مقتول محمد مرسی مصر کی تاریخ کے اب تک کے واحد رہنما تھے جو جمہوری طریقے سے صدرمنتخب ہوئے ۔ وہ پیشے کے لحاظ سے مکنیکل انجینئر تھے اور حافظ قرآن بھی تھے ۔ جب کبھی بھی ان کی تقریر کے دوران اذان ہوتی تو وہ اذان کا جواب زور زور سے دیتے۔ چوںکہ مصرمیں حکمرانوں کے لئے عالی شان محلات بنائے گئے ہیں مگرمرسی وہ واحد صدر تھے جس نے ان محلات میں رہنا پسند نہیں کیا بلکہ ایک کرائے کے مختصر گھر میں رہتے تھے ۔محمد مرسی کو lowest paid leaderکہا جاتا ہے کیونکہ ان کے ایک سال کی تنخواہ 10؍ہزار ڈالر تھی اور وہ بھی انہوں نے کبھی نہیں لی۔ اپنے دور اقتدار میں اکثر عوام میں گھل مل رہتے تھے اور اکثر نمازیں عام لوگوں کے ساتھ مساجد میں ادا کرتے تھے۔ ان کی ہدایت پرصدارتی دفتر سے ساری تصویریں ہٹا دی گئی تھیں اور صرف اللہ کا نام فریم میں دیوار پر لگا دیا گیا۔اپنے دور اقتدار میں ایک بار اُن کی بہن شدید بیمار ہو گئی،دوستوں نے اُن سے اصرار کیا کہ ان کو یورپ کے کسی بڑے ہسپتال میں لے جایا جائے تا کہ وہ صحت یاب ہو ں مگر مرسی اس پر رضامند نہ ہوئے اور ایک منتخبہ صدر نے اپنی بیمار بہن کے لئے مقامی سرکاری ہسپتال ہی منتخب کیا جہاں وہ کچھ دن بعد انتقال کر گئیں۔ حالاں کہ اگر محمد مرسی ؒ چاہتے تو بحیثیت صدر ان کے ایک دستخط پر مریضہ کو دوسرے شاہوں، صدور اور وزرائے اعظم کی طرح کسی یورپی شفاخانے میں منتقل کر کے سرکاری خرچے پر بہتر ین علاج ومعالجہ بھی ہو سکتا تھا مگر مرسی کی نگاہ میں خزانہ ٔ عامرہ ان کے لئے ایک قومی ا مانت تھی ۔الغرض اپنی منصبی ذمہ داریاں قرون اولیٰ کے کسی رول ماڈل مسلم حکمران کی طرح احسن طریقے سے نبھاتے ہوئے مرسی نے ہر محاذ پر اسلام ، انسانیت اور جمہوریت کی لاج رکھی ، علی الخصوص کرسی کو اپنی ذاتی میراث نہ سمجھ کرمحمد مرسی ؒ عالم اسلام کے دلوں کی دھڑکن بن گئے ۔
بھلا اس اعلی وارفع کردار کے مالک اور بے باک قائد کو عالم کفراور مسلم ممالک پر مسلط گدی نشین بادشاہ اور وقت کے یزیدوں کے قصیدہ خواں ملا کیسے قبول کرتے؟محمد مرسی کی شہادت کو حقوق کی عالمی تنظیموں سمیت دنیا بھر کے اسلام پسند ایک قتل عمد مانتے ہیں ۔خاص طور سے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ صدر مرسی کی موت ایک سازشی قتل ہے اور میں اس معاملے کو عالمی عدالت میں لے جاؤں گا اوریہ کہ زمانے کا طاغوت بڑی سازشیں رچاکر اسلام پسندوں کا قافیہ حیات تنگ کرنے کی ناکام کوششیں کررہاہے لیکن یہ جانتے نہیں اللہ تعالی سب چالوں کو جانتا ہے (آل عمران:۵۴)۔ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ علامہ اقبال کے الفاظ میں ؎
ستیزہ کار رہاہے ازال سے تاامروز
چراغِ مصطفوی سے شرارِ بولہبی
تاریخ گواہ ہے کہ نمرود نے ابراہیم ؑ پر کیا کیا ستم ڈھائے ، یہود اپنے رسول عیسیٰؑ پر ایمان نہیں لائے، اس کے بجاے اُنہوں نے اُس کے خلاف لمبی چوڑی سازشیں کیں۔ اُنہوں نے عیسیٰؑ پر تہمتیںلگائیں ، اُن کی پاک بازماں مریم ؑ پرسنگین الزام لگائے اور پھر کئی سو برس گزرنے کے بعد ہمارے نبی مہربان ﷺ پر بھی مشرکین ، منافقین اور یہودیوں نے گھناؤنی سازشیں کیں، حضرت امام حسین ؓ پر حق پرستی کی پاداش میں کیا کیا دست درازیاں کیں ۔انبیائے کرام ؑ کی طرح حق پر چلنے والوںپر آج بھی اسی طرح کے ایتاچاروں کا سلسلہ جاری وساری ہے۔ محمد مرسیؒ اور اخوان کے حق پرست کارکنوں پر بھی الزام اوربہتان باندھے گئے، مثلاً محمد مرسی پر اایک الزام یہ لگایا گیا کہ وہ حماس سے ہمدردی رکھتے ہیں، کیا کسی مظلوم سے ہمدردی کرنا جرم ہے ؟ ۔ ان پر ملک کے خلاف جاسوسی کا جھوٹاالزام لگایا گیا، استغفرا للہ ! خاک ان کے منہ میں ،کیا یہ دشمنان ِ حق جانتے نہیں کہ جس تحریک اسلامی سے جڑے سرفروشوں نے دین اسلام کے شمع کو روشن رکھنے کے لیے اپنے دل جلائے ہیں، اپنے گھروں کو جلتے دیکھا ہے ،اپنے بچوں کو قربان ہوتے دیکھا ہے، جس تحریک سے جڑے افراد اپنی اخلاقی برتری سے اسلام کے باغ کو دن رات بہار وخزاں میں سینچتے جارہے ہوں، ایسی مضبوط خدائی تحریک کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لے زمانے کے جمال ناصر ،انوار السادات ، حسنی مبارک یا جنرل السیسی چاہے کتنے ہی مرسیوں کے سر بے ہودہ الزامات ، ناکردہ گنا ہوں اور بے ہودہ جرائم کا بوجھ ڈالیں مگر یہ بات مہر نیم روز کی طرح روشن ہو کر رہے گی کہ وقت کے یزید حق پسند سرفروشوں کو راہِ وفا سے ہٹانہیں سکتے اور صدق وصفا کے پیکر ، صداقت کے مجسمے اور اخلاقیات کے ا مام قتل ہوکر بھی جئیں گے اور کامیاب رہیں گے، بھلے ہی ان کے لئے ہو ا تند وتیز ہو اور امریکہ واسرائیل سمیت تما علام طاغوت ان کی راہ روکیں گے مگر حق کے دشمنوں کے ہاتھ صرف اور صرف ناکامی ہی آئے گی ۔ آج کی تاریخ میںالسیسی گلے سڑے وجود کانام ہے اور محمد مرسی زندگی اور وہ بھی بادی زندگی کا جلی عنوان ہے، مرسی کی حراستی شہادت پر بصیرت کی نگاہ دالئے تو محسوس ہوگا کہ وہ دن دور نہیں جب قابض جنرل السیسی بھی اپنے بُرے انجام کو پہنچے گااور روز آخرت کی عدالت میں اس کو مصر میں مرسی سمیت ہر ایک قتل ناحق کا حساب دینا پڑے گا۔اللہ تعالی محمد مرسی شہید ؒ کی مظلومانہ شہادت کو قبو ل فرما کر اہل مصر کو جنرل السیسی اور اس کے حواریوں کو جلدازجلد فارغ فرمائے ۔ (ختم شد)
رابطہ [email protected]