نئی دہلی سے لے کر سرینگر تک کہیں بھی ریاستی انتخابات کے حوالے سے کوئی چرچا نہیں ہورہی ہے۔ ہاں کبھی کبھار ریاست جموں و کشمیر کی کوئی علاقائی پارٹی بر سبیل تذ کرہ ان انتخابات کے حوالے سے کوئی چُھٹ پُٹ بیان داغ ہی دیتی ہے۔ گورنر انتظامیہ جس انداز سے کام کاج چلا رہی ہے، اُس سے یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ سلسلہ شاید بہت دیر تک چلنے والا ہے۔اسمبلی انتخابات کب کرانے ہیں، اس کا فیصلہ مرکزی سرکار، الیکشن کمیشن آف انڈیا اور ریاستی سرکار (جو آج کل براہ راست مرکز کے زیر قیادت ہی ہے) باہمی صلح مشورے کے بعد ہی کریں گے لیکن ریاست اور با لخصوص وادی کی سیاسی جماعتوں کے لئے جو حقیقت باعث تشویش ہونی چاہئے ،وہ یہ ہے کہ وادی کا کوئی بھی شخص ان جماعتوں کو Miss نہیں کر رہا ہے۔ کسی کو کسی ایم ایل اے کی یاد نہیں آرہی ہے، کوئی کسی منسٹر کو یاد نہیں کر رہا ہے۔جب سیا سی حکومت تھی، اُس وقت ہر گھڑی ایم ایل اے حضرات، منسٹر صاحبان و دیگر ’ممتاز‘ سیاسی اراکین کے ہاں لوگوں کا جم غفیر دکھائی دیتا تھا۔ آج ایڈ وائیزروں اور دیگر افسروں کے ہاں ایسی کوئی بھیڑ دکھائی نہیں دیتی۔ کیا لوگوں کے سارے مسائل حل ہوگئے ہیں؟ یا پھر، کیا ایسا ہے کہ جس طرح لوگوں کی امیدیں سیاسی سرکاروں سے وابستہ ہوا کرتی ہیں، ویسا کچھ آج کی تاریخ میں نہیں ہے؟
وجہ جو بھی ہو، وادی کے سیاست دانوں کو سوچنا ہوگا کہ لوگ سیاست سے کیوں اوب چکے ہیں۔ اور یہ صرف مین اسٹریم سیاست کی بات نہیں، علیحدگی پسند سیاست کا بھی بہ ایں ہمہ یہی حال ہے۔ جماعت اسلامی جیسی سیاسی جماعت پر پابندی عائد کی گئی اور بیان بازی کے سوا عوامی سطح پر کوئی رد عمل دیکھا نہیں گیا۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پر پابندی عائد کی گئی تو کسی کے کان پر جُوں تک نہیں رینگی۔ اسلام آباد پاکستان میں تو احتجاج کیا گیا لیکن کشمیر میں بیان بازی کے سوا کچھ نہیں دیکھا گیا۔سچ تو یہ ہے کہ یہاں کی سیاسی جماعتیں، چاہے کون سے بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتی ہوں، اپنی سیاسی مطا بقت کو اخباروں کے کالموں تک ہی محدود کرچکی ہیں۔ ہر سیاسی جماعت ہر روز کوئی نہ کوئی بیان جاری کرتی ہے اور دوسرے دن اُن کی میڈیا سیل اپنے ہی بیان کو پڑھ کر مونچھوں کو تائو دیتی ہے کہ ’ہم تو خبر میں ہیں‘۔
1990 سے لے کر آج تک، کسی بھی مین اسٹریم یا علیحدگی پسند جماعت کی جانب سے دئے گئے بیان پر ہلکا سا غور کیجئے۔تاریخ بدل دیجئے، متن وہی کا وہی ہے۔ صرف لفظوں کا ہیر پھیر کبھی کبھار دیکھنے کو ملتا ہے۔ مسئلہ کشمیر، یو این قراردادیں، استصواب رائے، سہ فریقی مذاکرات،اٹانومی، سیلف رُول وغیرہ وغیرہ الفاظ کا استعمال ان بیانات میں دریا دلی سے کیا جاتا ہے۔ ’جدوجہد فیصلہ کُن دور سے گزر رہی ہے‘، یہ اعلان ہر روز اخباری بیانات میں کیا جاتا ہے اور 1990سے لے کر آج تک کیا جارہا ہے۔ 1990 میں بھی یہ بات کہی گئی تھی اور 2019میں بھی ایک تواتر کے ساتھ یہی اعلان دہرایا جا رہا ہے۔ کشمیری قوم سادہ دل اور سادہ لوح صحیح لیکن سیاسی طور بہت ہی بالغ ہے۔ وہ جانتی ہے کہ فیصلہ کُن دور تین دہائیوں پر محیط نہیں ہو سکتا۔ اُس کی نظر پاکستان کی سکت پر بھی ہے اور ہندوستان کی سیاست پر بھی۔ اسے قیادت کی صلاحیت کا بھی ادراک ہے اور اپنی قربانیوں کا احساس بھی۔یہ قوم جانتی ہے کہ سیاست دانوں کے کاغذی میزائل ان کے مسائل کو حل نہیں کرسکتے۔ اور یہی وجہ ہے کہ سیاست کے تئیں لوگوں کی لا تعلقی اور لا تعلقی سے زیادہ منافرت ہر گزرتے روز کے ساتھ بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ آج کا کشمیری سنجیدگی کے ساتھ سوچ رہا ہے کہ پچھلی تین دہائیوں میں اُس نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ قبرستانوں کے قبرستان آباد ہوئے۔گھروں کے گھر اُجڑ گئے۔ والدین کے خواب ٹوٹ گئے، نوجوانوں کی امیدیں سسک کے دم توڑ بیٹھیں، مائوں کی آنکھوں کے آنسو خشک ہوگئے، بہنوں کے ہونٹوں سے مسکراہٹیں ہمیشہ کے لئے چھن گئیں۔ اور بدلے میں اُ نہیں کیا ملا؟ اپنی تاریخ کی بد ترین سیاسی بے اختیاری! آج جموں کی کنک منڈی میں یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں کون حکومت کرے گا۔ میں علاقائی عصبیت کا مریض نہیں اور نہ ہی مذہب کی بنیاد پہ بات کرنے پر ایمان رکھتا ہوں۔ میں ایک سیدھا سادھا جمہور نواز انسان ہوں اور میرا ماننا ہے کہ کسی بھی خطے اور کسی بھی ریاست میں وہی ہونا چاہئے جو وہاں کی اکثریت چاہے۔ اکثریت کوئی بھی ہو، کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہو، کسی بھی عقیدے کی پیروکار ہو۔ جمہوری نظام میں بات صرف اور صرف اکثریت کی چلتی ہے۔
اسمبلی کے انتخابات کب ہوں گے، کوئی نہیں جانتا لیکن جو ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے، اُس سے یہ عندیہ مل رہا ہے کہ اب کی بار بھی شاید اقلیت کا فیصلہ ہی اکثریت پر بھاری پڑے گا جیسا کہ 2014 میں ہوا تھا۔ جب اور جیسے ہی اسمبلی انتخابات کا بگل بجے گا، ہمارے علیحدگی پسند سیاست دان اور عسکریت پسند بائیکاٹ کا حکمنامہ جاری کریں گے اور ووٹ دینے والوں کو دھمکانے لگیں گے۔ دونوں ایک شدید غلط فہمی کا شکار ہیں کہ کشمیریوں کے الیکشن بائیکاٹ سے کشمیر کے تئیں بین ا لاقوامی نظرئے پر کوئی فرق پڑتا ہے۔ این خیال است، محال است۔ اگر کوئی فرق پڑنا ہوتا تو پچھلی تین دہائیوں میں پڑا ہوتا۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ 1996سے سرکاریں بنیں، سرکاریں چلیں، سرکاریں ٹوٹیں لیکن بین ا لا قوامی نظرئے پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
تلخ حقیقت یہ ہے کہ الیکشن بائیکاٹ نے اگر کسی کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے تو وہ کشمیریوں کو۔ الیکشن بائیکاٹ نے اگر کسی کی سیاسی قوت کو زنگ آلود کیا ہے تو کشمیری کی۔ الیکشن بائیکاٹ نے اگر کسی کو سیاسی طور حد سے زیادہ بے اختیار کیا ہے تو کشمیری کو۔ الیکشن بائیکاٹ نے اگر کسی کو اقتصادی طور بے اختیار کیا ہے تو کشمیری کو۔ جو لوگ الیکشن بائیکاٹ کی بات کرتے ہیں ، اُن سے سوال پوچھا جانا چاہیے کہ اُن کا بائیکاٹ مسئلہ کشمیر حل کرنے میں کون سی مدد کر رہا ہے۔ ٹھیک ہے وہ اپیلیں کر کے، ڈرا دھمکاکے کے لوگوں کو الیکشن سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔فائدہ؟؟؟
جو سیاسی قیادت فائدے اور نقصان کا حساب نہ رکھتی ہو، اُسے قیادت کا کوئی حق نہیں۔کاش یہ لیڈر اپنے دیوان خانوں سے باہر جھانک کر دیکھتے تو اُنہیں احساس ہوتا کہ بر صغیر کی عظیم ترین سیاسی شخصیت مہاتما گاندھی نقصان اور فائدے کا حساب کیسے رکھتے تھے۔ جب اُنہیں لگتا تھا کہ اُن کا دیا ہوا کوئی پروگرام مطلوبہ نتائج نہیں دے رہا ہے تو وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اُس پروگرام کو کا لعدم قرار دے دیتے تھے۔لیکن ہمارے آج کے قائدین ایسا نہیں کر پاتے۔ وہ کمزور ہیں، سیاسی طور غیر محفوظ ہیں، اُنہیں اپنے اوپر اعتماد نہیں، وہ سڑک کی سیاست کے پیروکار ہیں ۔
جب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا، کشمیر کی سیاسی بے اختیاری کا سلسلہ بھی چلتا رہے گا۔ ایک بار جب کشمیری یہ فیصلہ کرلے کہ وہ اپنی تقدیر بدلنا چاہتا ہے ،وہ یہ بھی فیصلہ کرے گا کہ وہ اپنا ووٹ استعمال کرے گا۔ اور ایک بار اُس نے یہ فیصلہ کرلیا، اُسے سیاسی طور با اختیار بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
’’ ہفت روز ہ نوائے جہلم سرینگر‘‘