سال ۲۰۱۹ء پوری دنیا میںانتخابات کے اعتبار سے کافی اہم مانا جاتا ہے ۔اس سال دنیا بھر کے پچاس سے زائد ممالک میں انتخابات ہو رہے ہیں جس میں لگ بھگ چار سو کروڈ رائے دہندگان اپنی حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر ممالک میں انتخابی عمل مکمل ہو چکا ہے جب کہ باقی ماندہ ممالک میں انتخابات رواں برس کے دسمبر تک مکمل ہوں گے۔ اس سال جن ممالک میں چُناو ہونا تھا ان میں رائے دہندگان کی تعداد کے اعتبار سے ہندوستان، انڈونیشیا اور نائیجیریا سرِ فہرست ہیں ۔ پوری دنیا میں جہاں پچھلی کئی دہائیوں سے سیاسی حالات میں بدلاؤ دیکھنے کو مل رہا ہے، وہیں اکثر ممالک میں اس بار چناؤی نتائج معمول سے مختلف رہے بلکہ کہیں کہیں چناؤ ہنگامہ خیز رہا ۔ ایک رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا میں طویل اور تھکا دینے والے الیکشن ۲۰۱۹ء کے دوران قریباََ 225 چناؤ افسر اپنی جان گنوا بیٹھے۔دوسری طرف نائیجیریا میں چناؤ ۱۶ فروری کو ہونے تھے لیکن الیکشن کمیشن نے یہ کہہ کر ان انتخابات کو ملتوی کیا کہ پولنگ مراکز پہ الیکشن کا سامان پہنچانے میں دشواری آرہی ہے ۔ بعد ازاں انتخابات ۲۳-۲۴ فروری کوعمل میں آئے۔ نایئجیریا میںاس بات کا بھی الزام لگایا گیا کہ انتخابات شفاف طریقے پہ نہیں کئے گئے ۔
بھارت کے عام انتخابات باقی ماندہ انتخابات سے ذرا مختلف تھے۔ اس چناؤ میں بی جے پی نے 352نشستوں پہ جیت درج کر کے میدان مار لیا اور کانگریس جہاں اس بار پوری اُمید کے ساتھ میدان میں آئی تھی وہ محض 54نشستوں پر سمٹ کر رہ گئی، یہاں تک کہ گانگریس صدر راہل گاندھی امیتھی میں اپنی خاندانی نشست بھی نہ بچا سکے۔ پرچار سے لے کر نتائیج تک چناؤ کا ہر پہلو خاصی اہمیت کا حامل رہا ۔
اپنی پہلی ٹرم میںوزیر اعظم نریندر مودی نے نوٹ بندی کا جو بقول ان کے بیرون ِ ملک سے آنے والی حوالہ رقومات پر قدغن لگانے کے لئے ایک خاص اقدام تھا مگر نوٹ بندی سے کیا حاصل ہوا ؟یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے۔ البتہ ا س سے عام آدمی در در کی ٹھوکریں کھانے پہ مجبور ضرور ہوا اور معیشت کا زبردست نقصان ہوا۔ بی جے پی سرکار میں اقلیتوں کی حالت پریشان کن رہی ، خصوصی طور گو ؤرکشا کے بہانے مسلمانوں کو کئی مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا ۔ لگ یہ رہاتھا کہ نوٹ بندی کے علاوہ یہ ناگفتہ بہ کہانی بھاجپا کے انتخابی نقصان پر منتج ہوگی مگر ہو اس کے برعکس ۔ اس دوران جرائم کا تناسب بھی حد درجہ بڑھ گیا۔اتنا ہی نہیں بلکہ حزبِ اختلاف کا نگریس نے Rafale نامی جنگی طیاروں کی خریداری میں بھاری رقومات کی ہیر پھیر کا بھی بہت شور مچایا مگر نتیجہ ندارد۔ ان طیاروں کو بنانے کا ٹھیکہ ڈیفنس سازماسامان کے میدان میں نو آموز کمپنی ریلائینس کو دیا جانا اگر چہ سراسرسمجھ سے بالاتر ہے مگر بھارتی میڈیا نے Rafale ڈیل کو شفاف قرار دنے کے علاوہ س ڈیل پر سوال اُٹھانے والوں کو ملک دشمن کے طور پیش کیا گیا۔ اندازہ یہ لگایا جا رہا تھا کہ ۲۰۱۹ میں بی جے پی کی واپسی مشکل ہے مگر نتائج نے سب کو چونکا دیا ۔ قبل ازیں پلوامہ کا وہ دل دہلانے والا فدائین حملہ اور پھر ناکام بالاکوٹ آپرویشن مودی سرکار نے اپنے حق میں کیش کر نے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ پلوامہ واقعہ کی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کڑی مذمت کے بعد جہاں پوراہندوستان بالاکوٹ کے Surgical Strike پیش آ نے سے ہندپاک میں جنگی فضا نے مودی کی گرم گفتاری سے ان کی انتخابی سیاست کو سرخاب کے پر لگادئے کہ راہل گاندھی بے دست وپا ہو کر رہ گئے۔اس دوران بھارتی مگ طیارے کے پائلٹ ابھی نندن پاکستان میں گرفتار ی اور پھر اس کی ڈرامائی رہائی نے انتخابی ہانڈی میں تڑکہ لگا لیا ۔ بالاکوٹ کے اس مختصر ہوائی حملے کو بھارتی میڈیا اور بی جے پی نے اپنی بہت بڑی کامیابی سے تعبیر کیا ،بالخصوص جب پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے انڈیا کے تئیں دوستی اور خیر سگالی پیغام کے طور ابھی نندن کو نیشنل اسمبلی میں رہا کرنے کا اعلان کیا تواس سے بھی بی جے پی نے لوگوں میں اپنے لئے ایک سپر مین جیسی Image بنانے کی بھر پور کوشش کی جس کی ہندی میڈیا نے زوردار تشہیر کی۔ بی جے پی اور وزیراعظم کو ا س کاایک اہم فائدہ یہ ہوا کہ پلوامہ اور بالاکوٹ کا تذکرہ بی جے پی نے ہر جلسے اور ہر منچ پر چھیڑ کر گویا اپنی’’ بہادری‘‘ کاقائل کیا اور عوام کو یہ باور کرایا کہ پڑوسی ملک کے ساتھ لوہا لینے کی طاقت صرف اسی جماعت میں ہے۔ بالفاظ دیگر پلوامہ اور بالاکوٹ نے بھاجپا کے لئے خد ادے بندہ لے والی صورت حال پیدا کردی اور زعفرانیوںنے ا نہیں اُچھال اُچھا ل کر خود کو کٹر پنتھی دکھانے سے زیادہ سے زیادہ ہندوتوووٹ بٹورے ۔ عوام کے ذہنوں میں یہ سوچ پنپ گئی کہ پڑوسی ملک کے خلاف کوئی ٹھوس کاروائی صرف نریندر مودی ہی کر سکتے ہیں۔ اس Narrative کا خوب انتخابی استعمال کر کے مودی کی پاکستانbashing اور خود کو ناقابل تسخیرقوم پرست ہونے کو اپنا اہم چناؤی ہتھیار بناڈالا۔اس سے یقینا بی جے پی پر نشستوں خاصی بارش ہوئی کہ اپوزیشن چاروں شانے چت گری۔ غور طلب ہے کہ بھارتی میڈیا نے بھی بھاجپا کے لئے اچھی خاصی محنت کر کے پارٹی کا وفادار ہونے کا برملا ثبوت دیا۔ اب یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس الیکشن میں بھاجپا کو تعمیر و ترقی ، روزگار اور اقتصادی خوشحالی سے زیادہ جس چیز کے لئے منڈیٹ ملا ، وہ ہے پڑوسی ملک پاکستان سے انتقام لینا ۔ بہر کیف بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتوں کی اس جیت سے کیا کیا نتائیج برامد ہو سکتے ہیں ؟ سوال یہ ہے ۔ اس کا صحیح صحیح اندازہ لگانا ابھی ممکن نہیں کیونکہ ایک طرف اقلیتوں کو لے کر وزیر اعظم مودی کے لب و لہجہ میں تھوڑا سا فرق دیکھا گیا ہے اب وہ سب کا ساتھ سب کا و کاس سب کا وشواس کا نعرہ دھیمی آواز میں دینے لگے ہیں۔ ان کی عمران خان کے فون کال کا جوابی ٹون بھی کافی نرم اور سلجھا ہوا رہا لیکن دوسری طرفان کی سیاست کا ٹریک ریکارڈ کچھ اور کہہ رہا ہے۔اس لئے ان کی جیت کے اصل نتائج انڈیا پرکیا ہوں گے، ابھی یہ کہنا ابھی مشکل ہے ۔ بایں ہمہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کا اندازہ لگانا اب زیادہ مشکل نہیں ہے ، مثلاََ اگلے پانچ سال تک 370 ، 35A ، رام مندر ، پاکستان اور کشمیر کافی حد تک گر ما گرم موضوعاتِ بحث رہنے کے امکان ہیں۔ البتہ گنگا جمنی تہذیب اور کثرت کے حوالے سے چیزیں کافی تشویش ہوں گی، اقلیتوںکی حالت میں بہتری لانے کے لئے کوئی ٹھوس قدم اُٹھانا دور کی بات،اس کے امکانات کم ہی ہیں کہا نہیں عدم تحفظ اور خوف کی نفسیات سے نکل باہر آنے کی سمت میں کوئی پیش رفت ہوگی۔ گورکشا جیسے حساس مدعے برا بر ملک کے کمپازٹ کلچر اورسیکولرازم کے سر پر تلوار بن کر لٹکتے رہیں گے ۔ علاوہ ازیں اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بھارت پاک تعلقات میں مزید کڑواہٹ آسکتی ہے، سندھ طاس معاہدے کو توڑنے کی دھمکیاں پہلے ہی دی گئی ہیں۔
جموں و کشمیر کے سیاسی منظرنامے میں بھی ان انتخابات کے نتائیج کو مقامی جماعتوں کے لئے نئے چیلنج کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ لگتا ہے کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو جموں و کشمیر میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ اس سے جموں و کشمیر کی پہچان مانی جانے والے 35A اور 370 جیسے حساس معاملات کو لے کر گھمبیرمسائل پیدا ہو سکتے ہیں ۔لہٰذا ان انتخابات کے نتائیج مقامی وعلاقائی جماعتوں کے لئے باعث تشویش ہی، بالخصوص پی ڈی پی جیسی جماعت کے لئے جس نے بی جے پی کے ساتھ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں ہاتھ ملا کر سیاسی خودکشی کر لی تھی۔ بہر حال مقامی جماعتوں کو اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ بی جے پی کا بنیادی منشور جموں و کشمیر کو بھارت میں مکمل طور پر ضم کر کے اس کی مخصوص آئینی پہچان کا خاتمہ ہے، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کشمیر مسئلے کا حتمی فیصلہ اور کشمیر کی انفرادی شناخت کا بچاؤ مقامی سیاسی جماعتوں کا بنیادی مقصد ہو نہ کہ کرسی کا حصول تاکہ ریاست کا ہمہ گیر بھلا ہو۔ ان تمام پارٹیوں کا دوراندیشانہ اور مدبرانہ سیاسی رول ا س وقت زمانے کی اذان ہے۔ انہیں پی ڈی پی کی طرح دہلی کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے آپریشن آل آوٹ جیسے کلنگ پروگراموں کے ذریعے نوجوانانِ کشمیر کو خون میں نہلانے والی پالیسیوں کا موثر سیاسی توڑ کر نا ہوگا تب جاکر وہ اپنی اپنی سیاسی بقاء کی جنگ جیت سکتے ہیں ۔بقولِ شاعر ؎
جنگ کا شور بھی کچھ دیر تو تھم سکتا ہے
پھر سے ایک امن کی افواہ اُڑا دی جائے
فون : 9906607520