آئے دن دل دہلانے والے عصمت ریزی کے واقعات ہم صبح و شام اخبارات ، ٹیلی ویژن، وغیرہ جیسے ذرائع ابلاغ کے بدولت سننے اور دیکھنے کے وجہ سے حیران ہوجاتے ہیں ۔آجکل ہندوستان کی دیگر ریاستوں سے شائع ہونے والا شا ید ہی کوئی ایسا اخبار ہوگا کہ جس میں عصمت ریزی کا یہ لفظ تحریر نہ ہوتا ہو ۔زیادہ حیرانی بنی نوع انسان کو تب ہوجاتی ہے کہ جب National Crime Records Bereauکے سال 2016کے انکشافات کا مطالعہ کیا جاتا ہے ۔اس تنظیم کے مطابق 96 فیصد افراد جو عصمت ریزی کے واقعات انجام دے کر عصمت ریزی کے شکار ہوچکی خواتین کے قریبی رشتہ داروں میں سے پائے گئے ہیں۔ایک غیر سرکاری تنظیم Child Rights And Youکی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق’’ہندوستان میں ہر پندرہ منٹ کے بعد ایک بچے کو عصمت ریزی کا شکار بنایا جاتا ہے ۔‘‘
آج تک عصمت ریزی کے متعلق انتہائی حیران کن واقعات میں ارونا شان باغ ممبئی ،آسیہ نیلوفر شوپیان کشمیر ، شکتی ملزممبئی،نر بھیا کیس دہلی، چھ سالہ معصوم آصفہ کٹھوعہ جموں،کے ساتھ پیش آئے عصمت ریزی کے دل دہلانے دینے والے واقعات کو پوری عالم ِ انسانیت فراموش نہیں کر پائی بلکہ یہ واقعات اپنی الم ناکی سے پوری انسانیت کو ہر وقت شرمسار کر رہتی ہے ۔ ان واقعات کے رونما ہونے کے بعد انسان کو زیادہ حیرانی اور شرمساری سے سابقہ اس وقت پڑتا ہے جب یہ سننے میں آتا ہے کہ ان واقعات کی شکار زیادہ طور سے نابالغ بچیاں بنائی جاتی ہیں ۔جیسے سال 2018 میں کٹھوعہ جموں کی چھ سالہ آصفہ کی دلدوز کہانی ہے ۔
اس نوعیت کے واقعات کو نہ صرف عصمت ریزی،غیر اخلاقی اور بدکاری سے تشبیہہ دینی چاہئے بلکہ اس طرح کے واقعات کو ایسے جرائم میں شمار کیا جانا چاہئے جو دنیا کے سب سے بڑے گناہوں میں سے گردانے جاتے ہوں ۔ ایسے واقعات میں شامل افراد اکیلے ملوث نہیں ہوتے بلکہ وہ تمام افراد بھی برابر کے حصہ دار ہوتے ہیں جن سے ایسے درندہ صفت افراد کی پروش سر انجام پاتی ہے۔عہد حاضر میں یہ اصطلاح ہندوستان کی تقریباً سبھی ریاستوں میں طنزیہ طور کہا جاتا ہے کہ’’یہاں (ہندوستان میں )عورتوں کے بالمقابل گائے زیادہ محفوظ ہیں ‘‘۔ ہمارے ملک کے باشندے اخلاقی، کرداری ، انسانی اور تہذیبی اعتبار سے قدر پست ہوچکے ہیں کہ ملک کے باشندوں کے علاوہ یہاں غیر ملکی سیاح بھی عصمت ریزی کے شکار بنائے جا چکے ہیں ۔جیسے سال ۲۰۱۵ میں مغویہ جاپانی خاتون کی بے دردانہ عصمت ریزی، سال ۲۰۱۶ میں اسرائیلی خاتون کی منالی میں عصمت دری کاواقعہ ۔ مزید بر آں سال ۲۰۱۸ میں آئر لینڈ کی خاتون کا جنسی تشدد وغیرہ۔اس طرح کے واقعات رونما ہونے سے کئی سارے ممالک نے اپنے باشندوں کو ہندوستان کے مختلف سیروتفریح کے مقامات پر سیر و تفریح کرنے کی غرض سے آگاہ کیا ہے کہ ہندوستان جانے سے قبل ایک بار ضرور سنجیدگی سے غورفکر کریں ۔
افسوس کہ ریاست جموں و کشمیر بھی ایسے الم ناک واقعات میں پیچھے نہیں ہے ۔ یہاں ابتدا میں ایسے واقعات میں زیادہ تر وردی پوش اہلکار ملوث پائے جاتے تھے جب کہ آج صورت حال اس قدر مختلف ہے کہ یہاں کسی حد تک اب عام لوگ بھی ایسے واقعات میں قصور وار ٹھہرائے جاتے ہیں ۔ایسے غیر اخلاقی اور بدکاری کے واقعات رونما ہونے سے ہمارے اخلاقی تشخص کو بھی شک کی نگاہوں سے دیکھا جانے لگا ہے ۔ایسے واقعات کو عام طور سے چھپانے کی ہر ممکنہ کوشش بروئے کار لائی جاتی ہے ۔حتیٰ کہ اگر کوئی ایسے جرائم کے خلاف صد ائے احتجاج کرتا بھی ہے مگر اس کی آواز گھر کی چار دیواریوں تک محدو د کر دی جاتی ہے ۔ عام طور سے دیکھا جاتا ہے کہ سماج میں لڑکیوں کو مخرب اخلاق تصور کی جاتی ہیں جب کہ سماج میں کسی بھی ذی حس شخص کی نگاہ لڑکوں کے چال و چلن کی طرف نہیں جاتی۔اس طرح کے شرمسار کر نے والے واقعات میں ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہئے ۔ مزید برآں ایسے افراد کے خلاف ہر ریاست میں صدائے احتجاج بلند کی جانی چاہئے تاکہ ایسے مجرموں کو پیغام ملے کہ انسانیت بلا تفریق مذہب وملت ، قومیت وزبان زندہ وپائندہ ہے ۔ ہاں محض مجرموں کوسزا دینے کے بعد بھی ایسے جرائم کا دنیا سے خاتمہ ممکن ہے اور نہ عصمت ریزی کی شکار کسی کم نصیب لڑکی کو انصاف مل سکتاہے ۔کیا ایسے ناقابل برداشت عذاب کا تختہ ٔ مشق بننے والے کسی بچی کے ماتھے پر لگا بد نما داغ مٹ سکتا ہے ؟بالکل نہیں ،کیونکہ ہمارے در میان بہت سارے لوگ ہیں جوسانجھی رام (کٹھوعہ المیہ کا اول مجرم) جیسے درندہ صفت کے حمایتی ہیں یہ دیکھے بغیر کہ ان کی ماں بہن بیٹی ہے ۔ نیز ہم اگر اپنے گریبان میں بھی جھانکیں گے تو پتہ چلے گا کہ ایسے الم ناک واقعات کبھی رونما نہیں ہوتے اگر ـ:
٭ مجرموں کو بغیر کسی پس وپیش کے کڑی سز ادی جاتی۔
٭تما م والدین اپنے بچوں کی چھوٹی سی غلطیوں کو بھی نظر انداز نہ کرتے ۔
٭والدین لگاتار اپنے بچوں کے کردارکی پابندی سے نگرانی کرتے۔
٭ والدین اپنے بچوں کے موبائیل فون کی جانچ پڑتال کرتے رہتے۔
٭ سماج اپنے اخلاقی تشخص کو مد نظر رکھتا۔
اگر انسان اپنے نفس پرقابو پاسکے تو شاید سماج میں کہیں بھی اس نوعیت کے المیے دیکھنے کو نہ ملیں گے۔ان بچوں سے ہم کیا امید کرسکتے ہیں جن کو لڑکپن سے ہی گھروں میں غلط ماحول ملا ہو ۔جو نہ صرف معیوب صفات اور مخرب اخلاق اطواررکھتے ہوں۔ آج کی اندھیر نگری میں بھی دنیا بھر میں ایسے جرائم میں ملوث افراد سے نفرت ہے اور ان لوگوں سے دلی کدورت ہے جو شیطانی صفات اپنے معصوم چہروں کے پس پردہ چھپائے رکھتے ہیں ۔ اگر مجرم عاقل و بالغ ہو کہ عصمت دری جیسے جرائم کا ارتکاب کرے تو پھر قانون کا اتنا کھٹور ہونا بہتر ہے کہ ایسے مجرم کو عدالتی کاروائی کے بعد پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جاسکے ۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ایسے مجرموں کو قانون کی راہ سے بچانے والے کی فہرست ہمیشہ لمبی ہوتی ہے کیونکہ لوگ اپنے ہم مذہب ،ہم وطن، قریبی رشتہ دار و احباب وغیرہ چیزوں کی بنیاد پر مجرم کے دفاع کو شرافت اور انصفاف کا نام دیتے ہیں ۔ یہ شیطانی سوچ سماج میں ایسے جرائم کو بڑھاوا دے کر کبھی نہ ختم ہونے والے شطانی راستے کو ہموار کرتے ہیں ۔ ہماری یہ شعوری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم ایسے لعنتی جرائم کی خاتمے کے لئے ہر وقت پیش پیش رہیں نہ کہ کسی اپنے مجرم کی حمایت کریں کیونکہ جرم کی حمایت جرم کا ارتکاب کر نے کے برابر ہے ۔ تمام خواتین کو عزت و اکرام دینے کے لیے ہمیں اپنی سوچ بدلنے کی اشدضرورت ہے ورنہ وہ دن دور نہیں کہ جب خدانخواستہ ہمارے لخت جگرایسے جرائم کی بھینٹ چڑھ جائیں ۔
ای میل:[email protected]