دنیا کے سبھی مذاہب انسان کو ایک اعمال کی بنیاد پر ایک سنہرے کل کا یقین دلاتے ہیں۔ سبھی مذہبی افکار پر قائم ہیں کہ انسان اپنی زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد سہولت اور اسانی بھی دیکھتا ہے۔ اسلام نے اس فکر کو نہایت شفاف اور منطقی انداز میں پیش کیا ہے۔ہمارے یہاں کہتے ہیں ناامیدی کفر ہے۔ کْفر عربی لفظ ہے، جسکے معنی ہیں چھپانا۔ قران میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :’’ ہر سختی کے ساتھ سہولت ہے‘‘۔ گویا سادہ الفاظ میں خدائے باری تعالیٰ نے بتادیا ہے کہ یہ دنیا خوشی اور غمی ، فراوانی اور قلت، مصائب اور فراغت جیسے اضداد پر مشتمل ہے۔ جب خدائے پاک ہی اس بات کا اعلان کررہا ہو کہ دنیا میں کوئی بھی مشکل دیر پا نہیں اور اس کے بعد آسانی آئے گی تو ایک مسلمان کیلئے یہ فریضہ ایمان ہے کہ وہ اس بات کو نہ خود سے چھپائے نہ لوگوں سے، یعنی اس بات پر یقین کرکے مشکل گھڑی کا حوصلے کے ساتھ مقابلہ کرے۔ اسی لئے ناامیدی کفر ہے، یعنی اگر ہم ناامید ہیں تو گویا ہم فطرت کے ایک عیاں پہلو کو چھپا رہے ہیں۔ اللہ کفرانِ نعمت سے ہمیں نجات دے۔
موجودہ حالات میں ہرطرف کورونا کورونا ہورہا ہے۔ ظاہر ہے دنیا کے بہترین دماغ اس کام میں جھٹ گئے ہیں کہ اس مہلک وائرس کا تریاق دریافت کیا جائے، لیکن پوری دنیا میں وبائی حملے نے جو تباہی مچادی ہے، انسانی معاشرے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے طرح طرح کے اقدامات کررہے ہیں۔ حکومتیں سوشل ڈِسٹنسنگ کو نافذ کرنے کے لئے مختلف قوانین لاگو کرتی ہیں، رضاکار محتاجوں کی مدد کررہے ہیں اور انسانی معاشرے کی غالب اکثریت جسمانی اور نفسیاتی صحت کو صحیح سالِم رکھنے کی تگ و دو میں لگی ہے۔ اس کے لئے لوگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے رابطوں کو بحال کررہے ہیں۔
جب سے کورونا وائرس نے دنیا کو کھلے آسمان تلے ایک وسیع قید خانے میں تبدیل کردیا ہے، دنیا کے تین بڑے مذاہب کے پیروکار شش وپنج میں ہیں۔ عیسائیوں نے گْڈ فرائی ڈے وٹس اپ اور فیس بْک پر منایا، یہودیوں نے بہار سے منسوب خصوصی تہوار صیدر کے موقع پر دوستوں اور رشتہ داروں کو زوم کے ذریعہ مبارکباد دی اور مسلمانوں نے رمضان المبارک کے دوران تراویح اور اجتماعی افطار جیسے تہذیبی وطیرے سے اجتناب کیا۔
اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے والے لوگ ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اللہ کی مخلوق کی مدد کے لئے پیش پیش ہوتے ہیں۔ لیکن ایک طبقہ ہر معاشرے میں ایسا ہوتا ہے جو مشکل کی گھڑی میں یاس و قنوطیت میں مبتلا ہوجاتا ہے اور دوسروں کی بھی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ ہمارے روزمرہ لہجے بھی کم ہمتی اور کمزوری کا اشتہار ہوجاتے ہیں۔ لوگ اکثر بولتے ہیں کہ سب ختم ہوگیا ، اب کچھ نہیں ہوسکتا ، قحط برپا ہوگا، لوگ روٹی کے ٹکڑے کے لئے غارت گری کریں گے وغیرہ وغیرہ۔
دْنیا میں زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ جو ہمارے پیغمبرِ اسلامؐ نے ہمیں سکھایا ہے۔ یعنی ہم کسی بھی صورتحال میں کفرانِ نعمت نہ کریں، مطلب ناامید نہ ہوجائے کیونکہ ناامیدی کفر ہے، انکار ہے اس فطری حقیقت کا کہ بْرے دنوں کے بعد اچھے دن یقینا آتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے :
زندگی زندہ دلی کا نام ہے، مردہ کیا خاک جیا کرتے ہیں۔
دل مردہ کیسے ہوجاتا ہے؟ دل دراصل ناامیدی سے مْردہ ہوجاتا ہے۔ انکار دل کو مار دیتا ہے۔ خوشی اور آسانی کے امکان کا انکار، خدائی سکیم کا انکار اور قرآن کے اس فرمان کا انکار کہ : اَنَ معَ العْسرِ یسراً۔
دل زندہ کیسے ہوجاتا ہے ،دراصل امید کے چراغ جلا کر زندہ ہوجاتا ہے۔ حسین مستقبل کی امید، سختی کے بعد سہولت کی امید، قہر کے بعد رحم کی امید، وبا کے بعد صحت کی امید، غربت کے بعد ثروت کی امید۔
انسان اکثر بے تاب ہوجاتا ہے، وہ فطرت کی حقیقتوں کو سمجھتا تو خوب ہے، لیکن وہ فوری نتائج کا متمنی ہوتا ہے۔ اسی لئے اکثر لوگ ناامید ہوجاتے ہیں۔ جب کوئی اس بات کو مان کر چلے کہ سب کچھ ختم ہوگیا اور اب کچھ نہیں ہوسکتا تو وہ لاک ڈائون کے دوران ٹھنڈی سانسیں بھرنے کے علاوہ کچھ نہ کرپائے گا۔ امید انسان کو جیل کے اندر بھی باغبانی کرواتی ہے، کجا کہ انسان گھر کی محبتوں والی فضا میں ہو۔ ایمان محض چند ٹوٹکوں کو یاد کرنے کا ہی نام نہیں۔ خدائی سکیم پر ایمان لانا ہی ایمان کے فوائد سے ہمکنار کرسکتا ہے۔ وبا برپا ہوچکی ہے، دیر یا سویر اس کا تریاق یعنی ویکسین بھی دریافت ہوگا، لوگ صحت یاب بھی ہونگے، معیشت پھر مستحکم ہوگی، تعلیم و تجارت پھربحال ہوجائیں گے۔ لیکن اُس وقت کے انتظار میں پچھتاوے کی صورت بنانا ٹھیک نہیں۔ جب خدائی سکیم پر ایمان مستحکم ہوجائے تو دل زندہ ہوجائے گا، اور پھر ہم موجودہ لاک ڈائون کی صورتحال میں ہشاش بشاش، خوش و خرم اور توانا نظر آئیں گے۔
(کالم نویس سماجی رضاکار ہیں۔ رابطہ: 9469679449)