مودی کی زیر قیادت بی جے پی‘ الیکشن2024ء کی تیاری شروع کرچکی ہے اور کانگریس ابھی تک ا ستعفوں‘ بیان بازی‘ تنقید اور الزام تراشیوں میں مصروف ہے۔ الیکشن 2019ء سے پہلے بھی ایسا ہی ہوا۔ دو الیکشن ہارنے کے باوجود اس سے سبق سیکھا نہیں گیا۔راہول گاندھی نے استعفیٰ دل برداشتہ ہوکر دیا یا بقول ذویا حسن (MINT) بی جے پی کو مخالف نہرو گاندھی پریوار پر حملوں سے روکنے کے لئے حکمت عملی اختیار کی۔ اس سوال کے جواب پر غور تقریباً سیاسی تجزیہ نگار اور پنڈت کررہے ہیں‘ مگر کانگریسی قائدین وقت ضائع کرتے ہوئے بی جے پی کو موقع فراہم کررہے ہیں کہ اس نے ’’کانگریس مکت بھارت‘‘ کا جو نعرہ لگایا‘ جو مہم شروع کی تھی‘ اسے حقیقت کا روپ دے سکے۔ کرناٹک کی صورت حال سامنے ہے۔ کانگریس ہائی کمان‘ راہول گاندھی کے بغیر ’’بغیر سر کے جسم‘‘ کے مانند دکھائی دے رہی ہے۔ الیکشن نتائج کے ساتھ ہی وفاداریوں کی تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا اور بہت سارے ایسے تھے جنہیں نتائج کا اندازہ تھا اور وہ پہلے ہی سے بی جے پی سے مبینہ طور پر معاملت کرچکے تھے۔ مغربی بنگال کی مثال ہے جہاں ترنمول کانگریس کے کچھ ارکان اسمبلی اور کئی کارپوریٹرس بی جے پی میں شامل ہوگئے۔
بی جے پی کی انتخابی منصوبہ بندی‘ حکمت عملی‘ کارکنوں سے ہائی کمان کا راست رابطہ‘ میڈیا کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی صلاحیت کا خود کانگریس نے اعتراف تو کیا مگر اس سے کچھ سیکھنے کی کوشش نہیں کی۔ سینئر قائدین کے یکے بعد دیگر استعفوں کے سلسلہ نے اچھا تاثر نہیں چھوڑا۔ اس کا حال ناخدا کے بغیر کشتی جیسا ہے جو منجدھار کے قریب پہنچ چکی ہے۔راہول گاندھی جب اپنے فیصلہ پر اَٹل ہیں‘ تو ان کے متبادل یا جانشین کی تلاش ابھی تک نہیں کی جاسکتی، اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ پارٹی میں راہول کے جانشین کی کوئی جگہ تھی ہی نہیں۔ پرینکا گاندھی کے عملی سیاست میں داخلہ سے اُمیدیں بندھی تھیں مگر وہ بھی اب موہوم ہوچکی ہیں، کیوں کہ راہول نے باقاعدہ اعلان کردیا ہے کہ ان کا جانشین گاندھی خاندان سے نہیں ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ پرینکا کے شوہر ووڈورا کو جس طرح سے مختلف معاملات میں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور مختلف ایجنسیوں کے چکر لگانے پڑرہے ہیں ، جس طرح مقدمات کا سامنا ہے‘ اسے ٹالنے کی بھی یہ ایک کوشش ہو‘ کیوں کہ اگر پرینکا سرگرم رہتی ہیں تو رابرٹ وڈورا کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
کانگریس کی اس اندرونی کشاکش‘ خلفشار سے بیزار سینئر ترین قائدین نے اب لب کشائی شروع کردی ہے۔ پہلے کرن سنگھ نے اور اب جناردھن دویدی نے کڑی تنقید کرتے ہوئے راہول گاندھی کے متبادل کے انتخاب کی ضرورت پر زور دیا۔ اب دوسرے گوشوں سے بھی آوازیں اُٹھیںگی۔ یوں تو ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ورکنگ پریذڈنٹ بنانے کی تجویز ہے۔ اس پر عمل ہوتا ہے تو پھر وہی پارٹی کارکنوں میں عمر کا فرق اس کی کارکردگی پر اثرانداز ہوگا۔ اس وقت کانگریس کو نئے خون نئے جوش اور ولولے کی ضرورت ہے۔ سچن پائیلٹ کو واقعی پارٹی کا صدر بنادیا جاتا ہے تو اس سے نوجوان نسل میں دلچسپی تو پیدا ہوگی یہ ا ور بات ہے کہ بعض سینئر قائدین جو‘ اب بھی پارٹی کو اندر سے کھوکھلا کرچکے ہیں‘ مزید نقصان پہنچاسکتے ہیں۔
تجزیہ نگار زویا حسن نے لکھا ہے کہ راہول گاندھی نے پارٹی صدارت سے استعفیٰ دے کر بی جے پی کو کمزور کردیا ہے کیوں کہ ابھی تک بی جے پی قیادت کا نگریس کے خاندانی راج پر تنقید کرتی رہی ہے اور وزیراعظم مودی نے ’’کام دار‘‘ اور ’’نام دار‘‘ کی اصطلاح سے فائدہ اٹھاکر اپوزیشن پرکافی تیکھے حملے کئے ہیں۔ راہول گاندھی یا گاندھی خاندان کے اَرکان اگر نہ رہیں تو بی جے پی کو تنقید کا موقع نہیں ملے گا۔ اس کے علاوہ راہول گاندھی چاہتے ہیں کہ کانگریس گاندھی خاندان کے بغیر بھی اپنے پیروں پر آپ کھڑا ہونا سیکھ لے۔ چوں کہ ہر دور میں کانگریس کی بالائی سطح پرگاندھی خاندان غالب رہا‘ اس لئے کسی نے یہ بھی نہیں سوچا ہوگا کہ ناگزیر حالات میں راہول کی جگہ کون لے گا۔ بعض سینئر قائدین ضرور ہیں مگر انہیں پارٹی سے کتنی ’’ہمدردی اور دلچسپی‘‘ ہے، اس کا اندازہ حالیہ انتخابات کے دوران ہوچکا ہے۔ کانگریس کی مکمل ’’اوور ہالنگ‘‘ کب سے ناگزیر ہوچکی ہے۔ اس نے اپنے سیکولر کردارکو آہستہ آہستہ زعفرانی رنگ میں رنگ لیا ہے‘ کیوں کہ اسے مستقبل کی فکر ہے۔۔۔ ہندوستان کا مستقبل۔۔۔ جو آہستہ آہستہ ہندوتوا نظریہ کو اختیار کررہا ہے۔ اسے نئی نسل کے ان ووٹرس کی فکر ہے‘ جن کے ذہنوں کو سنگھ پریوار نے اس قدغلبہ پالیا ہے کہ وہ سیکولرازم سے نفرت کرتی ہے اور یہ چاہتی ہے کہ دوسرے ابنائے وطن بھی اس کے رنگ میں ڈھل جائیں۔
وزیراعظم نریندر مودی کی سخت گیرانہ قیادت‘ امیت شاہ کی سیاسی حکمت عملی‘ مستقبل کی منصوبہ بندی نے بی جے پو کو اس قدر مستحکم بنادیا ہے کہ اب یہ کہنے میں جھجھک نہیں ہوتی کہ اگلے الیکشن تک اس کی جڑیں اس قدر گہری ہوجائیںگی کہ اپوزیشن ابھی نہ سنبھلے تو اس کا وجود بے معنی ہوکر رہ جائے گا۔بی جے پی حکومت نے الیکشن 2024کی تیاریوں کا آغاز بجٹ 2019ء کی پیش کر نے کے ساتھ ہی کردیا ہے۔ وزیرخزانہ نرملا سیتارمن نے اپنے بجٹ میں ایک ایسا خواب دکھایا جس کی تعبیر مشکل ضرور ناممکن نظر نہیں آتی۔ وزیر اعظم مودی نے 2024ء تک ہندوستان کی معیشت کو پانچ کھرب ڈالرس تک پہنچادینے کے عزائم کا اظہار کیا۔پربھو چائولا نے انڈین ایکسپریس (10؍جولائی2019) میں اپنے ایک مضمون میں مودی کے ویژن 2024 پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ 2014ء میں ہندوستان کی معیشت 1.85 کھرب ڈالرز تھی‘ 2019ء میں یہ 2.7کھرب ڈالرس تک پہنچ گئی۔ اب 5 کھرب ڈالرز کی معیشت کا عزم یعنی 250فیصد اضافہ کا مطلب ہندوستانی عوام کو یہ دکھاناہے کہ کانگریس نے 60سال میں جو کام نہیں کیا تھا‘ وہ بی جے پی حکومت اگلے پانچ برس میں کرے گی۔ اس کے علاوہ معیشت کے اعتبار سے ہندوستان 1980ء میں 13؍ویں مقام پر تھا، اب اس بات کا یقین دلایا جارہا ہے کہ بہت جلد وہ پانچویں مقام تک پہنچ جائے گا۔ مسٹر مودی نے پانچ کھرب ڈالرز معیشت کے نشانے کو چھونے کے لئے پارٹی حکومت کے تمام محکموں کو بھی ذمہ داری قبول کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس ہدف کی تکمیل کے لئے پورے ہندوستان کی تعمیر نو کی ضرورت ہوگی، دیہی ہندوستان میں ایک لاکھ 25ہزار کلو میٹر سڑکوں کی تعمیر‘ شہریوں کو عصری سانچوں میں ڈھالنے، ریلویز، ائرویز اور آبی رہ گزروںکی تعمیر‘ 357انفرا پراجکٹس کی تکمیل کی جائے گی۔ ماحولیات پر توجہ دی جائے گی۔ تمام شہروں میں شہریوں کے لئے تازہ اور آلودگی سے پاک آب و ہوا‘ آئل امپورٹ میں خودکفالت پر توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ ایسے بہت سے پروگرام اور پروجیکٹ ہیں جس کی میڈیا کے ذریعہ منظم انداز میں پیش کر نے سے بی جے پی کے لئے تیسری بار اقتدار کی راہیں ہموار ہوسکتی ہیں۔ بی جے پی اپنے آپ کو مضبوط کرتے ہوئے ایک نئے ہندوستان کی تعمیر کا خواب دکھارہی ہے اورکانگریس اپنے صدر کی تلاش اور آپسی رنجشوں میں مصروف ہے۔ اس کا اثر ہر ریاست میں ہورہا ہے اور الیکشن 2019ء میں بھی کانگریس کی ہار کی وجہ اس کی اپنی سینئر قیادت کی حد سے زیادہ خود اعتمادی‘ گھمنڈ، اَنا پرستی اور پارٹی اور ملک کے مقابلے میں ذاتی مفادات کو ترجیح بنی رہی۔ دہلی میں اگر کانگریس کو شکست ہوئی تو اس کے لئے کون ذمہ دار ہے؟ یہ دہلی والے بھی جانتے ہیں اور کانگریس والے بھی۔ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کا صفایا کرنے والی کانگریس پانچوں ریاستوں میں کیوں ہار گئی؟ اس کا جواب ان ریاستوں کے کانگریس کی قیادت دے سکتی ہے، جس نے اپنے اپنے ارکان خاندان میں ٹکٹ بٹوانے اور ان کی کامیابی کے لئے اپنے وسائل اور توانائیوں کو صرف کیا۔
راہول گاندھی اپنے پارٹی قائدین کی بے حسی کے آگے بے بس نظر آئے اور انہوں نے پارٹی صدارت چھوڑنے کا ایک اچھا فیصلہ کیا ہے جس پر انہیں قائم رہنے کی ضرورت ہے۔ پارٹی کی قیادت چاہے کسی کے پاس بھی رہے لیکن اس پر کنٹرول تو بلاشبہ راہول اورسونیا گا ندھی کے پاس ہی رہے گا‘ یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے۔بہرحال اس سے پہلے کہ سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے کانگریس کو وقت ضائع کئے بغیر قطعی فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ کرناٹک ہاتھ سے نکل جائے تو دوسری ریاستیں بھی ہاتھ سے نکل جائیںگی اور پھر’’ کانگریس مکت بھارت ‘‘کا نعرہ حقیقت کاروپ دھارن کر جائے گا۔ ویسے بھی اب ملک تقریباً کانگریس مکت بھارت ہوچکا ہے۔
رابطہ: ایڈیٹر ’’گواہ اردو ویکلی‘‘ حیدرآباد۔ فون:9395381226
����