل دُھل جاتی ہے ۔اس کا ہر کرائم اُڑن چھو ہو جاتا ہے۔پھر قتل کیا عصمت ریزی کیا سارے گناہ ہوا ہو جاتے ہیں ،جیسے ابھی ابھی ماں کے پیٹ سے جنا ہو ۔اسی امید اور خوشی میں اعلان کردیا کہ اب کی بار دوبارہ سرکار میں پورے ملک میں ایک ہی نظام قائم ہوگا ۔مطلب وہ جو اَنکل چھپن والانے بھارتی آئین کی کاپی کے سامنے سر نمن کرکے اسی کے مطابق چلنے کی اِچھا ظاہر کردی وہ آنکھ مار بابا کو ایک آنکھ نہ بھائی ۔ادھر جو ہر ایک کو زندگی اپنی پسند کے مطابق جینے کی آزادی کی گارنٹی ہے لیکن بابا تو اپنے حساب سے چلانے پر اَڑ گیا ۔اور تو اور آبادی کنٹرول کرنے کا کوئی پتنجلی فارمولا نہ بن پا یا، اسلئے تیسرے بچے کو ووٹ کا حق نہ دیا جائے والی دوائی بازار میں اُتار دی۔بھلا اسے کیا ،وہ کیا جانے بچوں کی کلکاری ؟اس کی کوئی فیملی ہوتی اور کوئی پھول سا بچہ جنا ہوتا تو ایسی بات نہ کہتا مگر دلچسپ بات یہ کہ ناگپوری موڑ میں آکر اور زرا جذباتی ہو کر اَنکل چھپن والا کے ووٹ پر پابندی لگادی کہ انکل جی تو والدین کا تیسرا بچہ ہے لیکن ہم کیا کرے بابا جی نے کہا تو کہا ،بھلا اس کی کوئی ان دیکھی کر سکتا ہے کیا؟
الیکشن کا تنائو تھا، اس لئے ووٹر کی تھالی میں پلائو تھا ۔کہیں عام خام لوگوں کی بہبودی کا سجھائو تھا تو کہیں غریب کے موڈ کا رِجھائوتھا ۔ادھر اپنے ملک کشمیر میں بھی خوش آمد کا چل چلائو تھااور ایسے میں ہل والے نیشنلیوں کا بھی اپنا ہی ایک پڑائو تھا ۔وہ یہ کہ لڑ مرو عاشقو پر اپنے ۳۷۰ کو کہیں چھیڑنے نہیں دیں گے اور ۳۵۔اے کی طرف کسی کو آنکھ اٹھانے نہیں دیں گے۔گپکار سے سورسیار تک اور کھنہ بل سے کھادن یار تک ہل والوں نے زور زور سے نعرہ لگایا کہ جو ہم سے ٹکرائے گا پاش پاش ہو جائے گا ۔اور پھر جو قائد ثانی نے اعلان کردیا کہ ۳۷۰ ہماری آن بان شان ہے تو دودھ ٹافی بھول کر بانوئے کشمیر بھی بول پڑی کہ یہ تو ہماری بھی جان ہے ۔اس پر پنجہ مار پارٹی کے میر آف دہرنہ بھی ۳۷۰ کو دل کا سکون اور روح کا اطمینان کہہ گئے۔ اور تو اور ہندوارہ بریگیڈ نے بھی ۳۷۰ کا دفاع کرنے کے لئے اپنی فوجی ٹکڑیاں میدان میں اُتار دیں کیونکہ یہ ان کے دل کا بھی اَرمان تھا ۔اس چھینا جھپٹی میں یہ بھی پتہ نہ چلا کہ کس کے ہتھیار زیادہ کارگر ثابت ہوئے مگر اللہ میاں کی گائے اپنے اہل کشمیر نے ہل والوں کا وعدہ تسلیم کرلیا ، شاید اس لئے بھی کہ انہی کا وعدہ سالہا سال سے گانٹھ باندھتے رہے ہیں،بلکہ ڈسے جانے کے باوجود بھی انہی کے بِل میں ہاتھ دیتے رہے ہیں۔ پھر ہوا یہ کہ ادھر جو انکل چھپن والابازی مار گئے، ادھر ٹنل کے اُس پار اونچا رہے گا ہل والا جھنڈا چلاتے نیشنل فوج گپکار کی سڑکوں پر قدم تال کرتی رہی ۔ بے چارے ملک کشمیر کے باسی انہی باسی نعروں اور وعدوں پر جئے جا رہے ہیں کہ سرداری عوام کا حق ہے اور یہ کہ تم ہی کٹو مرو تاکہ ہم بڑے عیش سے زندگی جی لیں ۔اب تو جمہوری تماشہ ختم ہوگیا اور لوگوں کو تولنے کا ڈرامہ بھی اختتام کو پہنچا ،اس لئے تو ہل والے قائد ثانی کو احساس ہونے لگا کہ ۳۷۰ ؍اور ۳۵؍اے کا دفاع دلی دربار کے پاس کوئی معمولی کھیل نہیںکیونکہ دلی والے ستر سال سے برابر کھیل کھیل رہے ہیں اور ادھر بے چارے اہل کشمیر برابر اس کھیل میں ہار رہے ہیں ؎
انہی ٹائیلوں پہ چل کے اگر آ سکو تو آئو
میرے گھر کے پاس میں کوئی سیاست دان نہیں ہے
اس بیچ اپنے اہل کشمیر دوکانوں کے تھڑوں پر اور مساجد کے صوفوں پر زبردست تبصروں میں مصروف ہیں کیونکہ الیکشن موسم اور ماہ صیام میں اندرونی بخارات کچھ زیادہ ہی اُبھر آتے ہیں اور وہیں سے سیاسی تبصرے بھی جنم لیتے ہیں۔ انہی تبصروں کے بل پر مسٔلہ کشمیر حل کرنے چل پڑے۔ مودی ویو سے جو اَنکل چھپن والا کی چھاتی چوڑی ہو گئی تو مسئلہ کشمیر کا حل نکالنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔کیا پتہ ادھرانکل چھپن اور ادھرکپتان صاحب بیٹھ کر ایسا حل نکالیں کہ ہم جو صبح سویرے سحری کھانے اٹھیں تو تازہ بتازہ اور خوش کُن خبر دروازوں پر دستک دیکہ بھائی لوگو! دونوں نے یہ فیصلہ لیا کہ ملک کشمیر کو آزاد چھوڑ دیں ، پھر نہ رہے بانس نہ بجے بانسری ۔اس سے ملک کشمیر میں تو امن ہو گا ہی ساتھ میں بھارت پاک کشیدگی بھی جاتی رہے گی، لیکن اپنے دوکانی تھڑہ نشین سیاسی دریندروں کا کہنا ہے کہ ہم نے یہ مجوزہ فیصلہ اس بنا پر رد کردیا کہ ہمارے لئے آزاد مملکت سنبھالنا مشکل ہوگا اور دروغ بر گردن راوی جس نے یہ کہا کہ اپنے ملازمین نے یہ شرط رکھی کہ مسلٔہ کشمیر بعد میں دیکھو پہلے ہماری تنخواہ کا فیصلہ کرو۔ادھراَنکل جی کی تاجپوشی کے لئے جہاں سبھی کو دعوت ملی پر کپتان صاحب کو نو دو گیارہ کیا گیا تو اپنے تبصرہ نگار منہ تکتے رہ گئے۔پھر ایک آہ نکلی کہ مسلٔہ اللہ کے حال پر ہی چھوڑ دیں۔ادھر جو چچا چھپن والانے الیکشن نتائج کی گاڑی تلے مخالفین کو روند ڈالا اور نئے بھارت کی تعمیر ترجیحات میں شامل کردیں لیکن لگتا ہے ان کے تین سو اور چھپن سیاسی مچھندراپنی اپنی ترجیحات از خود متعین کر رہے ہیں ۔جبھی تو علی گڑھ کے سانسد کی ترجیح نمبر ایک قائد اعظم جناح صاحب کی تصویر واپس مملکت خداداد بھیجنی مقصود ہے، جو علی گڑھ یونیورسٹی میں رکھی ہوئی ہے۔کسی کا سب سے اہم کام مسلمانوں کو گوشت خوری سے روکنا ہے نہیں تو وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے گی۔ کسی اور نے لکھنو میٹرو میں برقعہ پوش خواتین کو چڑھنے نہیں دیا گیا۔
اس بیچ خبر یہ آئی کہ مودی کی مقبولیت سے متاثر ہوکر ایک مسلم خاتون نے اپنے نو زائید بچے کا نام نریدر مودی رکھا ۔مودی مقبولیت سے بھاجپا مسلم لیڈر مختار نقوی اور شاہنواز حسین بھی پربھاوِت ہیں ۔کیا پتہ نام کرن کی اس دوڑ میں وہ بھی مختار دامودر مودی اور شاہنواز بھاگوت کہلائے جائیں۔
رابط ([email protected]/9419009169)