واہ وہ رات جب حرا کے غار سے مقدس نور کی برسات کا آغاز ہوا۔آمنہ کا لال صبح یہ نسنحہ کیمیا لے کر سوئے قوم آیا تو اس روز باد صبا کے جھونکوں میں رچی بسی خوشبو نے ظلمت کدہ دھر کے ہر گوشہ کو مہکا دیا۔آہستہ آہستہ کتاب مبین کا نزول ہوتا رہا۔سلیم الفطر ت لوگ قرآن کی آغوش رحمت میں آتے ہوئے اس کے پیام نور و نگہت کو عام کرنے کے کام میں جٹ گئے،اس پاداش میں جان کے لال پڑے لیکن سودا ایسی عشق و مستی کا کیا تھاکہ سوئے دار بھی چلے تو نغمہ توحید سے قلزم ہستی میں عجب طلا طم پیدا کیا، مادہ و عیش و نشاط کے دلدادوں کی جبینوں پر بل پڑگئے ،صدیوں پر محیط جن کی چودھر اہٹ قائم تھی ،اُنہیں زمین کھسکتی نظر آئی۔حسب و نسب کے خول میں رہنے والے متکبروں کی نیندیں اُڑ گئی،غربت و پسماندگی کا استحصال کرنے والے عناصر قرآن کا پیام مساوات دیکھ کر سیخ پاہو گئے۔کعبتہ اللہ کی آمد نی سے پیٹ کی آگ بجھانے اور اعلیٰ منصوبوں پر فائز لوگوں کو سانپ لوٹنے لگے۔ایک جاہوئے اور حق کی اس مشعل نور کو بجھانے کا ہر وہ سامان کیا جو اُن کے بس میں تھا،حق کے عظیم تر علمبردار اور صاحب قرآن ؐ کے خلاف زبان درازیوں اور الزامات کا لا متناہی سلسلہ شروع ہوا۔پھبتیوں میں جان تھی نہیں منہ کی کھا کے رہ گئے لیکن حملوں کی شدت و حدت میں بتدریج ا ضافہ نے جہاں ان مْٹھی بھر اہل حق کی زندگی اجیرن بنادی وہاں قرآن نے ان صحابہ کرام کی پیٹھ تھپاتے ہوئے اس راہ کی صعوبتوں سے پیشگی آگاہ فرما کر انہیں کوہ استقامت بنا کے رکھدیا۔حضرت صاحبؐ قراان کی مقدس ذات تو نشانے پر تھی ہی،قرآن مقدس کے حوالہ سے بھی اُنہوں نے شکوک و شبہات کی فضا پیدا کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں اُٹھائی ،کبھی اِسے خود گڑھا ہوا قرار دیا تو کبھی کہا کہ کوئی جن یہ باتیں سْنا کر چلا جاتا ہے لیکن قرآن کی اثر آفرینی اور استد لال کی قوت ہی تھی کہ الزامات کا کاغذی محل بکھر کر تنکے تنکے ہوجاتا۔وہ خود اہل زبان تھے ،فصا حت و بلاغت تو شیر مادر کے ساتھ ہی اُن کی غذا بن جاتی تھی ،یہاں تک کہدیا۔لو نشا ء لقلنا مثل ھذا۔ہم چاہیں تو ایسا کلام ترتیب دے سکتے ہیں تو پھر قرآن نے سورہ بنی اسرائیل کی 88ویں آیت میں یو ں چلینج دیا۔’’کہ اگر سبھی جن وانس اس قرآن کی مثل لانے کے لئے جمع ہوں۔نہیں لاسکتے۔اگر چہ یہ ایک دوسرے کے معاون بھی بنیں۔پھر ایکدم سورہ ہود کی21 ویں آیت میں قرآن جیسی دس سورتیں لانے کو کہا گیا،پھر اُن کے دعوی کہ قلعی سورہ بقرہ کی32 ویں آیت میں یہ کہہ کر کھول دی کہ قرآن جیسی ایک ہی سورت یعنی اس جیسا ایک محدو دٹکڑا ہی تو لے آو۔چیلنج کی سختی کا اندازہ بھی لگا ئیے کہ بے بس ہوگئے،زچ ہوکے رہ گئے ایسا تو نہیں کہ کا دشیں نہیں ہوئیں،ہوئیں لیکن بے سود،بلکہ کرنے والے خود اپنی قوم میں مذاق کا شکار بنے۔عرب ناکام ہوئے تو عجم کے عربی ادیبوں کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ہر سونا کامی کا سامنا کرتے ہوئے اب بس ہٹ اور ضد کو ہی دین و دھرم بنا بیٹھے۔دلیل کے سامنے بے بس تو اب مارو گھٹنا پھوٹے آنکھ کے مصداق ادھر اْدھر کی ہانکنے لگے اور اِدھر قرآن کی اثر آفرینی سے مکہ کے بڑے بڑے جگر گوشے اسلام کے خیمہ میںداخل ہونے لگے اور عجب بات یہ کہ خود کفروطاغوت کا سب سے بڑا سرغنہ ابو جہل اپنے کئی ساتھیوں سمیت حجرہ نبویؐکے باہر زبان و حی ؐ ترجمان سے تلاوت کلام مجید سنتے اور مسحور ہوتے پکڑ لیا گیا لیکن انا اور ہٹ غالب تھی ،دل کی زمین بنجر تھی،دولت و سرمایہ کو معبود بنالیا تھا اس لئے کوئی حق کا بیج اس سخت دل کی زمین میں پنپ نہیں سکا۔اس طرح ظلمت شب کا یہ پاسبان پھر مرا تو عبرت انگیز موت مرا،بہر حال بات شب نزول قرآن کی ہورہی تھی تو اصل میں اس کتاب کے ماننے جاننے اور اس کی تعلیمات دل میںاتارنے اور پھر اس روشنی میں اپنی زندگی منوار نے والوں کی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ اس سے استفادہ تو صرف متقین ہی کریں گے۔(بقرہ)،آخر یہ متقین ہیں کو ن؟۔کتاب ہدایت تو نازل ساری دنیا کے لئے ہوئی لیکن عملاًاِس سے مستفید وہی ہوں گے جن کے اندر حق کی طلب و تلاش اور ضمیر زندہ ہوں۔دِل تالہ بند نہ ہوں اور آنکھوں پر عصبیت کی عینک نہ لگی ہو۔مفسرین و مفکرین پر اللہ کی رحمتوں کا بے شمار نزول ہو ،کس انداز میں سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ آفتاب اپنی جگہ عالم تاب سہی لیکن جن کی بصارت ہی ضائع ہوچکی ہو ان کے لئے تیز سے تیز تر شعاعیں بھی بے کار ہیں۔زمین اگر مردہ ہے تو اس کے حق میں بڑی سے بڑی بارش بھی بے اثر ہے،غذا بہتر سے بہتر ہے ہیضہ کے مریض کے لئے بے اثر بلکہ صفر ہے۔چمن میں بلبل لاکھ چہلے لیکن بہرہ کیا خاک اس چہچہاہٹ سے لطف اندوز ہو پائے گا؟اس طرح قرآن کا نور بصیرت سر چشمہ ہدایت ،ذکر شفاء ہونا درست لیکن اگر ایک شخص نے وہ صلاحیت ہی جو اِس نور ہدایت سے فائدہ اُٹھا نے کے لئے درکار ہے کھو دی ہو تو قرآن کیا کرے گا؟ ’’اس میں تو خدا سے ڈرنے والوں کے لئے درس عبرت ہے(النازعات)‘‘قرآن تو ہے ہی ایسی کتاب کہ اوباش اور بے فکر ے لوگ اس کی جانب متوجہ نہیں ہوتے۔اس کی جانب نیکی اور شرافت کا جو ہر اپنے اندر موجود رکھنے و الے ہی مائل ہوتے ہیں اور تاریخ بھی یہی کہتی ہے کہ قرآن نے عربوں میں سے اُن کو اپیل کی جو سنجیدہ اور معقول قسم کے لوگ تھے اور اہل کتاب میں سے اُن کو جو متقی اور خدا ترس تھے۔یاد رکھئے کہ خدا کی سب سے بڑی نعمت عقل ہے اور اس سے بڑی نعمت قرآن۔اس لئے کہ عقل اپنی حدو د میں مقید ہے اور قرآن سے ہی اس کو رہنمائی ملتی ہے،یہ نہ ہو تو عقل سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور بینیں لگا کر بھٹکتی ہی رہے گی۔غرض قرآن ایک بے بدل و بے مثال کتاب اور لاجواب معجزہ ہے۔جس کا اعتراف بر ملا عرب کے عظیم ترین شعراء و ادبأنے کیا اور اسلام کے دامن رحمت میں آئے بغیر اْنہیں کوئی چارہ کا ر نظر نہیں آیا۔وہ طفیل دوسی، عربی زبان و علوم اور شاعری و نثر پر جس کا ملکہ اور دبد بہ تسلیم کیا جاتا تھا،قرآن کی فصاحت و بلا غت کے سامنے سرتسلیم خم کئے بغیر نہ رہ سکا۔دنیا کے بے شمار مستشرقین و غیر مسلم مفکرین کے اس حوالہ سے تاثرات جمع کریں تو ایک کتاب بن جائے گی۔شائد ڈاکٹر سیل کا یہ تاثر اُن سب کی ترجمانی کر سکے۔’’قرآن انتہائی پاکیزہ و لطیف زبان میں ہے اس کتاب سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی انسان اس کی مثل نہیں لاسکتا۔یہ لازوال معجزہ ہے جو مردہ کو زندہ کرنے سے بہتر ہے۔‘‘۔یا علامہ اقبال کی زبان میں یوں کہیے کہ
فاش گو یم آنکہ دردِل مضمراست
ایں کتابے نیست چیزے دیگر است
ہاں۔عرض کرچکا کہ اس مقدس کتاب کا نزول رمضان المبارک میں ہوا اور رمضان کی ساری برکات اور حمتیں محض اسی وجہ سے ہیں۔بہر حال یہ مقدس ماہ اب رخت سفر باندھ رہا ہے۔ہم مخصوص اوقات میں اکل و شرب سے دور رہے،اور کیا اصل مقصد نفس کے سرکش گھوڑے کو لگام دے کر اپنے کو مکمل طور خدائی احکام کی تعمیل میں دینے کے کام میں ہم کامیاب ہوئے۔رمضان کی رخصتی کے ساتھ اس بات کو جانچنا ضروری ہے۔رمضان کے ان ایام پرانوار میں بالخصوص حضرت خدیجتہ الکبریؓ،حضرت فاطمتہ الزھرا ؓ،حضرت عائشہ صدیقہ ؓکے حوالہ سے خطابات سے محظوظ ہوئے لیکن کیا ان عظیم خواتین کے جذبہ ایثارو انفاق دین کے حوالہ سے اُن کی قربانیوں،اُن کی زھد و ورع اور اپنے شوہر ان عظیم کی اطاعت کے واقعات سے ہم نے کوئی سبق حاصل کیا ہے۔یہ دیکھنا باقی ہے۔ہم نے بہ چشم نم معر کہ بدر اور فتح مکہ کے مواقع پر ہونے والے واقعات کا تذ کرہ سْنا بھی اور کیا بھی لیکن کیا اظہار حق،ثبات قدمی اور ان مواقع پر اپنے دشمنوں کو بھی زیر کرنے کے بعد بھی معاف کرنے کے عمل نے ہمارے اندرون میں کوئی انقلابی تبدیلی رونما کی ،یہ بھی ایک چبھتا ہوا سوال ہے۔ہم اس ماہ مقدس میں روئے بھی گڑ گڑائے بھی اور ستائیسویں شب ہم پھر نالہ و فریاد لے کر خدائے قدوس کی بارگا ہ میں آکر خوب روئیں گے،کیا دِل کی آنکھ بھی روئی یا روئے گی۔ بہر حال ماہِ رحمت رخصت ہورہا ہے اور کئی دنوں کے بعد ہی ہلال عید ہمارے اکل و شرب پر لگائی گی قدغنوں کے خاتمہ کا اعلان کرنے اُفق پر جلوہ گر ہونے والا ہے۔اب دیکھنا ہے کہ رمضانی پیغام کی کتنی چھاپ سارے سال ہماری زندگیوں پر نظر آئے گی؟۔
پس تحریر
ہاں اس رات جب ہر رمضان رحمتوں کی رِم جھم برسات برستی ہے ،کی تلاش ماہِ صیام و قیام کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہوتی ہے ،اور عرب و عجم میں اس تعلق سے مساجد و معابد میں ایسی روح پرور مجالس کا انعقاد ہوا کرتا تھا کہ قلوب سکون و اذہان راحت محسوس کرتے تھے ،آقا کے دربار میں غلام راتوں کو گِڑگِڑ اتے تھے ،کردہ گناہوں کی معافی طلب کرتے تھے ،اایندہ زندگی بدلنے کا عہد کرتے تھے مگر اب کے تو کرونا ئی حملوں نے مساجد کے دروازے بھی اُمت کے لئے بند کرکے رکھدئے ہیںاور ان مقدس راتوں کی تلاش گھروں میں ہی اہلِ خانہ کے ساتھ ہورہی ہے۔شَر سے خیر کا یہ پہلو نکل آیا کہ اب ہمارے سارے گھر مساجد بن چکے ہیں اور لمحہ بہ لمحہ تلاوت و اذکار مسنونہ کی صدائیں یہاں سنائی دے رہی ہیں۔ہر گھر سے اب ایک امام بھی نکل رہا ہے یا امامت کی تربیت پارہا ہے۔دینی کتب کا مطالعہ ہر گھر میںہو رہا ہے ،قرآن کی گہرائیوں میں جایا جارہا ہے یعنی ہم ان حالات سے بھی مستفید ہونے کا ہنر جان گئے ہیں۔اس لئے آیئے ان مقدس راتوں میں اللہ سے بہ صمیم قلب اس وبا کے خاتمہ کی دعائیں بہ چشم نم کریں۔اللہ سے دنیا مانگنا کوئی معیوب بات نہیں اور نہ دنیا کو مشروع ذرائع سے طلب کرنے کے ہم منکر ہیں بلکہ بقول ایک عظیم اسلامی مفکر کے کہ ہم اس بات کے منکر ہیں کہ دنیا اس قدر آدمی کی فکروں کا محور بنے کہ وہ شب ِ قدر کی تمنا بھی اس لئے کرے کہ میںاپنی دنیا سنواروں اور آخرت سے غافل ہوجائوں ،اس لئے اس رات میںبہتر دنیا کی کچھ طلب ضرور ہو لیکن اچھی آخرت کی طلب ان راتوں میں ہماری ترجیح ہو ،اللہ کرے مصائب و شداید کے بادل چھٹ جائیں اور دنیا اپنے مالک کو پہچان کر بس اُسی کی ہوکے رہ جائے۔آمین
رابطہ۔9419080306